پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ صدر زرداری
کے خلاف سینکڑوں ریفرنس دائر ہونے کے باوجود ، جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اس
قدر شور شرابے کے باوجود گذشتہ سال میں صرف ایک کیس عدالت میں دائر کیا گیا
اور وہ بھی درست طور پر نہیں چلایا جا رہا۔ حکومت اور نیب کے پاس کوئی ثبوت
نہیں اور صدر زرداری اور پارٹی کی دیگر لیڈرشپ کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا
ہے۔ یہ بات انہوں نے نیب کورٹ کے باہر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہی۔ وہ
نیب کورٹ میں صدر زرداری اور مس فریال تالپور کے خلاف مقدمے کی سماعت کے
بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے اور اس موقع پر پارٹی کے متعدد لیڈر بھی ان کے
ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کو جھوٹے الزامات میں گرفتار کرکے ان
پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے لیکن صدر زرداری پہلے بھی جھوٹے الزامات کے تحت
ساڑھے گیارہ سال جیل میں رہ چکے ہیں اور ان پر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا
ہے اور اب بھی وہ ہر قسم کا دباﺅ اور ظلم برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا
کہ صدر زرداری اپنے نظریے اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور
پارٹی اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی وہ چاہے جتنا بھی دباﺅ ڈال لیں اور
جتنے بھی ورکرز کو گرفتار کر لیں پارٹی 1973 کے آئین اور اٹھارہویں ترمیم
پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ اور سلیکٹرز اس بات
پر پریشان ہیں کہ پی پی پی اٹھارہویں ترمیم رول بیک کرنے کی راہ میں اور
صوبہ سندھ کے حقوق سے دستبردار ہونے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ
ہر ایک نے دیکھ لیا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور عمران خان عوام کی نظروں
میں بے نقاب ہو چکے ہیں۔ وہ شخص جو انصاف اور قانون کی حکمرانی کی بات کرتا
تھا اس نے نہ صرف یہ کہ اپنے سیاسی مخالفین کو گرفتار کر رکھا ہے بلکہ ان
کی خواتین کو بھی جیلوں میں ڈال رکھا ہے۔ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ ایک
کروڑ نوکریاں دے گا جبکہ اس نے گزشتہ ایک سال میں لاکھوں نوجوانوں کو
بیروزگار کر دیا ہے۔ عمران خان نے 50لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن
لاکھوں گھر گرا دئیے ہیں۔ یہ حکومت جھوٹی اور منافق ہے جس نے عوام کے
جمہوریت اور معاشی حقوق غصب کر لئے ہیں۔ اس حکومت نے پارلیمان کو ناکارہ
بنا دیا ہے اور عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں اور انہیں ٹیکسوں
کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔ پاکستان کی تاجر برادری بھی پریشان ہے اور
اس نے کل ہی آرمی چیف سے ملاقات کی ہے اور انہیں اپنی دشواریوں سے آگاہ کیا
ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل ایک بہت خراب مثال قائم کی گئی ہے اور اب ہر کوئی
وزیراعظم کی بجائے آرمی چیف کے پاس اپنے مسائل لے کر جائے گا۔ انہوں نے کہا
کہ ملک کے ہر ادارے کا کردار متعین ہے اور فوج اورانٹیلی جنس اداروں کی ایک
ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے خلاف سازشوں سے نمٹیں۔ اب اگر عمران خان کہتا ہے
کہ انتخابات، معیشت اور فارن پالیسی بھی وہ بنائے تو ہماری فوج اور
ایجنسیاں کس طرح ہماری سرحدوں کا تحفظ کر سکیں گی اور دہشتگردی سے نمٹ سکیں
گی کیونکہ یہی وہ ضروری کام ہیں جو فوج اور ایجنسیوں کو کرنے ہیں۔ اس لئے
یہ بات ضروری ہے کہ ملک کا ہر ادارہ اپنی حدود میں رہے اور اپنا وہ کام کرے
جو اسے سونپا گیا ہے۔ یہ نہایت بدقسمتی کی بات ہے کہ عمران خان نے پارلیمان
کی حیثیت ختم کر دی ہے اور پارلیمان کو کام کرنے سے روکا جا رہا ہے اور
پارلیمان میں عوام کے مسئلے نہ سنے جا رہے ہیں اور نہ حل ہو رہے ہیں۔
اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر نہیں نکالے جا رہے اور سیاسی پارٹیوں کو
مجبور کیا جا رہا ہے کہ عوام کے حقوق کے لئے سڑکوں پر آئیں۔ انہوں نے کہا
کہ یہی بات انہوں نے کل مولانا فضل الرحمن سے کی اور سیاسی پارٹیوں کا یہ
موقف ہے کہ یہ حکومت دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار آئی ہے
اور اسے گھر جانا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے آزادی مارچ اور اسلام
آباد میں دھرنے کی تاریخ 27اکتوبر طے کر دی ہے اس لئے ہم نے اپنی پارٹی کا
اجلاس بھی بلا لیا ہے تاکہ ہم اس بات پر غوروخوض کریں کہ ہم مولانا صاحب کی
کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنی جدوجہد شروع
کر دی ہے اور اس ماہ کے آخر میں شکارپور میں جلسے کے بعد ہم جنوبی پنجاب
میں داخل ہوں گے اور جب پارٹی عوام کے حقوق کے لئے میدان میں ہوگی تو کوئی
بھی طاقت اسے نہیں روک سکے گی۔ پارٹی نے ہمیشہ کسانوں ، مزدوروں اور عام
عوام کے حقوق کے لئے جنگ کی ہے۔ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ان کی پارٹی مولانا فضل الرحمن کی جمہوری حقوق
کے لئے جدوجہد کی حمایت کرے گی اور پاکستان پیپلزپارٹی دھرنے کے سوال پر
غور کرے گی۔ موجودہ حکومت پارلیمان کو ایک چابی والے اسپیکر کے ذریعے چلا
رہی ہے جہاں نہ تو عوام مسائل پر بحث ہوتی اور نہ ہی عوامی نمائندوں کے
پروڈکشن آرڈر جاری کئے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے پانچ بل
پارلیمان میں موجود ہیں اس لئے اب یہ ممکن ہے کہ پارٹی سڑکوں پر آئے اور
انتہائی اقدامات لینے پر مجبور ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہر شہری کا حق
ہے کہ اس پر اسی جگہ مقدمہ چلایا جائے جہاں مبینہ طور پر کوئی جرم سرزد ہوا
ہے لیکن دنیا میں کہیں کوئی مثال نہیں ملتی جیسے پیپلزپارٹی کی قیادت کے
ساتھ کیا جا رہا ہے اور پیپلزپارٹی کی لیڈرشپ کے مقدمات کو راولپنڈی منتقل
کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ پہلا جج صدر زرداری کے مقدمے میں وہی شخص
تھا جو پی ایم ایل(ن) کے ویڈیو جج تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا
کہ آئی ایس آئی کو نہیں چاہیے تھا کہ وہ ہمارے مقدمات میں شامل ہوتی اور
انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ بات ہر فورم پر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخر
راولپنڈی میں کیا خاص بات ہے کہ جہاں شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی
گئی اسی شہر میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا اور اسی شہر میں
صدر زرداری اور محترمہ فریال تالپور کے خلاف مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ ایک
سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کسی بھی غیرجمہوری قوت کی حمایت
نہیں کرے گی۔ یہ حکومت دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں آئی ہے، اس نے
دھاندلی سے بجٹ پاس کیا اور اب چاہتی ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب بھی
دھاندلی کے ذریعے ہو۔ قانون یہ کہتا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب اسی سیشن
میں کہ جس سیشن کے دوران ڈپٹی اسپیکر کو نشست سے ہٹایا گیا ہو۔ ایک سوال کے
جواب میں انہوں نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات جاری ہیں اور
پاکستان پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ آئندہ انتخابات سے پہلے انتخابی اصلاحات
ہونا ضروری ہیں۔ پارٹی کا موقف ہمیشہ سے رہا ہے کہ پانامہ کا مسئلہ
پارلیمان میں حل کیا جاتا لیکن بدقسمتی سے نہ تو پی ایم ایل (ن) نے اور نہ
ہی پی ٹی آئی نے پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا۔