سلام آباد (7 اکتوبر2019)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے نیب کے اپنے ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ آصف علی زرداری کو طبی سہولیات دینا ضروری ہیں اور ان کا علاج ضروری ہے مگر تا حال طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ موجود حکومت انسانی حقوق پر یقین نہیں رکھتی۔ کتنے مہینے ہوگئے ہیں صدر زرداری کو جیل میں آج تک انسولین کے لئے انہیں فریج کی سہولت بھی نہیں دی گئی۔ طبی سہولیات چاہے سابق صدر پاکستان ہو یا عام قیدی کو ملنی چاہئیں۔ یہ ہے نیا پاکستان اور یہ ہے مدینہ کی ریاست جہاں عام پاکستانی کا حق ہونا چاہیے الزامات جتنے مرضی لگائیں لیکن طبی سہولیات اپنے دشمن کو بھی دینی چاہئیں۔ انڈیا کے پائلیٹ کو تو طبی سہولیات دی جاتی ہیں اور انہیں اپنے گھر بھیج دیا جاتا ہے ۔ پیر کے دن اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا قائد بہادر انسان ہے وہ اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا وہ اپنا کیس لڑتے رہے ہیں لڑتے رہیں گے لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف جتنے بھی الزامات لگائے جاتے رہے ہیں ثابت ایک بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کو آگے لے کر جا رہے ہیں، پارٹی کا پرچم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نظریات پر چل رہے ہیں۔  ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر جو ڈی سیٹ ہوا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ مزید بیگ کھلے تو ایک بھی ان کا ممبر نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب کا بھی یہ مطالبہ تھا کہ بیگ کھولے جائیں ۔ یہ حکومت خود جمہوریت کو اور اس حکومت کو خود نہیں چلنے دے رہی۔ یہ حکومت چاہتی ہے کہ ہم تمام مخالفین کو جیل میں ڈالیں گے اور یہ حکومت پارلیمنٹ کو کوئی حیثیت نہیں دیتی اور یہ حکومت خود اگر ایک بل تک پاس نہیں کر سکتی اور اگر پی ٹی آئی پارلیمان کو کوئی حیثیت نہیں دے گی اگر یہ حکومت مخالفین کو پارلیمنٹ نہیں آنے دے گی سیشن میں نہیں آنے دے گی تو پھر پاکستان پیپلزپارٹی کے لئے آپشنز کم ہوتے جا رہے ہیں اور پھر ہم بھی مجبور ہوں گے کہ ہم مولانا صاحب کی طرح سخت اقدامات لیں۔ جہاں تک دھرنے کی بات ہے پاکستان پیپلزپارٹی کی پہلے دن سے ہی اصولی پالیسی رہی ہے ۔ چاہے پی ٹی آئی کے دھرنے ہوں ہمارے وقت میں چاہے ن لیگ کے دھرنے ہوں، چاہے میاں صاحب کے دور پی ٹی آئی کا دھرنا ہو چاہے فیض آباد میں تحریک لبیک کا دھرنا ہو پاکستان پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ اگر دھرنوں کی سیاست سے حکومت کو گھر بھیجتے ہو تو سسٹم کو نقصان پہنچتا ہے۔ اگر ریاست جمہوری حقوق، انسانی حقوق اور معاشی حقوق پر حملہ کرتی رہے گی تو میں بھی خود مجبور ہوں گا نہ صرف لانگ مارچوں میں، نہ صرف احتجاجوں نہ جلسے جلوسوں میںتو میں بھی مجبور ہو جاﺅں گا کہ میں بھی دھرنوں میں بیٹھوں اور ہم بھی دھرنا دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک کوئی را کا ایجنٹ ہے وہ جماعت جس کی فنڈنگ سابق بھارتی وزیر سے ہوئی ہے جو ان کا اپنا وزیر خود کہتا ہے جس کی آج تک انویسٹی گیشن نہیں ہوئی کس منہ سے وہ را کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگا سکتے ہیں۔ مولانا صاحب جتنا ہمارا بھی سیاسی مخالف رہا ہے ہمارا بھی سیاسی اختلاف ہے ان پر را کے ایجنٹ کا الزام لگانا خاص طور پر اس حکومت کی طرف سے جس پر مودی نے ان کی پہلے حکومت میں ہی کشمیر پر 370لگا دیا ہے تو پھر یہ کس منہ سے اپوزیشن کے نمائندے پر را کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں جیسے میں یہ اسٹینڈ لے کر کہتا ہوں اپنی حکومت کو بچا نے کے لئے ایسے الزامات لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ خان صاحب پہلے دن سے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ میں کنٹینر بھی بھیجوں گا کھانا بھی دوں گا تو اب کیوں اعتراضات ہیں۔ خان صاحب کو مولانا کے دھرنے کے لیے کنٹینر بھی دینا چاہیے کھانا بھی بھیجنا چاہیے اگر نہیں بھیجے گا جیسے ہمیں پتہ تھا وہ جھوٹا ہے اور سب کے سامنے جھوٹا ہی رہے گا۔ آرمی چیف کے ساتھ تاجروں کی ملاقات کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ ادارہ ایک غیر سیاسی ادارہ ہے اگر آرمی کے بیان آئے کہ یہ حکومت پانچ سال پورا کرے گی تو سیاسی بیان ہے مگر نہیں نہیں سمجھتا کہ انہوں نے ایسا بیان دیا ہے یہ پروپیگنڈا ہی ہوگا۔ یہ فوج نہ صرف میری فوج ہے بلکہ ہر پاکستانی کی فوج ہے یہ پی ٹی آئی کی فوج تو نہیں ہے۔ ہم سب اس کا دفاع کریں گے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہمار یہ ادارہ اس قسم کا بیان دے۔