میڈیکل رپورٹس کے باوجود انہیں جیل سے ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا۔ افسوس کے کہنا پڑ رہا ہے کہ عدالت کے اس آرڈر پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا۔ کیا کنٹمپٹ آف کورٹ صرف جمہوری قوتوں کے لئے ہیں۔ غیرجمہوری قوتوں کے لئے نہیں۔ وہ آئین اور رولز آف لاءکی خلاف ورزی کرتے رہیں۔ کل لطیف کھوسہ صاحب عدالت میں پیش ہوں گے امید ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف ہوگا۔ صدر آصف علی زرداری کو بنیادی حق اور یونائیٹڈ نیشن کے منڈیلا رولز کے مطابق جو بھی قیدی ہے ان کو طبی سہولیات فراہم کرنا ان کا حق ہے۔ اس وقت حکومت پاکستان یونائیٹیڈ نیشن کے رولز کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ سیاسی قیدی کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ صدر زرداری کو بنیادی حق نہ دے کر مجھے اور میر جماعت کو بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ مگر الحمدللہ ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو والے اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے کارکن ہیں۔ ہم نے ظالموں کے سامنے پہلے بھی سر نہیں جھکایا تھا اور آج بھی نہیں جھکائیں گے۔ ہم اپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم انسانی حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ہر پاکستانی کا حق ہے۔ امید کرتے ہیں کہ ملک کا عدالتی نظام یہ حق ضرور دلائے گا۔ اس وقت بھی پورے پاکستان میں یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صدر زرداری کے کیس کا یہاں پنڈی میں ٹرائل ہو رہا ہے جبکہ الزام سندھ کا کیس سندھ کا ایف آئی آر سندھ کا ہے وہ بھی سندھ کے ہیں اور یہ کیس آپ پنڈی میں چلا رہے ہیں۔ اس طرح جیالوں کے اس یہ یاد دلایا جا رہا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل پنڈی میںکرکے اپنے حقوق سے محروم رکھا اور یہاں ان کے عدالتی قتل ہوا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے یہ کبھی اعتراض نہیں کیا کہ احتساب نہ ہو انوسٹی گیشن نہ ہو۔ صدر زردار کو گیارہ سال تک جیل میں رکھا گیا بغیر کسی سزا کے بغیر اور آج بھی جیل میں ہیں کسی سزا کے بغیر لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کی جمہوری جدوجہد ہے اس ملک کے عوام کے حقوق کے لئے عوام کے معاشی حقوق کے لئے وہ جاری رہے گی اور ہم اس طرح ہتھکنڈو ں سے گھبرا کر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ میں کراچی سے لے کر کشمیر تک جو سیاسی رابطے کا اعلان کیا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کراچی میں پاکستان پیپلزپارٹی نے 18 اکتوبر کو ایک شاندار جلسہ کیا۔ کراچی کے عوام نے بھی یہ پیغام دیا کہ وہ اس کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں۔ میرا اگلا جلسہ 23اکتوبر کو تھرپارکر میں ہو رہا ہے۔ تھرپارکر کے عوام یہ پیغام پہنچائیں گے کہ اس ملک کے عوام اس نااہل اور نالائق حکومت کو گھر پہنچائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں بھی سیاسی پارٹیوں نے احتجاج کئے، لانگ مارچ کئے ، اسلام آباد تک دھرنے بھی دئیے ۔ چاہے افتخار چوہدری کا لانگ مارچ ہو یا طاہر القادری کا دھرناپاکستان پیپلزپارٹی کی جمہوری حکومت نے ان کا خیال رکھا، کھانا پہنچایااور سیاسی طور پر انگیج کر کے اس کا سیاسی حل نکالا اور اسلام آباد کے لوگوں کے حقوق بھی بحال رہے۔ یہ تو کٹھ پتلی حکومت ہے ان کو پتہ ہی نہیں کہ ایک جمہوری ملک چلانا کوئی کرکٹ میچ نہیں ہے۔ آپ کے اوپر ایک ذمے داری ہے اور حکومت کے پاس کوئی سیاسی حل ہی نہیں ہے مگر یہ اتنے سنجیدہ نہیں ہیں کہ اس کا کوئی حل نکال سکیں۔ مجھے پریشانی ہے کہ یہ حکومت امن و امان خراب کرنے کی طرف جا رہی ہے۔ آئینی بحران کی طرف جا رہے ہیں۔ حکومت کے پاس معیشت کا کوئی پلان نہیں ہے، نہ کوئی سیاسی پلان ہے، گورننس کا کوئی پلان نہیں ہے، اس چیلنج سے نکلنے کا کوئی پلان نہیں ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ صدر زرداری کی صحت بہت خراب لیکن ان کے حوصلے بلند ہیں۔ اور اب تک وہ اپنے اصولوں اور نظریات پر قائم ہیں جس کے لئے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قربانی دیں اور انہوں نے گیارہ سال تک قید کاٹی۔ مگر عوام کے سیاسی حقوق، معاشی حقوق پر سودا بازی کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ جہاں تک لاڑکانہ کے ضمنی انتخابات کی باتکا تعلق ہے سب جانتے ہیں الیکشن نہیں سلیکشن تھا اور ہم ہر فورم پر ان کو بے نقاب کریں گے۔ جہاں تک آمریت کی بات ہے پیپلزپارٹی کا موقف بڑا واضح ہے اور ہم تاریخی طور پر واضح رہے ہیں۔ ہم نے آمریت کا پہلے بھی مقابلہ کیا ہے اور اگر آج بھی اگر مارشل لاءیا آمریت کی صورتحال پیدا ہو تو ہم اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور پاکستان پیپلزپارٹی وہی کردار ادا کرے گی۔ میں تمام سیاسی جماعتوں کو یہ تجویز دیتا ہوں کہ وہ سیاست کریں ہم اپوزیشن کی سیاست کریں ، ہم احتجاج بھی کریں اور لڑیں بھی مگر کسی تھرڈ فورس کو موقع نہیں دیں کہ وہ آکر آمریت پھر سے اس ملک پر مسلط نہ کریں۔ ہمیں پتہ ہے کہ جتنی بھی ٹوٹی پھوٹی جمہوریت ہو لیکن آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک آزادی مارچ کی بات ہے اس میں پاکستان پیپلزپارٹی کا موقف بڑا واضح ہے ہم آج بھی مولانا فضل الرحمن کی سیاسی سپورٹ کرتے ہیں جب مولانا فضل الرحمن صاحب کہیں گے ہمارے کارکن ان کو ویل کم کریں گے اور سپورٹ بھی کریں گے انشااللہ تعالیٰ۔ ہم مولانا صاحب ایک پوائنٹ ایجنڈا پر سپورٹ کرتے ہیں کہ اس حکومت کو جانا پڑے گااور ہم جمہوریت کو بچا سکیں۔ جہاں تک پارلیمان کی بات ہے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس حکومت نے خود اور عمران خان نے خود اس پارلیمان پر تالا لگا گیا ہے۔ پارلیمانی نظام کو چلنے نہیں دے رہے۔ کسی ایک بل کو پاس کرنے نہیں دے رہے ہیں۔ آپ کے جو ممبرز ہیں ان کے پروڈکشن آرڈرز نہیں نکال رہے۔ ہماری پارلیمانی کمیٹی کو ملنے نہیں دے رہے ہیں۔ میری اپنی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے پانچ بل بھیجے گئے ہیں ان میں ایک بھی بل کو نیشنل اسمبلی کے فلور پر نہیں لے کر آئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر حکومت خود پارلیمان کا دروازہ بند کر رہی ہے ، جب حکومت خود دھاندلی اور سلیکشن کی وجہ سے اپوزیشن کو بائی الیکشن کا دھاندلی کی وجہ سے بھی راستہ روکیں گے ، عدالت پر بھی دباﺅ ڈالیں گے ، ریفرنسز بھیجیں گے ججز کو بھی باہر نکالنے کی کوشش کریں گے وہ راستہ بھی بند کریں گے ، نیب کو سیاسی ٹول بنایا جائے گا ، نیب کے چیئرمین کو دھمکی دے کر اپنے ذاتی ایشوز کے لئے بلیک میل کر کے چلایا جائے گا تو جب ہر راستہ اپوزیشن کے لئے اور ہر راستہ جمہوریت کے لئے بند ہوتا جارہا ہے تو پھر سڑکوں کے علاوہ، حتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کسی ایک جماعت کے ساتھ نہیں ہے پاکستان پیپلزپارٹی جمہوریت کے ساتھ ہے جہاں تک مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا تعلق ہے یہ ماضی کی بات ہے مگر پاکستان پیپلزپارٹی کا اس کے ساتھ ایک ورکنگ ریلیشن رہا ہے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بڑی اچھی ورکنگ رلیشن شپ رہی ہے مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے ساتھ، شروع دن سے 1973ءکانسٹیٹیوشن پر پاکستان پیپلزپارٹی کے دستخط بھی ہیں اور مولانا فضل الرحمن صاحب کی جماعت کے بھی دستخط ہیں۔ یہ اسلامی جمہوری پاکستان کا آئینی نظام جو ہے ہم سب نے مل کر بنایا ہے۔ جب آمر ضیا کے خلاف مقابلہ کرنا پڑا اور ایم آرڈی بنی تو پاکستان پیپلزپارٹی بھی تک اور یہ جماعتیں بھی تھیں ہم نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر غیرجمہوری قوتوں کا مقابلہ کیا ہے۔ اس وقت پاکستان کے مسائل اتنے زیادہ ہیں، مہنگائی اتنی زیادہ ہے ، غریب عوام کی زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے، فارن پالیسی کے اتنے سارے مسائل ہیں تو ہم سب نے مل کا ان مسائل کا حل نکالنا ہے۔ کوئی ایک جماعت یا کوئی ایک آدمی یہ مسائل حل نہیں کر سکتا۔ اگر مولانا صاحب کے خلاف کوئی غیرجمہوری رویہ اختیار کیا گیا تو پاکستان پیپلزپارٹی وقت اور حالات کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ اگر سیاسی کارکنوں پر کوئی ظلم ہوتا ہے تو پاکستان پیپلزپارٹی اس پر غور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت صورتحال ہے عمران خان کو استعفیٰ دینا چاہیے۔