اسلام آباد(12نومبر 2019)

سابق صدر آصف علی زرداری کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ سرکاری ڈاکٹرز ہم سے صدر آصف علی زرداری کی میڈیکل رپورٹس شیئرنہیں کر رہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت کے میڈیکل بورڈ میں وہ بھی معالج شامل ہوں جو صدر زرداری کا پہلے بھی طبی معائنہ کرتے رہے ہیں۔ منگل کے روز احتساب کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر صدر زرداری کو افاقہ نہیں ہو رہا ہے تو یقینا کوئی تو بات ہے جو تسلی بخش نہیں ہے۔ آج صدر زرداری کی طبیعت اتنی ناساز تھی کہ سرکاری میڈیکل بورڈ نے انہیں عدالت لے جانا مناسب نہ سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر زرداری پمز ہسپتال سے عدالت تک کا سفر نہیں کر سکتے تو آپ ان کی صحت کی کیفیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ سابق صدر کے وکیل نے کہا کہ شوگر کی سطح یکدم کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 20گھنٹے ان کی نگہداشت کی جاتی ہے۔ سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ صدر زرداری کے دل میں نہ صرف اسٹنٹ نصب ہیں بلکہ پیس میکر بھی لگا ہوا ہے۔ انہیں ساڑھے گیارہ برس قید میں رکھ کر ان پر تشدد کیا گیا تھا ۔ اس تکلیف کے درد بھی برکرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کی گردن اور کمر میں شدید درد ہے جبکہ انہیں ریشہ کا مستقل مرض بھی ہے۔ سردار لطیف خان کھوسہ نے کہا کہ سابق صدر 70دن سے نیب کی حراست میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔ تین ماہ سے وہ جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ سابق صدر زرداری کو کس لئے قید رکھا گیا ہے؟ نہ انہیں کوئی سزا ہوئی ہے اور نہ ان کے خلاف کوئی ریفرنس تک دائر ہوا ہے۔ سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ آصف علی زرداری اس شہید ذوالفقار علی بھٹو کے داماد ہیں جنہوں نے حکومت سے کوئی رعایت نہیں مانگی تھی۔ آصف علی زرداری بھی کسی کے حکم سے اپنے لئے کسی صورت رعایت نہیں مانگیں گے۔ ہماری عدالت سے استدعا ہے کہ صدر زرداری کے ذاتی معالج سرکاری میڈیکل بورڈ میں شامل کئے جائیں۔