چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ صدر زرداری کی طبیعت سخت ناساز ہے۔حکومت کے ان سارے ہتھکنڈوں کے باوجود صدر زرداری کا مورال بلند ہے، ان کی بہادری آپ سب کے سامنے ہے۔ آج صدر زرداری اپنی بات پر قائم ہیں، اپنے اصولوں پر قائم ہیں، آج وہ اپنے نظریہ پر قائم ہے، صدر زرداری کہتے ہیں کہ آپ نے جو میرے ساتھ کرنا ہے کرلومگر وہ اپنے موقف سے اپنے اصولوں سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ پیپلزپارٹی کے ہر کارکن کے لئے فخر کی بات ہے کہ ہمارا قائد نہ جھکتا ہے، نہ بکتا ہے اور نہ بھاگتا ہے۔ جب سے یہ جعلی کیسز بنے ہیں جبکہ خاص طور پر ہمارا کیس سندھ کا مقدمہ، سندھ کا الزام اور سندھ کا کیس پنڈی میں چل رہا ہے اس کے بارے میں ہم اپنے اعتراضات سب کے سامنے ظاہر کرتے رہے ہیں۔ اس وقت بھی صدر زرداری نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنا کیس ریویو کیا تھا اور اب انشااللہ تعالی سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت ہوگی۔ اس کے بعد سپرم کورٹ فیصلہ کرے گی کہ کیا یہ کیس سننا چاہیے اس کی سماعت پنڈی میں کرنی چاہیے یا سندھ میں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک عدالتوں کی طرف دیکھ رہا ہے اور غیر سے دیکھ رہے ہیں کہ ہماری اعلی عدلیہ سے کس قسم کے فیصلے آئیں گے، پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کے لئے کس قسم کا فیصلہ آئے گا۔ میں پرامید ہوں کہ ماضی میں جو کوتاہیاں ہوئی ہیں ماضی کی جو غلطیاں ہیں جن سے ہماری سیاست، ہمارے آئین پر اور ہمارے وفاق پر غلط اثر اور نقصان ہوا ہے۔ انشااللہ اس بار انصاف ہی ہوگا، اس بار عدالت کی طرف سے یہ پیغام جائے گا کہ پاکستانی جو بھی جس شہر سے کوئی تعلق رکھے ، جو بھی زبان بولے ہم سب کے لئے ایک ہی قانون ہوگا۔ جو جناح کا پاکستان ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ کے لئے اہم موقع ہے اور سارے کے سارے پاکستانی ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت ایک بھگوڑے، ایک غدار کا ٹرائل ہو رہا ہے۔ ہمارے چیف جسٹس صاحب نے فرمایا کہ اس کا فیصلہ جلد آنے والا ہے ۔ اب سننے میں آرہا ہے کہ نیازی صاحب کی حکومت اس بھگوڑے، غدار اور آمر کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری عدالتیں اور امتحان پر پوری اتریں گی اور پرویز مشرف کا ٹرائل پتہ نہیں کب سے چل رہا ہے جو سست روی کا شکار نہیں ہے اس ٹرائل کا فیصلہ بھی وہی پیغام دے گا جو چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ یہ عدالتیں جو اب تک صرف اور صرف سابق وزرائے اعظم کے خلاف فیصلے سناتی رہی ہیں امید ہے کہ ایک سابق آمر کے خلاف فیصلہ آنے والا ہے جس کے نتیجہ میں پاکستان کی جمہوریت مضبوط ہوگی ۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم صحیح جمہوریت کی طرف نہیں لوٹیں گے ، جب تک ہم اپنی عوام کی خواہشوں پر نہیں چلیں گے تب تک ہم اس معاشی عذاب سے تحریک انصاف کی معاشی سونامی سے نہیں بچا سکیں گے۔ جب تک سارے کے سارے ادارے پارلیمان سے لے کر عدلیہ تک عوام کی خواہشوں پر پورا نہیں اتریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کل جب اسلام آباد میں ہماری اے پی سی ہوگی اور پاکستان کی تماماپوزیشن پارٹیز جمع ہوں گی اور وہاں کافی گفتگو ہوگی۔ کسی ڈیڈ لائن یا تین مہینے کا کوئی ڈیل کا وہ تو مولانا صاحب نے ہم سے شیئر نہیں کیا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ اب تک میرا، میرے خاندان اور میری پارٹی کی صدر سے درخواست ہے کہ ہم ضمانت کے لئے اپلائی کریں، میرٹ پر ضمانت کے لئے اپلائی کریں ۔ میرٹ پر اور طبی بنیادوں پر بھی ضمانت ہو سکتی ہے اور بنیادی طور پر میرٹ پر ضمانت بنتی ہے جو مریم نواز صاحبہ کا جو فیصلہ آیا ہے اب اس کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ وہ سب جو قید میں اور ان پر الزام ثابت نہیں ہوا سب کی ضمانت ہونی چاہیے ۔ ان تمام معاملات پر صدر زرداری سے ہم بات تو کرتے ہیں مگر ان کا موقف ہے کہ یہ سارے کے سارے مقدمات جھوٹے ہیں ، جعلی ہیں جن کا وہ خود مقابلہ تو کریں گے کسی کے سامنے جھکیں گے نہیں جو سب کا آئینی حق ہے جو زرداری صاحب کا ایک بنیادی حق ہے جو نہ صرف ان کو یہاں پاکستان میں ملتا بلکہ وہ ساری دنیا میں ملتا ہے کہ جہاں کرائم ہوا ہے وہاں ٹرائل ہوگا اس حوالے سے صدر زرداری کی پٹیشن زیر التوا ہے جس کی ہم سب کو امید ہے کہ ایک صحیح فیصلہ آئے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم ہر وقت تین اصولوں کی بات کر رہے ہیں وہ جو عوام کے جمہوری حقوق، معاشی حقوق اور انسانی حقوق پر حملے ہو رہے ہیں وفاق کی طرف سے غیرجمہوری حملے ہو رہے ہیں اس حوالے سے ہم نہ صرف آواز اٹھاتے رہتے ہیں اور احتجاج بھی کرتے رہتے ہیں لیکن ہم آخری سانس تک عوام کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ہم چاہتے ہیں کہ صرف عوام کو ریلیف ملنا چاہیے نہ کہ صرف امیروں کو جبکہ اس حکومت نے آتے ہی ریلیف امیروں کو دیا اور عوام پر صرف بوجھ ڈالا ہے ہم اس کے خلاف ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ عام آدمی کوٹیکس ریلیف ملے اور عام آدمی کو طاقتور بنایا جائے اور عام آدمی کو سبسڈی کا فائدہ ہو عام آدمی کی جیب میں پیس جائے گا تو وہ پیسہ ہماری پوری معیشت میں گھومے گا اور پورے ملک کو اس سے فائدہ ہوگا لیکن جب ہم ارب پتی بینکرز اور بروکرز کو فائدہ پہنچاتے ہیں تو وہ اپنے بینک اکاﺅنٹس میں جمع کرتے ہیں اور امیر ہو جاتے ہیں مگر عوام پس جاتے ہیں۔ حکومت جب ٹیکس ایمنسٹی اعلان کرتی ہے تو اس کا فائدہ ارب پتی ہی حاصل کرتے ہیں لیکن کسانوں کے لئے مزدوروں کے لئے اور طلبا کے لئے کوئی ایمنسٹی اسکیم نہیں ہوتی یہ ناانصافی ہے۔ یہ ایک نہیں دو پاکستان ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جب سے عمران خان حکومت میں آئے ا ور این آراو کی بات کرتے ہیںکہ پیسہ دور اور باہر چلے جاﺅتو یہ ان کی اپنی خواہش ہے۔ عمران خان اپنی حکومت بچانے کے لئے یا اپنی سیاست بچانے کے لئے کوئی طریقہ نکالے کہ میاں صاحب باہر چلے جائیں میاں صاحب کی طبیعت ناساز ہوئی اور عمران خان کو موقع ملا اور انہوں نے انہیں باہر بھیج دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علاج سب کو ملنا چاہیے اور عمران خان کو صاف ماننا چاہیے جیسا کہ چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ عمران خان صاحب نے سب کچھ کیا اور سب کچھ کروایا اور اگر عمران خان سچ بولتا تو میڈیا اور عوام ان کی بات مانتے مگر عمران خان ہر بات پر یو ٹرن لیتا ہے ہر بات پر جھوٹ بولتا ہے جس سے غلط پیغام جاتا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے آصف علی زرداری کی صحت کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ زرداری صاحب کو ان کے ذاتی معالج کو رسائی دی جائے تاکہ ہمیں اطمینان ہو اور تسلی ہو مگر یہ حق ہمیں نہیں دیا جارہا ہے اور نہ ہی آج مجھے یہ حق دیا گیا ہے۔ صدر زرداری کی صحت حکومت کے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں ہے اور مزید آپ حکومت کے ڈاکٹروں سے پوچھ سکتے ہیں۔