چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے بی بی آصف بھٹو زرداری کی درخواست منظور کر لی ہے اس لئے ہم میڈیکل گراﺅنڈ پر ضمانت پر رہائی کے لئے عدالت سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے آپ کو پتہ ہے کافی دیر سے صدر زرداری صاحب ہسپتال میں ہیں ۔ حکومتی ڈاکٹرز انتظامیہ کے ڈاکٹرز ان کا علاج کر رہے ہیں۔ ہمارا خاندان اور پارٹی کی کوشش یہ تھی کہ جو ہمارے نجی ڈاکٹرز ہیں ان کو بھی رسائی دی جائے مگر افسوس کہ ہم کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس دوران میں جو حکومت کے سرکاری ڈاکٹرز ہیں انہوں نے کافی بیماریاں تشخیص کی ہیں اور پروسیجرز بھی ریکمنڈ کئے ہیں۔ ان میں ایک پروسیجر کاردیوبائی سیکل پروسیجر ہے جو دل سے تعلق رکھتا ہے جو کہ ایک بلاکیج کا وہ انوسٹی گیٹ کرنے چاہتے اور صدر زرداری صاحب نے ہمیں روکا تھا کہ وہ ضمانت کے لئے نہیں اپلائی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمارے لئے اور خاندان کے لئے، بہنوں کے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا اس سے ہمارے پاس وہ اعتماد نہیں ہے کہ یہاں کہ ڈاکٹرز شاید قابل ہوں گے لیکن ہمیں زیادہ سکون ہوتا نکہ ہمیں ہ صرف ہمیں سیکنڈ رائے لینے کا موقع ملے مگر وہ علاج ہمارے سینڈرڈ زکے مطابق کرانے کے لئے تو اس بات پر آج صدر زرداری صاحب نے آصفہ بی بی کی رکویسٹ کو مانا ہے اور انشااللہ تعالی پاکستان پیپلزپارتی صدر زرداری صاحب کی میڈیکل ضمانت کے لئے اپلائی کریں گے اور امید ہے کہ صدر زرداری صاحب کو میڈیکل بیل جلد از جلد ملے گا اور یہ جو پروسیجرز ہے وہ جلد از جلد پروسیجر ہو سکے۔ امید ہے کہ جب کل ہم یہ درخواست فائنلائز کرکے اپلائی کرتے ہیں تو اس کا اچھا نتیجہ بھی نکلے گا اور سب صدر زرداری صاحب کی صحت کے لئے دعا گو ہیں۔ ساتھ ساتھ ملک کے جو سیاسی صورتحال ہے ہم پر کافی لمبا گفتگو چلا صدر زرداری صاحب کے ساتھ۔ صدر زرداری صاحب آج بھی اپنے موقف پر اپنے اصول پر قائم ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے نظریے پر اپنے منشور سے کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں چاہے وہ اٹھارہویں کی ترمیم کی بات ہو چاہے وہ جمہوریت کی بات ہو چاہے وہ میڈیا کی آزادی کی بات پاکستان پیپلزپارٹی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ آج ہمارا 30نومبر کو یوم تاسیس کا کشمیر میں جلسہ رہا الحمدللہ بہت کامیاب جلسہ رہا کشمیر کے نوجوانوں کشمیر کی خواتین بڑی تعداد ہمارے جلسہ میں آئے تھے جوش جذبہ کے ساتھ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چاروں صوبوں سے ہم سب اپنی وفاداری کے پیغام دئیے تھے۔ اور اب ہم نے ایک بڑا تاریخی فیصلہ لیا ہے کہ 27دسمبر کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی اس سال پاکستان پیپلزپارٹی لیاقت باغ میں منائے گی انشااللہ تعالیٰ 27دسمبر کو لیاقت باغ سے ایک بار پھر ایک صاف اور واضح پیغام پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے پورے ملک اور پوری دنیا میں آئے گا کہ پاکستان پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ طاقت کاسرچشمہ صرف اور صرف عوام ہیں اور پاکستان پیپلزپارٹی یہ جدوجہد آخری دم تک لڑتی رہے گی جب تک ہم اس ملک کے تمام تر طاقت عوام تک منتقل نہ کردیں۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم سب پورا ملک اس وقت سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ کے انتظار میں کہ جب سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آتا ہے اس میں کیا ہدایات دی جاتی ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس پر کافی واضح شرائط دی جائیں گی۔ جب سپریم کورٹ نے اتھارہویں ترمیم کے لئے رولنگ دی تھی اس سے ہمیں کافی گائیڈ لائنز ملی تھیں۔ تو امید ہے کہ جو اب فیصلہ آنے والا ہے س سے بھی ہمیں گائیڈ لائزن ملی گی اس سلسلے میں ہم نے وکلاءسے مشاورت کئے ہیں ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے یہ مثبت ہوگا کہ ہم چاہیں گے کہ اس میںاتفاق رئے پیدا ہو لیکن ساتھ ساتھ میں ضرور کہوں گا کہ ہمارا وزیراعظم اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکا جیسے کشمیر میں پیدا نہیں کرسکا، جیسے معیشت میں پیدا نہیں کر سکاجیسے جمہوریت میں پیدا نہیں کر سکا جیسے گورننس میں پیدا نہیں کر سکا۔ اس بات پر بھی وزیراعظم رائے شماری نہیں قائم کرنا چاہتا اس نے جو ری ایکشن دیا تھا جب یہ فیصلہ آیا اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہمارا وزیراعظم صاحب کے کردار سے ہم کوئی امید نہیں رکھ سکتے جو حکومت تین مہینے میں ایک نوٹیفکیشن نہیں بنا سکتی جو آج تک 15ماہ میں کوئی ایک بل اور قانون سازی نہیں کر سکے۔ یہ آئینی ترمیم ہونی ہے تو مجھے تو مشکل لگ رہا ہے کہ یہ حکومت وہ رائے شماری کریں گے ترمیم بھی کریں گے وہ چھ مہینے کے اندر اندر ان کا ایک بڑا ٹیسٹ ہوگا عمران خان کی حکومت کا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان کی روایت سے ان کی باتوں سے ان کے ایکشن سے کہ یہ نان سیریس وزیراعظم ہے ہر چیز کو نان سیریس لیا ہے اور ہر چیز پر منفی اثرات آئے ہیں ہمارے وزیراعظم کے کردار کی وجہ سے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک الیکشن کمیشن کے ممبر کی بات ہے اس کے لئے ہم نے اے پی سی کی میٹنگ میں ایک سب کمیٹی بنائی تھی جس میں پی پی پی کا ایک ممبر تھا ایک ن لیگ کا ممبر ایم ایم اے ممبر تھے اس نے تین نام پر اتفا ق کیا گیا تھا جو شہباز شریف نے وزیراعظم کو بھیجے ہیں۔ اور اور سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم کا رول رہا ہے کہ جب کشمیر پر رائے شماری ہونا تھی اسی روز محترمہ فریال تالپور کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ مریم شریف صاحبہ کو بھی گرفتار کیا جاتا ہے مجھے نہیں پتہ کہ کیوں ہمارا سلیکٹڈ وزیراعظم اس پوزیشن پر ہے ہو وقت اپوزیشن پارٹیوں کو منتشر کرنا چاہتا ہے۔ اس ملک کا وزیراعظم رہنا ہے نہ کہ اپنی پارٹی کا وزیراعظم بننا ہے۔ بدقسمتی سے آپ سب نے دیکھا ہے کہ یہ ملک کا لیڈر نہیں ہے بلکہ صرف پی ٹی آئی کا لیڈر ہے اور اس سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایک اور سوال کے جو اب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک فارن فنڈنگ کے الزامات ہیں پاکستان پیپلزپارٹی پر وہ بالکل جھوٹے ہیں۔ کوئی تعلق ہی نہیں الیکشن کمیشن بھی جانتا ہے۔ ابھی ثبوت آئیں گے ۔ اگر کوئی فارن فنڈنگ کا کیس ہے وہ صرف اور صرف تحریک انصاف کاہے جس کے اپنے بنیادی ممبر جس کے اپنے ممبر جو فنانس میں ملوث ہے وہ خود یہ ثبوت باہر سے لے کر آئے۔ کہ فلاں فلاں ٹرانزیکشن بھارت کی طرف سے بھارت کے وزیر کی طرف سے اسرائیلی کمپنی کی طرف سے مختلف فارن ذرائع سے پی ٹی آئی کو فنڈنگ ملے ہیں۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ کیس اب کب سے چل رہا ہے نہ کوئی فیصلہ آیا اور نہ ہی پی ٹی آئی نے کوئی جواب دیا۔ جب یہ اس کا جواب نہیں دے سکے تو یہ الزامات اپوزیشن پر لگاتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے ہمارا وزیراعظم جل رہا ہے پہلے ہمارا وزیراعظم ہوگا اور اس کے بعدآئینی ترمیم ہوگی۔