پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر SZABIST یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار تمام انسانی حقوق کی ماں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح اساتذہ اور تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے کارکنوں کو یونین سازی کا حق حاصل ہے اسی طرح طلباءکو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ادارے کی بہتری کے لئے اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے طلباءکے حقوق کے لئے کام کرنے پر سندھ پیپلزاسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں آزادی اظہار، آزادی تقریر اور پریس کی آزادی پر قدغن لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کے بغیر ہم اپنے ملک کے لئے درست فیصلے کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ آج یہ حکومت حزب اختلاف کی آواز سننے کے لئے تیار نہیں ہے لیکن ہم ہر صورت میں عوام کے حقوق خاص طور پر ان کے معاشی حقوق کا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ایسی ریاست بننا ہوگا جہاں خواتین اور مردوں کو مساوی تنخواہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ انتخابات منصفانہ اور آزادانہ ہوں کیونکہ اب تک عوام کے ووٹ ہر انتخابات میں چرائے جاتے رہے ہیں۔ ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اسمبلی میں حقیقی نمائندے بھیجیں نہ کہ کٹھ پتلیاں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے انسانی حقوق کی جدوجہد میں ہمیشہ ہراول دستے کا کام کیا ہے ڈکٹیٹر جنرل ضیاالحق کے دور میں خواتین کے حقوق پر قبضہ کیا گیا لیکن پیپلزپارٹی نے 2008ءمیں اپنے اتحادیوں کی مدد سے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کی تاکہ ڈکٹیٹروں کی جانب سے ہتھیائے گئے حقوق واپس عوام کو دئیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ حالت ہے کہ صوبوں کو وسائل مہیا نہیں کئے جا رہے لیکن اس کے باوجود سندھ حکومت مشکل حالات میں بھی عوام کو ان کے حقوق دلانے میں پیش پیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم نے تعلیمی حقوق، اطلاعات تک رسائی کے حقوق اورآزادانہ اور منصفانہ مقدمے کا حق عوام کو دیا ہے کیونکہ اب یہ حقوق آئین کا حصہ ہیں اور عدلیہ بھی یہ ادراک کرے گی پاکستان کے عوام کو یہ حقوق دئیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی خراب ہے چاہے وہ مسنگ پرسنز کا معاملہ ہو یا انسانی حقوق کی خلا ف ورزیوں کا معاملہ ہو جیسا کہ بلوچستان ، سابقہ فاٹا اور گلگت بلتستان میں خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حق خود ارادیت کشمیری عوام کا حق ہے جو انہیں ہر صورت میں ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بنیادی انسانی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا اہیے اور پاکستان کو ہر صورت میں ایک پر امن ، جمہوری اور خوشحال پاکستان بنانا ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔ افسوس کی بات ہے کہ موجودہ دور میں ہمارا ملک کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام اس بار پر کیا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے یوم شہادت کے موقع پر لیاقت باغ راولپنڈی سے یہ واضح پیغام دیا جائے گا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔