سلام آباد(2 جنوری 2020)پاکستان پارٹی کے کور کمیٹی کے رکن سینیٹر تاج حیدر نے سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ کو تھر کول پروجیکٹ کے لئے 1.3 ارب روپے حاصل کرنے پر مبارکباد دی ہے۔ اب ہم نا صرف یہ کہ ایک بہت بڑی مقدار میں کوئلہ نکال سکیں گے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ 2640 میگا واٹ سستی بجلی بھی پیدا کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ تھر کول کا بلاک 6 ملک کی یوریا کی ضروریات بھی آئندہ 30 سال تک پوری کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا یہ تحفہ عوام کے لئے ہے جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے نئے سال میں بجلی کا ٹیرف اور پٹرولیم کی قیمتیں بڑھا کر عوام کو مزید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی معاشی ترقی کے لئے انسانی اور قدرتی ذرائع استعمال کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ایسے منصوبے بنا رہی ہے جس سے بجلی کی قیمت میں کمی ہوگی، نئی ملامتوں کے مواقع پید ہوں گے، قیمتی زرمبادلہ بچایا جائے گا اور قومی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ ہم اپنے عوام کا معیار زندگی بہتر کر سکیں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں انڈائریکٹ ٹیکس کے ذریعے ریونیو جمع کرنے کی پالیسی ترک کی جائے اور اپنے اخراجات کے لئے قرض لینا بند کر دیا جائے۔ صوبہ سندھ نے تھر کول اور توانائی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے منصوبے شروع کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہی ملک کو توانائی میں خودکفیل بنا سکتی ہے۔