اسلام آباد(3 جنوری 2020) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر حکومتی غیرمشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) نے آرمی ایکٹ ترمیم کے حوالے سے اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا۔ قائد حزب اختلاف کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اپوزیشن میں اتفاق رائے برقرار رکھے۔ پارلیمنٹ ہاﺅس کے چیمبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہ میرے قومی اسمبلی میں صرف 50 ووٹ ہیں اور مسلم لیگ(ن) کی غیرمشروط حمایت کے بعد میں اثرانداز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے جنرل کیانی کے دور میں توسیع کا معاملا کیا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے توسیع کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج دیا ہے جو ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے توسیع کا معاملہ پارلیمان کو بھیجا جانا پارلیمان کی کامیابی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے توسیع معاملے کو پارلیمنٹ بھیجنا دراصل اس بات کااعتراف ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ن) قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر آرمی ایکٹ ترمیمی بل کو پاس کرانا چاہتے ہیں۔ پارلیمانی قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھنے سے نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ فوج کے اداروں کو بھی نقصان ہوگا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پارلیمانی قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھنے سے ہم وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں جو نوٹیفکیشن کے اجراءکے وقت ہوئی تھیں۔ اگر قائد حزب اختلاف اور حکومت پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت چاہتے ہیں تو پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پابندی کریں۔ آرمی ایکٹ سے متعلق ترمیم بل کو کم از کم پارلیمان کی دفاعی کمیٹی میں بھیجا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پاسداری سے متعلق ہماری بات مانے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آرمی ایکٹ سے متعلق جمہوری اور پارلیمانی امور کی پابندی کی جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک آسان معاملے کو حکومت مزید مشکل بنا رہی ہے۔ حکومت کا موقف کنفیوزڈ رہا ہے اور حکومت نے عدالت میں بھی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ حکومت یہ بل اچانک لائی ہے جس میں قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کی گئی۔ آرمی ایکٹ سے متعلق بل پارلیمان کے اراکین تک کو نہیں دیا گیا۔ حکومت اپوزیشن سے بات کرتی تو یہ ایک آسان جمہوری عمل تھا۔ اگر حکومت شروع دن سے ہی بات کرتی تو اب تک یہ عمل مکمل ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابھی بھی کہہ رہے ہیں کہ دفاعی کمیٹی میں بل بھیجا جائے تو اس میں سب کا فائدہ ہے۔ حکومت اگر پیپلزپارٹی کی حمایت چاہتی ہے تو اسے پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پاسداری کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ علم نہیں کہ نواز شریف نے چوہدری آصف کو پارلیمانی قواعد کی پاسداری کے متعلق خط لکھا ہے۔ میرے علم میں یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے غیرمشروط حمایت کا حکم دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس امید کا اظہار کیا کہ بل کی منظوری کے تناظر میں اپوزیشن لیڈر جلد وطن واپس آئیں گے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت کے حوالے سے اخبار نویسوں سے استفسار پر چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ صدر زرداری کی سرجری اور دیگر مسائل سے متعلق غیرملکی ماہرین کو بھی بلوایا ہے۔ ان کے علاج کے لئے بیرون ملک سے ایک ڈاکٹر آئے ہیں جو ان کی بیماری کا جائزہ لے رہے ہیں۔ نیب کے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ نیب ایک متنازعہ اور آمر کا بنایا ہوا ادارہ ہے۔ یہ ایک کالا قانون ہے جسے ختم کرنا چاہیے۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ احتساب کے متعلق اصلاحات کی جائیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں نیب کا قانون ختم کرنے کی کوشش کی مگر اس وقت کی اپوزیشن نے ساتھ نہیں دیا۔ میاں نواز شریف کے دور میں بھی ہم نے بطور اپوزیشن نیب کا قانون ختم کرنے کی کوشش کی مگر حکومت نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نیب کا قانون ختم کرنے کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہیںا ور کوشش بھی کرتے آرہے ہیں۔ سینیٹر فاروق نائیک کا بل ایک سال سے زیر التواءہے اس کی منظوری سے بہتری آئے گی مگر یہ کافی نہیں ہے۔ اگر ہم نے واقعی کرپشن کو ختم کرنا ہے تو ہمیں ایک صحیح نظام لانا ہوگا۔ احتساب کا ایسا نظام لانا ہوگا جس کی بنیاد سیاسی انجینئرنگ یا سیاسی انتقام نہ ہو۔ ایسا حتساب ہو جو سب کے لئے یکساں ہو۔

Attachments area