اسلام آباد(6 جنوری 2020)
 پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی ایکسٹنن کی جو پاور ہے وزیراعظم کے پاس ایگزیکٹو کے پاس ہوتی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے یہ جو اایمنڈمنٹ آرمی بل ہے اس کے طریقہ کار سے اختلاف کیا جس طریقہ کار سے کیا جا رہا تھا۔ پارلیمنٹ کو بائی پاس کیا جا رہا تھا پارلیمنٹ کو بلڈوز کیا جا رہا تھا۔ جمہوریت کو بائی پاس کیا جا رہا تھا۔ پیپلزپارٹی نے سمجھا یہ پارلیمنٹ کے خلاف ہوگا۔ جس طریقے سے جو ایک بل کسی ممبر نے دیکھا ہی نہیں جو کسی کمیٹی میں بھی نہیں گیا تھا وہ بل ایک دن میں سارے کے سارے ہاﺅس میں پاس ہونا تھا جو کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے سمجھا کہ یہ جمہوریت کے خلاف ہے۔ یہ پارلیمنٹ کو انڈرمائن کر رہا تھااور انسٹی ٹیوٹس کو بھی انڈرمائن کر رہا تھا۔ جس کے لئے یہ قانون سازی ہے کل پاکستان پیپلزپارٹی کی طویل طر سی ای سی کی میٹنگ ہوئی اس میں بحث ہوئی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے یہ فیصلہ کیا کہ کچھ امینڈمنٹ پیش کرنا پڑیں گی، کچھ امنڈمنٹ تجویز کریں گے ساتھ ساتھ ہم نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے جو سپریم کورٹ کا آرڈر ہے اس سپریم کورٹ کے آرڈر پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جو آرمی ایکٹ 52-53 کا ہے اس کے جو رولز واور ریگولیشن ہیں وہ دکھائے جائیں۔ نئے بل میں انہی رولز اور ریگولیشنز کا ذکر ہے مگر وہ آرمی ایکٹ کا ریگولیشن ہمیں نہیں دکھایا گیا۔ کسی کو دکھایا نہیں گیا تو ہمارا مطالبہ ہے کہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد کیا جائے اور آرمی ایکٹ کے رولز اینڈ ریگولیشنز ہیں وہ بھی اپوزیشن کے ساتھ شیئرکئے جائیں۔ سپریم کورٹ نے جو اپنے آرڈر میں حکومت کو کہا ہے جو آرٹیکل 243(3) اس میں ترمیم لانے کی ضرورت ہے۔ لیکن جو بل ہمارے سامنے پیش ہوا ہے اس میں آرٹیکل 243(4) پر ترمیم کروایا گیا ہے اس پر ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ جو قانون میں ترمیم ہے اس کو آئین اور قانونی طریقے سے پاس کرایا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمانی طریقہ کار اپنا جائے جب ہم دھاندلی کا اعتراض کرتے ہیں تو پارلیمانی طریقہ کو فالو نہیں کیا جاتا اسی لئے ہم اعتراض کرتے ہیں۔ جب پارلیمان میں وزیراعظم نہیں آتا ، جب پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دی جاتی، جب اسپیکر رولز فالو نہیں کرتے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ پارلیمان پر حملہ ہے، یہ حملہ ہے جمہوریت پر۔ اگر اس موضوع پر جو پارلیمنٹ کا طریقہ کار ہے اپنا یا نہیں جاتا تو یہ مشکلات حکومت کے لئے پیدا کر رہے ہیں۔ وہ جو نوٹیفکیشن کے وقت مسائل اٹھے تھے حکومت کی اپنے بچگانہ اور اناہلی کی وجہ سے اٹھے تھے۔ ہم نہیں چاہتے کہ پھر سے جب اتنے اہم ایشو پر پارلیمان سے جو اتنا اہم بل پاس ہوتا ہے اس کے بعد کوئی ایسا چیلنج نہیں ہونا چاہیے جو اس کے بعد کوئی اعتراض کرے۔ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے حکومت کی جلد بازی کی وجہ سے یہ خطرات ہیں۔ ہم یہ مسئلہ سب کے سامنے اور حکومت کے سامنے بھی پیش کرتے ہیں۔ ساتھ ساتھ جوترمیم پاکستان پیپلزپارٹی نے پیش کی ہے ہم چاہتے ہیں اس ترمیم کی سپورٹ جو ہے وہ اپوزیشن کی ساری جماعتیں بھی سپورٹ کریں۔نوید قمر صاحب نے ن لیگ سے رابطہ کیا ہے ن لیگ نے کہا ہے کہ ترمیم کے بارے میں وہ اپنے پارٹی لیڈر سے بات کریں گے اور وہ ہمیں جلد جواب دیں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے جو دوسری جماعتیں ہیں جیسے بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ہماری جماعت نیشن اسمبلی اور سینیٹ میں ہے جیسے جے یو آئی ایف ان سے بھی ہم رابطے کر رہے ہیں ان کے سامنے بھی ترامیم پیش کریں گے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے جو ترامیم کی ہیں جمع بھی کرائی ہیں کل وہ نیشنل اسمبلی کے پروسیجر میں آئیں گی اس پر ہم چاہتے ہیں کہ دیگر سیاسی جماعتیں ہمارا ساتھ دیں۔ ایک اپوزیشن پارٹی پارلیمنٹ میں جو ہمارا اختیار ہے اس قانون میں بہتری لانا چاہتے ہیں اس ترمیم میں جو بہتری کی گنجائش ہے وہ کرنا چاہتے ہیں جس کا مختلف لوگوں نے اس کا ذکر بھی کیا ہے پاکستان پیپلزپارٹی اس ایشو کو ایڈریس کرتے ہوئے اس پر اینگیج کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت تک یہ ہمارا موقف ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری جو تین ترمیمی بل ہیں وہ کمیٹی میں بھی نیشنل اسمبلی میں بھی خود پیش کیا ہے۔ جو اس کمیٹی میں ہمارا ممبر اٹھایا تھا حکومت نے کہا کہ وہ یہ کنسیڈر کریں گے۔ لگتا ہے کہ شاید یہ ہمارے ساتھ گیم کھیل رہے ہیں اس لئے وہ جو ہماری ترامیم ہیں اس کو سیکریٹریٹ میں بھی پیش کیا ہے۔ یہاں تک ہماری ترامیم کے مفہوم کا تعلق ہے پہلی جو ہماری ترمیم ہے پارلیمنٹ کمیٹی کا کردار ہے۔ جب وزیراعظم ایکسٹنشن دیتا ہے تو وزیراعظم صاحب کو نیشن سکیورٹی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا چاہیے جو ایکسٹنشن کا جواز ہے اس کو اس کا جواز بھی دینا چاہیے۔ اس طریقے سے کورٹ کے اپروچ کے مطابق اپوئنٹمنٹ کے طریقہ کار میں کچھ ترامیم جمع کرائی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ میں اپنے کارکن اور جیالوں کے لئے اتنا کہوں گا نئی جو پچھلی نسلیں وہ بھی ان پر قربان اور جو آنے والی نسلیں ہیں وہ بھی ان پر قربان۔ ہم جو محنت کر رہے ہیں جمہوریت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں پارلیمنٹ کی عزت کی جدوجہد کر رہے ہیں وہ سب ان کے لئے کر رہے ہیں۔ پاکستان میں جو بھی جمہوریت سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ ان کے لئے ایک امید کی کرن رہی ہے۔ اس مشکل صورتحال میں جب ہمارے نمبرز کی صورتحال آپ کے سامنے ہے پھر بھی اس کے باوجود پاکستان پیپلزپارٹی نے اسٹینڈ لیا۔ اس طرح سے اپنا جمہوری حق سے پیچھے نہیں ہٹے۔ پارلیمنٹ جو اس ادارے کے لئے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے جو اپنی جانیں دی ہیں اس ادارے کو مضبوط کرنے کے لئے دی ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے میں سمجھتاہوں اس وقت پاکستان کی پارلیمنٹ پاکستان کی تاریخ میں کمزور ترین پارلیمنٹ ہے تو ایسی سپیس میں ہم کردار ادار کر رہے ہیں یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے کہ یہ پارلیمنٹ کے طریقہ کار کو سبوتاز کررہے تھے، پارلیمنٹ کو انڈرمائن کر رہے تھے اس وقت ایک ہی جماعت تھی جو میری جماعت تھی پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنو ں کی جماعت تھی۔ جو ان کے سامنے ڈٹے اور ان کو کہا نہیں اگر آپ جمہوریت کے ساتھ کھیلیں گے تو پاکستان پیپلزپارٹی آپ کے ساتھ نہیں ہو گی۔ پاکستان پیپلزپارٹی اس ماحول میں سمجھتی ہے کہ جب آپ قانون سازی کرتے ہیں ۔ جب آپ مانتے ہو ایگزیکٹو کے پاس پاور ہے کہ وہ ایکسٹنشن دے تو پارلیمنٹ کے رولز کو فالو کرنا چاہیے۔ جو قانون بن رہا ہے وہ رولز آف لا کے لئے بہتر ہوگا۔











Attachments area




 

Attachments area