پاکستان پیپلزپارٹی کے پی کے جنرل سیکریٹری اور سابق ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی نتے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گزشتہ رات گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بجائے گرفتاریوں کے قبائلی علاقوں کے نوجوانوں سے مذاکرات کئے جائیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گرفتاریوں سے حالات مذید خراب ہوتے ہیں اور سیاسی مسائل کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔ یہ انتہائی احمقانہ اور قابل مذمت اقدام ہے کہ ریاستی جبر کے ذریعے قبائلی نوجوانوں کی آواز کو اس وقت دبایا جا رہا ہے جبکہ ڈائیلاگ کی اشد ضرورت ہے۔ صرف ایک روز قبل وزیر دفاع پرویز خٹک نے قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کو ڈائیلاگ کی دعوت دی تھی۔ اور جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کوئی کیوں رکاوٹ بنے گا۔ اب وزیردفاع کو قوم کے سامنے اس کی وضاحت پیش کرنی چاہیے۔ فیصل کریم کنڈی نے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں میں عوام کے تباہ شدہ گھروں کی تعمیر نو کی جائے تاکہ وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور یہ کام پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ منظور پشتین کی گرفتاری کی سے یہ مطالبہ ختم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے کے پی میں ضم ہونے کے بعد آخر قبائلی علاقے اب تک کیوں نو گو ایریا بنے ہوئے ہیں اور وہاں پولیس کا کام دیگر ایجنسیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کو قبائلی علاقوں میں تعینات کیا جائے، تباہ شدہ گھر تعمیر کئے جائیں ، تمام اسکول اور کالجوں کی تعمیر نو کی جائے اور قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے تمام لوگوں کو واپس آباد کیا جائے۔ فیصل کریم کنڈی نے یاد دلایا کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں سوات میں امن قائم کرنے کے بعد عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کو دوبارہ بسایا گیا تھا تو اب حکومت قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو دوبارہ ان کے گھروں میں آباد کیوں نہیں کر رہی۔