چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم چین میں محسور پاکستانیوں کے حوالے سے کافی پریشان ہیں۔ ہم نے قومی اسمبلی میں چین میں پھنسے پاکستانیوں کے مسئلے کو اٹھایا ہے۔ حکومت کے وزیر نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ چین میں پھنسے پاکستانیوں نے متعلق اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہاﺅس میں اپنے چیمبر کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش اپنے شہریوں کو واپس لا رہے ہیں مگر نہ جانے پاکستان کو کیا مشکلات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین میں پھنسے پاکستانیوںکے حوالے سے کوئی حکومتی ایکشن نظر نہیں آرہا ۔ حکومت اپنی ذمے داری ادا کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کراچی کے حوالے سے ایم کیو ایم کے مطالبات پر عمل نہیں کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے نظریات میں فرق ہے جہاں تک کراچی کے عوام کے مسائل کا تعلق ہے تو سب کو مل کر ان کو حل کرنا چاہیے۔ ایم کیو ایم کو سوچنا چاہیے کہ وہ کیوں ایسی جماعت کا ساتھ دے رہے ہیں جس نے کراچی کے شہریوں کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ عوام کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے آج تک عوام سے جو وعدے کئے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کر پانی کے منصوبوں پر کام کرے گی ۔ ڈی سیلینیشن پلانٹ اور K-4 منصوبوں کے وعدوں پر عمران خان نے یو ٹرن لیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نوکریاں دینے اور گھر بنا کر دینے کے وعدے بھی پورے نہیں کئے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ایم کیو ایم کراچی کے مسائل کے حل کی دعویدار ہے اور یہ بھی مانتی ہے کہ پی ٹی آئی نے وعدے پورے نہیں کئے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ ایم کیو ایم کے اختیار میں ہے کہ وہ وفاقی حکومت اور وزارتیں چھوڑے اور کراچی کے عوام کے مسائل حل کرے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو سلسلہ یہاں نہیں رکے گا۔ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف وفاق، پنجابا ور کے پی سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ پی ٹی آئی میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ ملک چلا سکے۔ پی ٹی آئی میں یہ بھی اہلیت نہیں کہ وہ اپنے اتحادیوں کو ساتھ چلا سکے۔ آئی جی سندھ کے حوالے سے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے درمیان اتفاق رائے پر ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ آئی جی سندھ کے حوالے سے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے درمیان مشاورت ہوئی ہے۔ آئی جی سندھ کے حوالے سے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے درمیان اتفاق رائے بھی پیدا ہوا۔ امید ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلی کے درمیان آئی جی سندھ کا فیصلہ ہوگا اور وزیراعظم اس سلسلے میں اپنے وعدے پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ سندھ میں قیام امن کے حوالے سے جو مسائل پیش آرہے ہیں وہ حل ہو سکیں گے۔ یہ تاثر نہیں آنا چاہیے کہ وفاقی حکومت جان بوجھ کر سندھ میں قیام امن کی صورتحال کو خراب کرنا چاہتی ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ملک میں ہمیشہ معاشی طور پر اجارہ داری کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم نے سوچا تھا کہ اپنے وعدوں کے مطابق پی ٹی آئی معاشی اجارہ داری کے ہتھکنڈوں میں ملوث نہیں ہوگی۔چینی کے معاملے میں جان بوجھ کر نااہل ڈپٹی وزیراعظم کو منافع دینے کے لئے ملک بھر میں دیگر سرمایہ داروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ آٹے کا بحران ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں بھی پاکستان میں غذائی بحران پیدا ہوا تھا۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم دوسرے ممالک سے خرید رہے تھے۔ صدر آصف علی زرداری نے صرف ایک سال میں گندم خردینے والے ملک کو گندم بیچنے والے ملک میں تبدیل کر دیا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جب سے پی ٹی آئی حکومت آئی ہے ہمارے کسانوں کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔ زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے مگر حکومت کے پاس زراعت کے لئے کوئی پالیسی نہیں ہے۔ ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ ہونا تھی مگر وہ ابھی اب تک نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم آٹا بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ آٹا بحران کا حکومت جو حل نکال رہی ہے دراصل یہ حل ہی نہیں ہے۔ دوسرے ممالک سے ڈیوٹی فری آٹا خریدنے سے پاکستان کی زراعت کو مزید نقصان ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ پنجاب اور سندھ میں گندم کی فصل تقریباً تیار ہے اور اب اسے عالمی مارکیٹ سے خریدی گئی گندم کا مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو دھاندلی کرکے زبردستی عوام پر مسلط کیا گیا ہے۔ ملک کی سیاسی جماعتوں میں جو بھی اختلافات ہو سب اس ایک نکتے پر متفق ہیں کہ عمران خان کو گھر جانا چاہیے۔ عمران خان کی غیرسنجیدگی یہ ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر کام نہیں کر سکتے۔ عمران خان کے تعینات کردہ بااثر افراد اگر چھٹی پر چلے جائیں تو ٹیکس اصلاحات کیسے لائیں گے؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان خود کہتے ہیں کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا ہے مگر وہ اپنے ایک بھی یار کے سربراہ کو بھگاتے رہتے ہیں۔