پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات و رکن اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور سنیٹر روبینہ خالدنے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اداروں کو تبادہ کرنے پر تلی ہے،انہوں نے پاک فوج اور جوڈیشری کو متنازعہ بنایا،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بدنام کرکے اس میں سےبغیر کسی سروے کے 8لاکھ لوگوں کو نکال دیا گیااور اس کی جگہ کفالت پروگرام کاآگاہ کر دیا گیا، کفالت کارڈ کا رنگ پی ٹی آئی کے پرچم کے رنگ جیسا ہے، ملکی معیشت کا دیوالیہ نکل چکا ہے،اخراجات میں کمی لانے کی بجائے قرضوںمیں 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ ہمیں 18ویں ترمیم کی حمایت کی سزا مل رہی ہے جبکہ نوجوانوں میں منشیات کا استعمال اور بچوں کیساتھ جنسی تشدد کے خلاف وزیر اعظم کے پاس کوئی پروگرام نہیں وہ صرف مرغیوں ،انڈوں اور کٹوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔سنیٹر روبینہ خالد،نرگس فیض ملک اور نذیر ڈھوکی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں ہر ادارے کی تباہ کاریاںآئیں ہیں جو ان کو نظر نہیں آرہیں۔ پی ٹی آئی کی سیاست کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ ہر ادارے کو گندہ کر رہے ہیں،پہلے سیاستدانوں اور سیاست کو گندہ کیا،بطور اپوزیشن انہوں نے پارلیمان اور الیکشن کمیشن کو بھی گندہ کیا،پاک فوج اور جوڈیشری کو متنازعہ بنایا،ملک کی پسی ہوئی عوام کو خراب کیا۔ملک اور غیر ممالک میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سراہا گیاجس کے ذریعے 80 لاکھ غریبوں کی مدد ہوتی تھی۔اس پروگرام کو بھی بدنام کیا گیا،ثانیہ نشتر کو جس پروگرام نے عزت دی اور اسکا چیئر پرسن بنایا گیا ،اس پروگرام کو بدنام کرنا شروع کر دیااور اس میں سے بغیر کسی سروے کے8 لاکھ لوگوں کو نکال دیا گیا۔اس پروگرام میں کچھ نام غلط طور پر شامل ہو سکتے ہیں تاہم اتنی تعداد میں غلط نام نہیں ہو سکتے،اس کیلئے انہیں پہلے سروے کروانا چاہیئے تھا۔انہوں نے کہا کہ اب حکومت کفالت پروگرام لیکر آئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ پروگرام سیاست سے بالاتر ہوگا لیکن کفالت پروگرام کے کارڈپر بظاہر قائد اعظم کا نام آئے گا تاہم اس کا رنگ پی ٹی آئی کے پرچم کے رنگ جیسا ہے۔حکومت سروے کرنیوالی این جی او کا نام بتائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ اس کو کتنی رقم دی گئی ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو شہید نے اپنے کردار اور سیاسی جدوجہد سے ملک کو عزت دی اور پہلی مسلمان خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے کئی پروگرام شروع کیئے،بی بی کے نام پر بیرونی دنیا میں بھی کئی ادارے موجود ہیں۔پی ٹی آئی چھوٹی سوچ کی عکاس ہے،ان کے اس اقدام سے پیپلز پارٹی کی کارکردگی اور شہید بی بی کی عزت میں کمی نہیں آئے گی بلکہ پی ٹی آئی کی کارکردگی پر حرف آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سال 2020 ریکوری کا سال ہے،سٹیٹ بنک کے گورنر کے مطابق انہوں نے ملکی معیشت کا دیوالیہ نکال دیا ہے،بجلی،تیل و گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا،غیر ملکی قرضوں کی تعداد سابقہ قرضوں سے کئی فیصد بڑھ چکی ہے۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں ،ہر طبقہ غریب سے غریب تر ہوجا رہا ہے۔اب شبر زیدی پھر بیمار ہو گئے ہیںریکوری کم ہے،خسارہ زیادہ ہے،بجٹ آنے والا ہے، اسے ڈاکٹر عاصم سے ٹیکا لگوائیں۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی جماعت میں مشاورت کیساتھ آرمی ایکٹ کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا تاہم اسمیں ہم نے ترامیم بھی جمع کروائی تھیں،ایران ،امریکہ بحران کی وجہ سے ہم نے اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کیا تھا۔چیف الیکشن کمشنر کیلئے حکومت کو اپنا نام واپس لینا پڑا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں 18ویں ترمیم کی حمایت کی سزا مل رہی ہے،سندھ حکومت کی مشاورت سے آئی جی سندھ نہیں لگایا جا رہا حالانکہ پنجاب میں آئی جی پانچ مرتبہ جبکہ اسلام ااباد میں آئی جی تین مرتبہ تبدیل ہو چکا ہے۔ہم نے اپوزیشن لیڈر کی واپسی کیلئے ن لیگ کو کہا ہے ،ہم نے پہلے بھی اپوزیشن کو اکٹھا کیا تھا اور اب بھی اپوزیشن کو اکٹھا کرینگے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کہا تھا کہ ہم اخراجات میں کمی لائینگے اگر وہ قرضوں میں کمی لاتے تو 40فیصد قرضہ زیادہ نہ بڑھتا۔سنیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ سپیشل ٹیکا وزیر اعظم کو لگ سکتا ہے ،باقی ٹیکے عوام کو لگ رہے ہیں،بینظیر بھٹو شہید کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ آپ عوام کے ذہنوں سے ان کا نام نہیں نکال سکتے۔یہ حکمران آکاش بیل کی طرح ملک سے چمٹ گئے ہیں اور انہوں نے اداروں کا بیڑہ غرق کر دیا ہے،یہ اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آ جائیں اور کسی اور کے منصوبے پر اپنی تختی نہ لگائیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں منشیات کا استعمال اور بچوں کیساتھ جنسی تشدد کے خلاف وزیر اعظم کے پاس کوئی پروگرام نہیں وہ صرف مرغیوں ،انڈوں اور کٹوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔
  
 --