پاکستان پیپلز پارٹی نے آئی ایم ایف ٹیم کی طرف سے بجلی گیس قیمتوں میں مزید اضافے اور 200ارب کے نئے ٹیکسوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ ملک عملی طور پر آئی ایم ایف کا ذیلی دفتر بنا دیا گیا ہے۔ ٹیکسوں میں جکڑی قوم پر 200ارب کے نئے ٹیکسوں کا حکمنامہ مسترد کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کی شرائط معائدات پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی قومی و ملکی مفاد کے خلاف کسی بھی نئے حکمنانے کو تسلیم نہیں کریگی۔ نیر بخاری نے مزید کہا کہ آئی ایف اہم حکام پاکستانی آئی ایم ایف ملازمین کو تعمیل احکامات دینے آئے ہیں “انجمن غلامان” آئی ایم ایف ملک و ملت کیلئے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ نیر بخاری نے مزید کہا کہ حکمران اپنے اللے تللوں کا مزید بوجھ عوام الناس پر ڈالنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی خزانے کی کنجیاں پہلے ہی آئی ایم ایف کے حوالے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آٹا دال چینی سبزی عوام الناس کی پہنچ سے دور کر دی گئی ہے۔ نیر بخاری نے کہا کہ بجلی گیس قیمتوں میں مزید اضافہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ غریت خاتمے کے جھوٹے دعویدار دراصل غریب مکاو ¿ پالیسی پر گامزن ہیں اورملک کو بیرونی قرضوں میں جکڑنے والے ملک و ملت کی مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔ نیر بخاری نے کہا کہ افراط زر میں اضافہ اندرونی عوامل کے باعث ہےپہلے ہی بیرونی اور اندرونی ہوشربا قرضے لئے جا چکے ہیں۔