چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ نہیں ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے وزیراعظم خود کشی کریں لیکن عوام کو ریلیف دے ، ورنہ گھر جائیں۔ ہم پی ٹی آئی کی آئی ایم ایف سے ڈیل کو نہیں مانتے غریب عوام سے مل کر اس ڈیل کو پھاڑ دیں گے آئی ایم ایف کے نمائندے پاکستان آتے ہیں اور آئی ایم ایف سے ڈیل کر کے چلے جاتے ہیں۔وزیراعظم عوام کا معاشی قتل کر رہے ہیں ، اور پھر کہتے ہیں کہ سکون قبر میں ملے گا۔ 50 ہزار یوٹیلیٹی سٹور کا حال بھی 50 ہزار گھروں کی طرح کا ہو گا۔حکومت نے 15 ماہ کے دوران 11 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا ہے ، پیپلزپارٹی کے دور میں 5 ارب جبکہ ن لیگ کے دور میں 8 ارب جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں 25 ارب روپے روزانہ قرض لیا گیا ہے۔ حکومت بی آئی ایس پی کو سبوتاز کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو سب سے کامیاب پروگرام ہے۔ جس کو دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیابلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اس بچاری بے بس بے اختیار پارلیمنٹ میں اہم ایشوز مہنگاہی پر بحث کی جا رہی ہے۔ آج ایوان میں چھوٹے وزیر بیٹھے ہیں لیکن فنانس کا وزیر موجود نہیںہے۔ مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے جب سے ےہ حکومت آئی ہے عوام کا جینا حرام ہو گیا ہے جب حکومت آئی تو بے روز گاری تھی غربت تھی لیکن اب بڑھ گئی ہے۔ ےہ حقیقت ہے کہ حکومت کے اپنے ادارے شماریات، سٹیٹ بنک و دیگر ادارے کہ رہے ہیں کہ مہنگاہی اس طرح بڑھ گئی ہے کہ 15.5 فی صد تک پہنچ گئی ہے فوڈ ایٹم 7.8 فیصد مہنگے ہو گئے ہیں۔ٹماٹر 100.8 فیصد پیاز 100.35 ،فیصد مہنگے ہو گئے ہیں جبکہ گیس 55 فیصد مہنگا اور فیول 56 فیصد مہنگا کر دیا گیا ہے۔ عوام بچوں کو کھانا کھلائیں یا بجلی و گیس کے بجلی کے بل ادا کریں ہم عوام کے اس معاشی قتل پر خاموش نہیں رہ سکتے انہوں نے کہا کہ جو کسی اور طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں وہ کہ رہے ہیں کہ ملک میں مہنگائی نہیں ہے عوام کا معاشی قتل نہیں کیا گیا موجودہ وزیراعظم عمران خان اپنے جلسوں میں خطاب کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ جب مہنگائی ہوتی ہے تو اس وقت کا وزیراعظم کرپٹ ہوتا ہے لیکن جب نااہل نالائق اور سلیکٹڈ وزیراعظم ہوتا ہے تو اس کو عوام کا درد اور احساس نہیں ہوتا اور وہ آئی ایم ایف کے سامنے جھک جاتا ہے وزیراعظم کہتے تھے کہ ہم قرض نہیں لیں گے خود کشی کر لیں گے لیکن سٹیٹ بینک بتا رہا ہے کہ 15 ماہ کے دوران 11 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا ہے۔گزشتہ 61 سالوں میں 6 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا جبکہ گزشتہ 15 ماہ کے دوران 11 ہزار روپے کا قرضہ لیا گیا ہے پی پی پی دور میں 5 ارب ، ن لیگ کے دور میں 8 ارب جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں 25ارب روپے روزانہ کے حساب سے قرض لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وزیراعظم سے مطالبہ نہیں کہ وہ خود کشی کریں لیکن عوام کو ریلیف دیں ورنہ گھر جانا پڑے گا۔ ایف بی آر کہتا ہے کہ ہمارا ٹیکس خسارہ پور انہیں ہو رہا گزشتہ سات ماہ میں 400 ارب کا ٹیکس کم وصول ہوا ہے جب ایسے نالائق اور سلیکٹڈ لوگ ہوں گے تو ٹیکس کی وصولی نہیں ہو سکتی موجودہ حکومت کا بجٹ پی ٹی آئی آئی ایم ایف کا بجٹ ہے عوام اس بجٹ کو تسلیم نہیں کرتے ےہ پاکستان کی معاشی بقا کا سودہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کہتی تھی کہ ہم لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے لیکن اس نے عوام کے لئے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ حکومت نے غربت اور بے روز گار کے خاتمے کے بجائے اس میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اب 84 ملین لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں بلاول بھٹو نے کہا کہ بی آئی ایس پی پروگرام کو سبو تاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ےہ شہید بے نظیر بھٹو کے نام کا پروگرام ہے جو سب سے کامیاب پروگرام تھا جس کو دنیا مانتی ہے عمران خان کی ساری سیاست کسی نہ کسی آئی ایس آئی چیف کی مہربانی سے چلی ہے اگر کسی چیف کی بیان کی ضرورت پڑی تو میں وہ بھی پیش کر سکتا ہوں بے نظیر بھٹو نے عوام کے لئے شہادت قبول کی لیکن عمران خان جیسا چھوٹا آدمی بی آئی ایس پروگرام کو برداشت نہیں کر سکتا اتنا بڑا آدمی ہو کر بھی ایک نام اور تصویر کو بھی برداشت نہیں کر پا رہا اس پر سپیکر نے کہا کہ وہ ہمارے منتخب وزیراعظم ہیں ان کو چھوٹا نہ کہیں جس پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم ان کو وزیراعظم مان لیتے ہیں لیکن سپیکر کا کام نہیں ہوتا کہ وہ وزیراعظم کا دفاع کرے انہوں نے کہا کہ سندھ کا ایک سیاسی ٹولہ وزیراعظم کا اتحادی بنا ہے جن پر بے نظیر شہید کے بہت احسانات ہیں ان میں سے اکثر کو وزیر مشیر سینیٹر بنایا تھا لیکن احسان فراموش آج عمران خان صاحب کا ساتھ دے رہے ہیں بی آئی ایس پی کا پروگرام کا نام تبدیل کر کے احساس کے نام پر شہیدوں کے کام کا کریڈٹ لیا جا رہا ہے۔موجودہ حکومت نے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈال کر آئی ایم ایف سے ڈیل کی ہے آئی ایم ایف کے نمائندے آتے ہیں اور آئی ایم ایف سے ڈیل کر کے چلے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ عوام کے معاشی حقوق کا تحفظ کرنا حکومت کی زمہ داری ہے لیکن جب حکومت کرنے والے نالائق اور نااہل ہوں تو آئی ایم ایف کی پالیسیوں کو بھگتنا پڑتا ہے انہوںنے کہا کہ حکومت جو قرضے لے رہی وہ کس طرح واپس کرنے ہیں وہ سب عوام کو برداشت کرنے پڑیں گے کسانوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کر کے کسانوں کا قتل کیا جا رہا ہے وزیراعظم قتل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ قبر میں سکون ملے گا۔ اب حکومت کوشش کرے گی کہ منی بجٹ لے کر آئیں 50 ہزار یوٹیلیٹی سٹور بنانے کا وہی حال ہو گا جس طرح 50 ہزار گھر بنانے کا کہا گیا تھا انہوں نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی آئی ایم ایف کی ڈیل کو نہیں مانتے غریب عوام سے مل کر اس ڈیل کو پھاڑ دیں گے۔