چیئرمینبلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اعلی عدلیہ کے ججوں کی جاسوسی کا معاملہ انتہائی سنگین ہے۔حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ حکومت قوم کو بتائے کہ چیف جسٹس اور اعلی عدلیہ کے ججوں کی جاسوسی کیوں کی جارہی ہے۔اٹارنی جنرل کے استعفے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے جو اعلی عدلیہ کی آزادی پر حملہ کے مترادف یے۔ اگر خط نہ لکھنے پر وزیراعظم کو گھر بھیجا جاسکتا ہے تو ججوں کی جاسوسی کرنے پر ا نہیں کیوں گھر نہیں بھیجا جاسکتا۔ چئیرمن بلاول بھٹو نے کہا کہ اس حکومت نے بالا کوٹ حملے کا بھارتی پائیلٹ چھوڑ دیا تھا، احسان اللہ احسان انکی جیل سے بھاگ گیاہے۔دراصل یہ حکومت سید اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے نمائشی اقدامات کر رہی ہے اس طرح انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔۔بلاول بھٹوزرداری کا کہنا تھا کہ صحافی عزیز میمن کی فیملی کی رضامندی سے تفتیشی افسر لگا دیا ہے وہ جہاں جس طرح کی تحقیقات چاہیں گے ہم انصاف دلائیں گے۔۔قبل ازیں چیئرمن بلاول بھٹو زرداری نے سابق ایم این اے بیگم بیلم حسنین کے گھر ظہرانے میں شرکت کی۔ظہرانے پر پارٹی رہنماﺅں کے ساتھ مشاورت بھی کی۔اس موقع پر قمر زمان کائرہ ، چودھری اسلم گل چودھری منظور احمد ، حسن مرتضی عزیز الرحمان چن اور دیگر شریک تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پنجاب میں ڈکٹیٹر ضیاالحق کے دور میں بیگم نادرہ خاکوانی کی یہ رہائش گاہ مزاحمت کا گڑھ تھی، پیپلزپارٹی اور لاہور والوں کا تاریخی رشتہ ہے، لاہور والوں نے ہمیشہ تاریخی کردار ادا کیا ہے، پی ٹی آئی حکومت کی بدترین معاشی پالیسیوں نے لاہور والوں کی زندگیاں مشکل بنادی ہیں، ہم نے پہلے دن سے حکومت کو آئی ایم ایف کے متعلق مشورہ دیا۔جب آپ مزاکرات کرتے ہو تو اپنےلک کا عوام کے حقوق کے تحفظ کیا جاتا ہے۔اس حکومت نے ڈیل میں عوام کے معاشی حقوق پر سمجھوتہ کیا ہے۔انہوں نے ایک سال آئی ایم ایف میں جانے پر ضایع کیا۔جب آئی ایم ایف میں گئے تو پھر ان کے تمام شرائط مان لئے۔حکومت نے آئی ایم ایف کے غلط ٹیکس ٹارگٹ مانے اور بوجھ عوام پر ڈالا۔ہم عالمی بحران۔ اور دو دو سیلابوں اور دہشتگردی کے باوجود آئی ایم ایف کے شرائط نہیں مانے۔ہم نے عوام کے معاشی حقوق پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا اس حکومت نے غیرحققیقی وعدے کئے ہیں ، جو وعدے کئے وہ پورے نہیں ہو سکتے۔ہم چاہتے ہیں کہ معیشت کو ڈاکیومنٹ ہونا چاہئے مگر ایک دن میں ڈنڈے سے معیشت کو ڈاکیومنٹ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے زبردستی کر کے معیشت کی جان نکال دی ہے۔اگر کوئی ڈاکیومنٹڈڈ نہیں ہے تو وہ چور ہے وہ بزنیس کر رہا ہے یہ طریقہ ہے کہ ایف بی آر نہیں چلی تو اب ایم آئی اور آئی ایس آئی کو لگانے کا اعلان کیا ہے۔اس حکومت کی کرپشن جو ہے اس کی بھی تو تحقیقات ہونی چاہئے۔ وزیر اعظم بھی تو ہاﺅس میں نہیں آ رہا پہلے تو انہیں بدلیں اپوزیشن لیڈر نہیں آتے تو ان کا فیصلہ اپوزیشن کرے گی۔ووہان کے متعلق ہمارا موقف واضح ہے سندھ حکومت نے بھی وفاق کو لکھا ہے شہریوں کو واپس لانے کیلئے۔زرداری صاحب کو چپ نہیں لگی، صدر زرداری اس حکومت کے جیل میں تھے۔طبی سہولیات کا حق نہیں دیا گیا صحت کو شدید اشوز بنے جن کا علاج ہو رہا ہے عزیز میمن پر جل بھی کہا تھ خاندان کا مطالبہ جو بھی ہوگا۔ خاندان عدالتی کمیشن جا آزاد پولیس افسر کی تحقیقات چاہیں گے وہ ہوگا۔خاندان کے کہنے پر تفتیش کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ عجیب بات ہے کہ گورنر سندھ ایسی باتیں کر رہے ہیں اس قتل کیس میں۔قتل کی تحقیق کی جائے تو اہم کردار آئی جی کا ہوتا ہے۔ہم کافی وقت سے آئی جی بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سندھ میں امن و امان کی حالات 15 ماہ میں خراب ہو گئے ہیں۔ حکومت نے۔عیشت کا بیڑا غرق کیا ہے اس سے امن و امان کی حالات خراب ہوئی ہے۔ہماری ایم پی اے قتل ہوئیں ، صحافی قتل ہوئے مگر آئی جی تبدیل نہیں ہوتے۔کاش ہمارے ہاں بھی ایک بھینس گھنس جاتی تو ہمارا آئی جی بھی بدل جاتا۔نالائق ، ناکام نااہل وزیر اعظم جسے نہ سیاست نہ حکومت نہ معیشت کا پتا ہے۔جب تک یہ وزیراعظم نہیں تبدیل ہوگا حالات مزید خراب ہوں گے۔کسی کو بھی روزگار ملے گا اس حکومت میں حقوق ملیں گے۔اس حکومت میں بالاکوٹ حملے کا بھارتی فوجی بھی چھوڑ دیا جاتا ہے۔احسان اللہ احسان جیل سے بھاگ جاتا ہے۔ یہ حکومت ایف اے ٹی ایف سے نکلنے کیلئے نمائشی اقدامات کر رہی ہے۔نمائشی اقدامات سے انتہا پسندی اور دہشتگردی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔اٹارنی جنرل کے استیفعے جو بات سامنے آ رہی ہے وہ عدلیہ کی آزادی پر حملہ ثابت کرتی ہے۔حکومت قوم کو بتائے کیا ہمارے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کو حکومت جاسوسی کر رہی ہے۔حکومت کو جواب دینا پڑے گا ، یہ آزاد عدلیہ پر سنگین حملا ہے۔اگر حکومت اعلی عدلیہ کے ججز کی جاسوسی کر رہی ہے تو حکومت کو جانا ہوگا ۔ اگر خط نہ لکھنے پر وزیراعظم کو گھر بھیجا جا سکتا ہے تو پھر اس حکومت کو استیعفی دینا ہوگا ۔ بطور چیئرمن پی پی پی مطالبہ کرتا ہوں کہ حکومت ایوان اور قوم کو بتائے کہ کیا ججوں کی جاسوسی کی جا رہے ہے تو کیوں ؟