پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمنٹ اور الیکشن کے بعد عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی شروع کردی ہے۔اٹارنی جنرل کے استعفے میں دیکھنا ہوگا کہ وزیراعظم اور صدر کی مداخلت ہے کہ نہیں ،اس حوالے سے جی آئی ٹی بننی چاہئے۔اٹارنی جنرل انور منصور نے حکومت کے کہنے پر نہیں پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر استعفیٰ دیا۔اٹارنی جنرل کے ساتھ ساتھ وزیرقانون فروغ نسیم اور شہزاد اکبر کو بھی گر جانا چاہئے۔آرڈیننس صدارتی فیکٹری سے آرہے ہیں اور پارلیمٹ کو مفلوج بنا دیا گیا ہے۔وزیراعظم انڈے اور کٹوں کی سیاست کر رہے ہیں جبکہ ایف بی آر کے چیئرمین لاپتہ ہوگئے ہیں۔حکومت نے سوشل میڈیا کے حوالے سے رولز لاکر پارلیمنٹ پر حملہ کیا ہے،اس کو بل کی صورت میں لایا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔نفیسہ شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ،الیکشن کمیشن،اپوزیشن اور صوبہ سندھ کے بعد اب عدلیہ سے محاذ آرائی شروع کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل انور منصور کہتے ہیں کہ میں نے استعفی پاکستان بار کونسل کے کہنے پر دیا ہے لیکن وزیرقانون وانصاف کہتے ہیں کہ انہوں نے استعفیٰ ہماری وجہ سے دیا ہے،لیکن جو انہوں نے بیان دیا ہے وہ ہمارا موقف نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں صرف اٹارنی جنرل کو نہیں بلکہ وزیرقانون اور شہزاد اکبر کو گھر جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر جاسوسیاں کررہے ہیں تاکہ ان کو کوئی انعام ملے جبکہ احتساب ایک آزاد ادارہ ہے حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔شہزاد اکبر ایسا شکاری ہے جو انعام کیلئے مارا مارا پھر رہا ہے۔اٹارنی جنرل کے استعفے میں دیکھنا ہوگا کہ وزیراعظم اور صدر کی مداخلت ہے کہ نہیں ،اس حوالے سے جی آئی ٹی بننی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت مزید خرابی کی جانب گامزن ہے،چیئرمین ایف بی آر لاپتہ ہیں۔نفیسہ شاہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو واپس آکر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے،اس وقت اپوزیشن کا کردار بلاول بھٹو زرداری ادا کر رہے ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں جاکر عوام کو آگاہ کر رہے ہیں۔پارلیمنٹ کو مفلوج بنا کر ایوان صدر کو آرڈیننس کی فیکٹری بنا دیا ہے جبکہ ملک میں دوسری فیکٹریاں بند ہورہی ہیں۔ایک دن سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے 13سے14قوانین پاس کردئیے جبکہ اپوزیشن پارلیمنٹ اور کمیٹیوں میں بھی احتجاج کر رہی ہے۔سوشل میڈیا کے حوالے سے حکومت نے رولز لاکر پارلیمنٹ پر حملہ کردیا ہے،رولز کی بجائے بل لانا چاہئے جبکہ پی ٹی آئی خود سوشل میڈیا کی طاقت سے اقتدار میں آئی ہے۔پلوشہ خان نے کہا کہ عدلیہ کے وقار کیلئے ایک تحریک شروع کی جانی چاہئے۔عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی پر اپوزیشن پارٹیوں کو ملکر باہر نکلنا چاہئے۔اسلام آباد میں دفع 144نافذ ہے،جب عوام نکلے گی تو یہ دفع 144کچھ نہیں کرپائے گی،حکومت کے ساتھ پانچ لوگ بھی نہیں ہوں گے۔پہلے سندھ میں فواد چوہدری کو بھیجا گیا،پھر جہانگیر ترین اور شہزاد اکبر کو بھیجا گیا تاکہ پیپلزپارٹی کو کمزور کیا جاسکے لیکن وہ سازش کرنے میں ناکام رہے۔فروغ نسیم حکومت کا کیس لڑنے کو تیار ہیں لیکن وزارت چھوڑنے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں لوگوں کی جانوں سے کھیلا جارہا ہے۔گومل یونیورسٹی کے طلبائ کے ساتھ مودی حکومت کی طرز کا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔حکومت کے خلاف ہر شروع ہونے والی تحریک میں پیپلزپارٹی صف اول پر کھڑی ہوگی۔انہوںنے کہا کہ حکومت نے حج اتنا مہنگا کردیا ہے کہ انسان اپنا گردہ فروخت کرکے ہی جاسکتاہے،ریاست مدینہ میں تو اب حج کرنے والوں کی راہ میں بھی روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔اب ان ہا ﺅس تبدیلی بھی ہوسکتی ہے اور فوری الیکشن کا بھی آپشن موجود ہے۔