اسلام آباد(6مارچ 2020)

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے LUMS لاہور میں اٹھارہویں ترمیم اور وفاقیت کے موضوع پر ایک ڈائیلاگ میں حصہ لیا اور طلباءکے سوالات کے جوابات دئیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف النوع پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں اور وفاقیت ایک ایسا نظام ہے جو ہمارے جیسے ممالک کے لئے سب سے بہتر ہوتا ہے۔ ہم نے پاکستان میں ماضی میں ون یونٹ کا نظام اپنایا جس کے نتیجے میں ہمارا ملک دو لخت ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں اپنے مفاد کی ترمیم کی جس کی وجہ سے ہمارا آئین مسخ ہو کر رہ گیا۔ یہاں تک کہ ضیاءکے دور میں ہمارا آئین دنیا کا وہ واحد آئین تھا جس کے اندر ڈکٹیٹر کا نام شامل تھا۔ 2010ءمیں تمام جمہوری سیاسی پارٹیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئین کو اس کی اصل شکل میں واپس لایا جائے جس کے لئے آئین میں اٹھارہویں ترمیم لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 1973ءکی طرح 2008ءبھی ایک مشکل وقت تھا ، 2008ءمیں دہشتگرد حملے کر رہے تھے اور 2007ءکے آخری دنوں میں میری والدہ کو دہشتگردوں کے شہید کر دیا۔ اس وقت دنیا بھر کے جرائد پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دے رہے تھے۔ آج ہم اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ علیحدگی پسند تحریکیں بھی پاکستان میں سرگرم تھیں ۔ اٹھارہویں ترمیم اور اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کر دینے سے پاکستان دہشتگردی اور علیحدگی پسندی کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم سے قبل تعلیم کا حق، اطلاعات کا حق حقوق میں شامل نہیں تھے۔ اٹھارہویں ترمیم سے ہمیں پاکستان میں جج مقرر کرنے کا ایک نسبتاً شفاف نظام قائم کرنے میں کامیابی ہوئی۔ انہوںنے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ وہ بیوروکریٹس فائدے میں رہتے ہیں جو منتخب نمائندوں کے قریب ہوتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے مزدوروں کے حقوق اور تعلیم اور صحت کے حقوق اٹھارہویں ترمیم سے پہلے بہتر تھے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کو نچلی سطح پر لانے کے لئے سارے صوبے ایک ہی طرح سے پرعزم تھے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اپنے قوانین بنانے تھے۔ وفاقی حکومت اپنی مرضی سے ہمارے تعلیمی نظام یا صحت کے نظام کو متاثر نہیں کر سکتی اور دونوں شعبے صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔ ہم اس بات پر بحث کر سکتے ہیں کہ مقامی حکومتیں کیسی ہوں اور ان کے کیا اختیارات ہوں اور سندھ میں بھی اس ضمن میں بہتری ہی ہو سکتی ہے لیکن سندھ اس ملک کا وہ واحد صوبہ ہے کہ جس میں مقامی حکومتوں کا نظام موجود ہے۔ پاکستان کی شناخت مختلف تہذیبوں، زبانوں، مذاہب سے مل کر بنی ہوئی ہے۔ میری نظر میں پاکستانی شناخت قائد اعظم محمد علی جناح کی پاکستان کے لئے جدوجہد کے ساتھ اتنی ہی ہے جتنی انڈس ویلی سیویلائزیشن کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور گلگت میں رہنے والا شخص اتنا ہی پاکستانی ہے جتنا پاکستانی گوادر کا باسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی چالیس فیصد آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے اور جتنی نقل مکانی کراچی میں نظر آتی ہے پاکستان کے کسی دوسرے شہر میں نظر نہیں آتی۔ کراچی سارے پاکستان کے لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہے اور اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ اب اتنے سارے نقل مکانی کرکے آئے ہوئے لوگ کہاں رہ سکتے ہیں۔ اس لئے کراچی میں کچی آبادیاں بے تحاشہ ہیں۔ اب اس کا مقابلہ کس طرح سے کیا جا سکتا ہے؟ اب ہمیں ان کو ساری سہولیات مہیا کرنی ہیں جو ان کا حق ہے۔ کچی آبادیوں کے خلاف تاریخی طور پر ایک معاندانہ رویہ پایا جاتا ہے۔ عدلیہ نے کچی آبادیوں کو مستقل کرنے پر پابندی لگا دی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس پالیسی میں نقائص ہیں کیونکہ ہم کچی آبادیوں میں رہنے والے لوگوں کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ جب تک ہم ان لوگوں کو مرکزی دائرے میں نہیں لائیں گے یہ مسئلہ موجود رہے گا۔ مرکزی دائرے کا مطلب ہے کہ ان آبادیوں کو مستقل کرنا۔ اگر کسی کا والد اور دادا اسی جگہ رہتے ہوئے آئے ہوں اور اپنے تمام بل ادا کر رہے ہوں ہم ان سے راتوں رات یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ تمہارا گھر نہیں ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم صوبوں اور وفاق کے درمیان تعاون اور سہولت کاری چاہتے ہیں۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ عدلیہ کے کچھ فیصلے آئین اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کی بجائے اسے کمزور کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کی حکومتوں کے درمیان پولیس کے آئی جی کی تقرری پر تنازعات کے متعلق سپریم کورٹ کا مختصر حکم موجود ہے کہ یہ صوبے کا اختیار ہے کہ وہ اپنا آئی جی منتخب کرے لیکن جب اسی فیصلے کا تفصیلی فیصلہ آتا ہے تو اس میں کہا جاتا ہے کہ آئی جی مقرر کرنا وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس قسم کے متنازعہ فیصلے کنفیوژن پیداکرتے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے گزشتہ انتخابات میں اپنی نشستوں کی تعداد پہلے سے دوگنی کر لیں لیکن ابھی ہمیں بہت بڑا سفر طے کرنا ہے۔ یہ کہنا کہ پیپلزپارٹی شہری علاقوں میں مقبول نہیں ہے عجیب سی بات لگتی ہے کیونکہ بنیادی طور پر پیپلزپارٹی وہ واحد پارٹی ہے جو نچلے طبقات کی تاریخی طور پر حمایت کرتی ہے، غریبوں اور کچی آبادیوں میں رہنے والے شہروں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزدور یونینیں ختم کر دی گئیں اور پاکستان میں طلباءیونین پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ وہ اس لئے کہ پیپلزپارٹی مزدوروں اور طلباءکے ساتھ ہے اور مزدور اور طلباءپیپلزپارٹی کے ساتھ ہیں اور یہ دونوں طبقات شہروں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہر بات پر لڑتے تھے پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم انتخابات کروائیں گے اور منتخب نمائندے بحث و مباحثے کے بعد مسائل حل کریں گے اور آپس میں لڑنا کم کریں گے اور یہی وہ سبق ہے جو جمہوریت میں پڑھایا جاتا ہے اور انتخابات اور عوامی نمائندے تنازعات حل کرنے کا طریقہ کار ہوتے ہیں۔