پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی معاشی پالیسی میں فرق نہیں۔ تحریک انصاف کے پاس کوئی معاشی پالیسی نہیں۔ معیشت کے بارےمیںں ن لیگ بھی جو بتاتی ہے درست نہیں۔، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطابق یہ تنقید بطور پارٹی مسلم لیگ نون پر نہیں بلکہ یہ معاشی پالیسیوں سے متعلق مثبت تنقید ہے، مسلم لیگ ن والے بھی ادھار کے پیسے پر معیشت چلاتے ہیں، مسلم لیگ ن کا معیشت چلانے کا اپنا طریقہ ہے، نواز شریف کے دور میں بھی سندھ کو پورا حق نہیں دیا گیا،انہوں نے کہا کہ نیب ایف بی آر اور ایف آئی اے کے زور پر ٹیکس اکٹھا نہیں ہو سکتا، اگر ہماری حکومت دوبارہ آئی تو آئی ایم ایف سے گفت و شنید کرکے معاملات بہتر کریں گے۔، پاکستان کی زیادہ تر معیشت غیر دستاویزی ہے، تحریک انصاف کی حکومت کے پاس معاشی بحران کے حل کا کوئی پلان نہیں، حکومت تذبذب کا شکار ہے، پہلے کہا گیا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے پھر چلے گے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مشکل فیصلے لیتے ہوئے غریب طبقے کا خیال رکھے، 10 سال گزر گئے ہیں نہ پچھلی حکومت اور نہ یہ حکومت کوئی معاشی منصوبہ لے کر نہیں آئی، دونوں عام آدمی پر بوجھ ڈالتی رہی ہیں، 2018ئ کے الیکشن میں بتایا تھا کہ ہم معاشی بحران کی طرف جا رہے ہیں، ہمیں اپنے مقامی معاشی ماہرین کو سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے، سیاست تھوڑی دیر کیلئے چل سکتی ہے لیکن حقیقت کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوںنے پیپلز پارٹی پنجاب کے زیر اہتمام معیشت پر قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے معاشی ماہرین ڈاکٹر حفیظ پاشا۔شاہد کاردار ،قیصر بنگالی اور ڈاکٹر قیس اسلم نے خطاب کیا۔شرکائ میں چوہدری اعتزاز احسن، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور احمد، نفیسہ شاہ، سید حسن مرتضیٰ، ملک عثمان اوراسلم گل سمیت پیپلز پارٹی کے رہنما?ں کی کثیر تعداد شامل تھی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت نے 16 مہینے میں عوام کے معاشی قتل کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کیا۔عام آدمی، مزدوراور کسان معاشی بدحالی کا شکار ہوچکا ہے، پیپلز پارٹی نے اپنی شرائط پر آئی ایم ایف سے ڈیل کی لیکن عوام پر بوجھ نہیں ڈالا، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد ممکن نہیں، معیشت کا سانس تک نکال لیا گیا ہے، ہمیں پاکستان کو ڈاکیومینٹ معیشت کی طرف لے کر جانا ہے،ایک سال میں پاکستان کی معیشت کو کیسے ڈاکیومینٹ کیا جا سکتا ہے؟ گورنر اسٹیٹ بینک اور وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے لگائے ہوئے ہیں، آئی ایم ایف والے آ کر اپنے ہی نمائندے سے گفتگو کر کے چلے جاتے ہیں، سفید پوش طبقے سے پوچھیں کہ وہ زندگی کس طرح گزار رہا ہے، وفاق سندھ کو اس کا مکمل حصہ نہیں دے رہا، ہم حکومت میں آ کر منصوبہ بندی نہیں کریں گے کیونکہ ہمیں آج بھی معلوم ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، آصف زرداری کا نعرہ تھا ایڈ نہیں ٹریڈ، ہم کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان، ایران اور بھارت کے ساتھ تجارت نہیں کر سکتے، معاشی حالات کو بہتر بنانے کےلئے ہمسایہ ممالک سے تجارت کے سوا کوئی راستہ نہیں، حکومت نے زرعی ملک کو گندم درآمد کرنے والا ملک بنا دیا ہے، ہمیں عوام کو معیشت میں اسٹیک ہولڈرز بنانا ہو گا، معیشت اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک یہ چند کاروباری افراد کا تحفظ کرے، سندھ نے ایک سال کے علاوہ ہر بار اپنا ٹیکس جمع کرنے کا ہدف پورا کیا،سندھ کی سالانہ ٹیکس جمع کرنے کی شرح 22 فیصد ہے، شہری چور نہیں ہیں ٹیکس کا نظام چور ہے، ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے، ہمیں معاشی انصاف کی طرف جانا پڑے گا۔قبل ازیں سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت نے 80 فیصد ٹیکسز کا بوجھ عوام پر ڈالا، انکم ٹیکس کے نظام میں معمولی تبدیلی آئی ہے، حکومت نے امیر لوگوں کو 1200 ارب روپے کی چھوٹ دی رکھی ہے،آئی ایم ایف کے پاس جانا حکومت کی مجبوری تھی، ملک کی تاریخ میں پہلی بار 3200 ارب روپے کی سود کی ادائیگی ہو گی، وفاق کے سارے خرچے قرضوں سے پورے ہو رہے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس اصلاحات لائے، ان اصلاحات کا بوجھ امیر افراد پر پڑنا چاہیے نہ کہ عوام پر،ہمارا آئی ایم ایف کے ساتھ تحریری معاہدہ ہے، 900 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائیں گے۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اپنے خطاب میں کہاکہ معاشی خود مختاری نہ ہو تو سیاسی خود مختاری بھی ختم ہو جاتی ہے، اسی لئے سعودیہ عرب نے کہا کہ ملائشیا میں کانفرنس میں شرکت نہ کریں، معیشت اتنی کمزور ہے کہ مزید ٹیکس نہیں لیا جا سکتا، مزید ٹیکس لیں گے تو اور کاروبار بند ہو جائیں گے،ہم 100 ڈالر برآمد کرتے ہیں تو 230 ڈالر کی چیزیں درآمد کرتے ہیں، ہمیں مہنگی چیزوں کی درآمد پر پابندی لگانا ہو گی، صنعت کار کارخانے بند کر کے اسٹاک ایکسچینج میں پیسہ لگا رہے ہیں، حکومت کی پالیسیوں نے پروڈکٹو معیشت کو کسینو پالیسی بنا دیا ہے، نیشنلائزیشن کی پالیسی نے اس ملک کی معیشت کو سہارا دیا، نیشنلائزیشن نے معیشت کو نقصان پہنچایا یہ بالکل جھوٹ ہے، پاکستان وسائل کے اعتبار سے امیر ملک ہے لیکن ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ملک اس نہج پر پہنچا ہے۔ ڈاکٹر شاہد حفیظ کاردار سابق وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میںکہاکہ مانیں یا نہ مانیں آج ملک میں آئی ایم ایف پروگرام ہے ، ملک میں یہ مسائل آج کے نہیں ہے ، 35سال کا ملبا راتوں رات ٹھیک نہیں ہو سکتا ،مسئلے کا حل تھا لیکن ہمیں اصلاحات کیلئے وقت ملتا ، ملک میں اس وقت 68 ود ہولڈنگ ٹیکس لگے ہوئے ہیں، ٹیکس کے نظام کو پیچیدہ بنا دیا گیا ہے جس سے سب کو دشواری ہو رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سب سے بڑے قرضے لینے والا ملک پاکستان ہے ، ہمیں اپنے خرچے کم کرنے کےلئے قرضے لینا ہو ں گے، کیونکہ قرضے بڑھنے سے نقصان معیشت کو ہو رہا ہے ، حکومت نے تینتالیس ڈیوڑن کے باعث حجم بڑھایا ، دفاع کا خرچہ ان پانچ ماہ میں 554ارب ارب رہا ، ہم نے سود کی شرح روپے کی قدر کے دفاع کےلئے بڑھائی ، اسحاق ڈارنے مارکیٹ میں ڈالر پھینک کر روپے کو بچانے کی کوشش کی لیکن سود کی شرح کم کئے بغیر قرضے واپس نہیں ہو سکتے اسی طرح بڑے زمینداروں پر ٹیکس لگا کر معیشت نہیں چل سکتی۔