اسلام آباد(19مارچ 2020)

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لیئے سندھ میں اٹھائے گئے اقدامات کے دوران اگر کسی مزدور کے گھر میں کھانا نہیں ہوگا تو صوبائی حکومت اس کے گھر راشن پہنچائے گی جبکہ حکومت سندھ کرونا وبا کی پیش نظر پاک آرمی کے ساتھ مِل کر کراچی میں فیلڈ اسپتال بھی بنائے گی، ہمیں سیاسی محاذ آرائی کے بجائے قومی یکجہتی کے ذریعے کرونا وائرس جیسی وباﺅسے نمٹنے کی ضرورت ہے، سندھ حکومت کے اقدامات کا اگر دوسرے صوبوں یا وفاق نے جواب نہ دیا تو وبا پر قابو نہیں پایا جاسکے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی اور مشیر قانون مرتضی وہاب بھی ان کے ہمراہ تھے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ شعبہ طب سے منسلک تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جو اس مہلک وبا کے خلاف فرنٹ لائن کے سپاہی کا کردار نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ مل کر کرونا وائرس کے خلاف مقابلہ کر رہے ہیں۔ میں اس دوران مسلسل وزیراعلیٰ سے رابطے میں تھا اور آج ضروری سمجھا کہ اس پریس کانفرنس کے ذریعے پورے ملک کو پاکستان پیپلز پارٹی کا پیغام پہنچایا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت بہت سنجیدہ صورتحال ہے اور ہر پاکستانی کو اسے انتھائی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فقط اتنا بوجھ ڈالتا ہے، جتنی ہماری برداشت ہے۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ کرونا وائرس سے زندگی کو خطرہ ہے۔ یہ فقط فلو یا زکام نہیں ہے۔ یہ فلو سے دس گنا زیادہ خطرناک ہے۔ اس میں موت کی شرح حتمی نہیں ہے۔ یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ یہ وائرس فقط بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو متاثر کرتا ہے۔ اس وقت دو لوگ پاکستان میں کرونا وائرس کے باعث فوت ہوچکے ہیں۔ عوام کو خوفزدہ یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہم آپ کے لیئے دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ آپ کی جان کا تحفظ کر سکیں۔ اس بیماری کو ہمیں روکنا ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے صحافیوں کو ایک گراف دکھاتے ہوئے بتایا کہ کرونا سے متاثر ممالک میں سے جاپان، ہانگ کانگ اور سنگاپور میں یہ وبا پھوٹنے کے بعد جلد از جلد و بلاتاخیر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے ہونے والے ممکنہ نقصان کو روکا گیا۔ ان ممالک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات میں متاثرہ افراد کی تشخیص اور ان کو آئسولیشن میں رکھا۔ دوسرا اقدام ماس ڈسٹنگ کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ووہان میں وبا پھوٹنے کے فوراً بعد حکومتِ سندھ نے اقدامات اٹھائے اور صورتحال کو سنبھال لیا۔ ایران میں یہ وبا پھوٹنے کے بعد ہم نے پھر حفاظتی اقدام اٹھائے اور ایران سے آنے والے افراد کو آئسولیشن میں رہنے کی ترغیب دی اور ٹیسٹ بھی کروائے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جب یہ وبا کمیونٹی میں پھیلنے کا خطرہ ہے۔ اس وقت جو کرونا متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے وہ فقط تافتان سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے ہے۔ ان لوگوں کو کسی بھی طرح کے ٹیسٹس کے بغیر ہی ایک ساتھ رکھا گیا تھا۔ ہم ان کی صحت اور علاج کو یقینی بنا رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت میں وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ اداروں پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیئے سیلف آئسولیشن اور کمیونٹی سطح پر میل جول کو روکنے پر فوکس کرنا چاہیئے۔ ہمیں ٹیسٹس کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا۔ سندھ حکومت نے 10 ہزار ٹیسٹ کٹس کا انتظام کیا ہے۔ وفاق صوبوں کو اس ضمن میں تعاون کرے۔ اس وقت ہماری جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بھتر نتائج فقط اس صورت میں مل سکتے ہیں جب ملک کے دیگر علاقوں میں اسی طرح کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ تمام ممالک جہاں پر یہ وبا پھلی ہے وہاں حکومت نے اجتماعی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس وقت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، الزامات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اپیل کرتے ہیں کہ ہماری وفاقی حکومت اپنی اپروچ میں تبدیلی لائے اور ہماری مدد کرے۔ میں جانتا ہوں پاکستان اس وبا کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ ہم جانتے ہم پر دباوَ بہت بڑھ جائے گا، لیکن ہمیں اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی ٹیم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایکسپو سینٹر میں ایک بہت بڑا فیلڈ اسپتال بنایا جائے گا، جس میں پاک فوج کی مدد لی جائے گی اور اس کے ساتھ میڈیکل کے شعبے سے منسلک افراد و اداروں کا تعاون بھی حاصل کیا جائے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک بھر میں لاک ڈاوَن ہو اور اس ضمن میں وفاق ہماری مدد کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں غریب افراد کو یقین دلاتا ہوں کہ لاک ڈاوَن کی صورت میں ان کے گھروں کی دہلیز پر راشن پہنچائیں گے اور اس سلسلے میں ہم امیر لوگوں سے بھی تعاون کے متمنی ہیں۔ ہم حکومت سندھ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ یہ یقینی بنائے گی کہ اپنی نوکریوں پر نہ جانے والے محنت کشوں کو نوکریوں سے نہ نکالا جائے اور انہیں پوری تنخواہ بھی ملے۔ اس وبائ کے خاتمے کے بعد حکومت سندھ نوکریاں دینے والے اداروں کی ہر ممکن مدد بھی کرے گی۔ ہماری معیشت کو اس وائرس کی وجہ سے جو حشر ہونے والا ہے اس کو سنبھالنے کے لیئے وفاق کو اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کرنا ناکافی اور بہت تاخیر سے اٹھایا ہوا قدم ہے۔ وفاق کو مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کہتے ہو کہ کرونا کا مقابلہ کرنے کے لیئے 100 ارب کی ضرورت ہے تو آپ کو اس وبائ کے خاتمے کے بعد 600 ارب روپے کی ضرورت ہوگی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں دو محاذوں پر جنگ لڑنی ہے۔ ہمیں اپنے لوگوں کی جانیں بچانی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی بچانا ہے۔ ہمیں ایک ہوکر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک ہوکر سب کو سمجھنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بزرگوں اور اپنے شہریوں کی صحت و زندگی کے لیئے 15 دنوں تک سوشل ڈسٹینسنگ اختیار کرنا ہوگی۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی کو ہدایات دیتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں جا کر بیٹھیں اور گھر گھر جاکر اسی طرح آگہی مہم چلائیں اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں جس طرح وہ اپنی الیکشن مہم چلاتے ہیں۔ انہوں نے کرونا وائرس کے خلاف اپنی ذمیداریاں نبھانے میں مصروف ڈاکٹرز اور نرسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں جو اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ مزید ڈاکٹرز اور نرسز کی خدمات حاصل کرنے کے لیئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹَو زرداری نے کہا کہ یہ وقت وزیراعظم پر تنقید کرنے کا نہیں ہے۔ جب میں کہتا ہوں کہ پاکستان اس وبا کا مقابلہ کرسکتا ہے تو اس میں وزیراعظم بھی شامل ہے۔ لیکن ہمیں ٹھوس اقدامات اٹھانا پڑیں گے، لیکن وزیراعظم کے خطاب میں وہ اقدامت شامل نہیں ہیں۔ ہم یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم آہنگی کے لیئے اپنا کردار ادا کرنے کے لیئے تیار ہیں۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ کہ اگر درست وقت پر درست اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اسپتالیں کرونا کے مریضوں سے اٹ جائیں گی، جس کے بعد نہ فقط اس وبا کے متاثر لوگ بلکہ دیگر مریضوں کو بھی مشکل حالات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے نظام صحت اور معیشت میں کمزوریوں سے بخوبی واقف ہیں، لیکن اس کے باوجود ہمیں حالات سے مقابلے کی ضرورت ہے۔ ہمیں مقابلہ کرنا پڑے گا اور اس کے لیئے ہمیں قیادت کی ضرورت ہے۔ اس وقت ہمارے وزیراعظم اور وفاقی وزیرِ صحت عمران خان ہیں، ان پر کوئی تنقید نہیں کروں گا بلکہ ان سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ اس مشکل وقت میں لیڈ کریں گے۔ جتنی وہ ٹھوس اقدامات اٹھانے میں تاخیر کریں گے، اتنا زیادہ نقصان ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت سندھ اپنے وسائل پر قبا کا مقابلہ کر رہی ہے۔ صوبے کی عوام نے ان کے کندھوں پر ذمیداریاں رکھی ہیں، جو وہ نبھا رہے ہیں۔ اچھا ہوتا اگر پورا ملک آج ایک پیج پر ہوتا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کرونا وائرس کی صورتحال کی پیش نظر برسی کے موقعے پر ہونے والے جلسے کو ملتوی کیا گیا ہے اور حالات بھتر ہونے کے پعد پیپلز پارٹی اپنی سرگرمیاں شروع کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پاک فوج اور دیگر ادارے جس طرح سیلاب اور دیگر مشکلات کے دوران امدادی کاموں میں حصہ لیتے ہیں، ہم سب شانہ بشانہ کھڑے ہوکر کورونا کا بھی مقابلہ کریں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم سمیت یہ وقت کسی پر تنقید کا نہیں، ہم سیاست بعد میں کرلیں گے۔