مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس آج ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوا جس نے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور خوض کیا ، سندھ حکومت کی جانب لئے گئے اقدامات اور آئندہ کے لئے تجاویز زیر بحث لائی گئیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری سینیٹر جنرل فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا کہ اس اجلاس کی صدارت بلاول ہاﺅس کراچی سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کی اور اس میں ملک بھر سے پارٹی لیڈروں نے اپنے اپنے علاقوں سے حصہ لیا۔ صوبہ سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر صحت عذرا فضل پیچوہو، محترمہ فریال تالپور، سعید غنی اور تمام صوبوں کے علاوہ اے جے کے اور گلگت بلتستان کے صدور نے بھی اس اجلاس میں حصہ لیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کورونا وائرس ایک قومی مسئلہ ہے جس پر سیاست سے بلند ہو کر قومی سطح پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے انہوں نے قوم کو متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ایک اجتماعی لائحہ عمل بنایا جا سکے۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ انہوں نے اس مسئلے پر ملٹی پارٹیز کانفرنس کی تجویز دی تھی تاکہ سب مل کر لائحہ عمل بنائیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سندھ حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کے سلسلے میں اٹھائے گئے تمام اقدامات بتائے۔ انہوں نے شرکاءکو اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ انہوں نے طبی عملے کی حفاظت کے لئے آلات کے حصول کے لئے اقدامات کئے ہیں کیونکہ یہ طبی عملہ کرونا وائرس سے جنگ میں سب سے آگے آگے ہے۔ انہوں نے صوبے میں قرنطینہ کے انتظامات کے متعلق بھی آگاہی دی۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے شرکاءکو غریب طبقے تک سہولیات پہنچانے کے متعلق آگاہی بھی دی۔ اجلاس میں فوج کو سول حکومت کی مدد کے لئے بلانے پر بھی بات ہوئی۔ اجلاس نے ملک کے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے صحت کے اہلکاروں کی ہدایات پر عمل کریں اور ضروری حفاظتی اقدامات پر بھی عمل کریں۔ اجلاس نے یہ بات نوٹ کی کہ اس وباءنے ہمارے پڑوسی ملک ایران پر بھی بہت اثر ڈالا ہے اور مطالبہ کیا کہ اس بیماری سے نمٹنے کے لئے ایران پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ اجلاس میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کو ان کے فرائض منصبی نہایت احسن طریقے سے سرانجام دینے پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ یہ لوگ قوم کے ہیرو اور ہیروئنیں ہیں۔ اجلاس نے اس مشکل وقت میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت کو بھی سراہا اور اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کے اقدامات کو بھی سراہا۔