پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے عالمی وباءکے دوران اگلے محاذوں پر خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کے لئے امدادی پیکئج کا اعلان اب تک نہیں ہوا اور نہ ہی یومیہ اجرت پر انحصار کرنے والے جو لاک ڈاﺅن سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان کے لئے بھی امدادی پیکیج کا ااعلان نہیں کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پاکستان نے کورونا وائرس کی وباءکے دوران تعمیراتی صنعت کے لئے بڑے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے جو انسانی زندگی پر نفع کو ترجیح دینے اور صحت کے بحران میںہمارے اقدامات کا تعین کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی غلط ترجیحات کے نتائج کا پورا ملک سامنا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صحت کے نظام، مزدوروں اور ضرورت مندوں سے تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ چیئرمین پیپلزپارٹی کی صدارت میں گلت بلتستان کے رہنماﺅں کا ویڈیو لنک اجلاس ہوا۔ پارٹی رہنماﺅں نے چیئرمین پیپلزپارٹی کو بریفنگ دی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کو کوئی امدادی پیکیج تک نہیں دیا گیا۔ چین کی حکومت نے گلگت بلتستان کو امداد پہنچا دی مگر وفاقی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ پارٹی رہنماﺅں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے BISP کو احساس پروگرام میں بدل کر عوام کا ہجوم اکٹھا کیا اور کورونا وائرس پھیلایا۔ انہوں نے چیئرمین پیپلزپارٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے طبی عملے کو حفاظتی کٹس میسر نہیں۔ ڈاکٹر اسامہ بھی اس لئے زندگی بازی ہار گئے تھے۔ ویڈیو لنک کے اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ، پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ، انجینئر اسماعیل، جیل احمد، سعدیہ دانش، عمران ندیم، محمد موسیٰ، بشیر احمد اور اقبال رسول بھی شریک تھے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ چین کی حکومت کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے گلگت بلتستان کی امداد کی تاہم وفاقی حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ گلگت بلتستان کی حکومت اس وقت ڈیویلپمنٹ کے فنڈز صحت کے شعبے میں لگائے کیونکہ اس وقت ترقیاتی کاموں کی نہیں بلکہ انسانی زندگیاں بچانے کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت سندھ حکومت کی طرز پر ترقیاتی بجٹ صحت کی سہولیات پر خرچ کرے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں یومیہ 15ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ گلگت بلتستان میں ٹیسٹنگ کی گنجائش بڑہانے کے لئے فوری اقدامات کرے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے طبی عملہ کا حفاظتی کٹس کے بغیر کام کرنا وفاقی حکومت کی نااہلی ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز اور عہدیداران اور کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے حلقوں میں موجود رہ کر کورونا وائرس کے خلاف آگاہی دیں اور امدادی کاموں میں حصہ لیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں کو حقوق دے جو ان کی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں کے شعبہ صحت میں تعاون کرنا ہوگا۔