پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کی زراعت اور معیشت پر ٹڈی دَل کے حملوں کا فوری نوٹس لے کر ٹڈی دَل کے صدباب کے لئے صوبوں کی مدد کرے۔ یہ بات انہوں نے زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پریس کانفرنس کی ابتدا میں انہوںنے پاکستان بھر کے ڈاکٹروں، نرسوں اور ہیلتھ ورکروں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان عظیم سپاہیوں کے لئے ریلیف پیکج کا اعلان کرے۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اس وباءکے دوران غذائی تحفظ پر خصوصی توجہ دے کیونکہ یو این نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان غذائی تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25سال بعد ایک دفعہ پھر ٹڈی دَل حملہ آور ہے اور پلانٹ پروٹیکشن وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس ایک سال کا عرصہ تھا کہ وہ ان حملوں سے نمٹنے کی تیاری کر لیتا ۔ اسی سال مارچ میں ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ہمیں چھہ جہاز مہیا کیے جائیں گے لیکن وفاقی حکومت نے صرف ایک جہاز بھیجا ہے جس کا پائلٹ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے 90کی دہائی میں ایران اور دیگر ممالک سے اسپرے کرنے والے جہاز منگوا کر ٹڈی دَل کا مقبابلہ کیا تھا۔ اب بلوچستان میں ٹڈی دَل حملہ آور ہے لیکن وفاقی حکومت نے بلوچستان کی بھی کوئی مدد نہیں کی۔ جس طرح کہ کورونا سے نمٹنے کے لئے بھی وفاقی حکومت نے کوئی مدد نہیں کی۔ انہوں نے سبی، جامشورو، حیدرآباد اور دیگر علاقوں میں ٹڈی دَل کے حملوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے باوجود وفاقی حکومت سو رہی ہے۔ ان حملوں سے نہ صرف پاکستان کا زرعی شعبہ متاثر ہوگا بلکہ پاکستان کی معیشت بھی شدید متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ سنجیدہ اقدامات اٹھائے لیکن وفاقی حکومت ہر مسئلے پر سیاست کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کی طبیعت اب پہلے سے بہت بہتر ہے اور WHO نے یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ جن لوگوں کو جان لیوا امراض لاحق ہے وہ سخت احتیاط کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کو معلوم ہے کہ شہباز شریف بھی ایک طویل عرصہ سے کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اس لئے وہ کل پارلیمنٹ کے سیشن میں شریک نہیں ہوئے۔ عمران خان جو مکمل صحتیاب ہیں وہ پارلیمنٹ نہیں آئے اور وہ اپنا کام بھی نہیں کر رہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ شاہ محمود قریشی کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم سندھ کے حقوق کی بات کرتے ہیں ہم سندھ کارڈ نہیں کھیل رہے ہوتے اسی طرح جس طرح ہم اگر بلوچستان، خیبرپختونخواہ، کشمیر گلگت پر بات کرتے ہیں تو ہم وہاں کا کارڈ نہیں کھیلتے۔ شاہ محمود قریشی کو چاہیے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں ورنہ وہ استعفیٰ دیں۔ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ وہ سندھ میں اپنا لوہا منوائیں گے جبکہ اس وقت انہیں صرف کورونا سے لڑنا چاہیے۔ ہمیں پتہ ہے کہ شاہ محمود قریشی نے پیپلزپارٹی کیوں چھوڑی تھی اور کس نے انہیں وزیراعظم بنوانے کا جھانسہ دے کر پیپلزپارٹی چھوڑنے کو کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے لاک ڈاﺅن غریبوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے امیر حاشیہ برداروں کے لئے ختم کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ صنعت کاروں کو فائدہ پہنچائیں اور تعمیراتی شعبے میں انیل مسرت اور ان جیسے دیگر لوگوں کو فائدہ پہنچائیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جب ہم نے کورونا ریلیف آرڈیننس کے ذریعے سندھ کو عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی تو پی ٹی آئی کے گورنر نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اب عوام کے لئے ریلیف میں تاخیر وفاقی حکومت کی طرف سے ہو رہی ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت آئین کا نام اپنی ناکامیاں چھپانے کے لئے لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ءکا آئین متفقہ طور پر پاس کرایا تھا لیکن بعد میں ڈکٹیٹر ضیاءاور مشرف نے اس آئین میں تبدیلیاں کر دیں یہاں تک کہ جنرل ضیاءکا نام آئین میں شامل کر دیا گیا۔ ہم نے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ا1973ءکا آئین واپس لایااور ضیاءالحق کا نام اس سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری نے اپنے سارے اختیارات وزیراعظم کو دے دئیے اور انہیں یہی بات بری لگتی ہے کہ کہ آئین جمہوری ہوگیا ہے۔ چینی کی رپورٹ پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ ایک تماشہ ہے اور پی ٹی آئی کبھی بھی احتساب کرنے میں سنجیدہ نہیں تھی۔ وہ چینی کا تماشہ اپنے کچھ لوگوں اور اتحادیوں کو قابو میں کرنے کے لئے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس چینی کے تماشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو وزیراعظم کرپٹ ہیں یا اپنے حاشیہ برداروں اور اے ٹی ایم کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں یا وہ بالکل بیوقوف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت اٹھارہویں ترمیم کو نشانہ بنا کر ہمیں انتقام کا نشانہ بناتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت صرف دو یا تین ووٹوں کی اکثریت سے اٹھارہویں ترمیم کو نہیں چھیڑ سکتی اور اگر پی ٹی آئی حکومت نے اس وباءکے پردے میں اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑنے کی کوشش کی تو ہم اس کی ہر فورم پر مزاحمت کرنے کے لئے تیار ہیں۔