پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو اور پیپلزپارٹی کور کمیٹی کے رکن سینیٹر تاج حیدر نے حکومت کی جانب سے کورونا وائرس پھیلانے کی کوششوں کو ظالمانہ قرار دیا ہے۔ دونوں رہنماﺅں نے کہا کہ پہلے تو تفتان اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں سے کورونا کے مریضوں کو پاکستان میں آنے دینے سے کورونا پھیلا اور اس کے بعد حکومت کی جانب سے BISP کے پیسے تقسیم کرنے کے لئے صرف دو بینکوں کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے عوام کا رش ہوا اور کورونا پھیلا۔ اب حکومت پبلک ٹرانسپورٹ کھول کر ایک دفعہ پھر غریبوں کو کورونا کے حوالے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سارے منفی اقدامات سے صرف غریب لوگوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ BISP کی رقم گذشتہ مہینوں میں نہیں ادا کی گئی تھی اور اکٹھے تین ماہ کی رقم دے کر اسے ریلیف امداد کا نام دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کو وفاقی حکومت سے اب تک کوئی مدد بہم نہیں پہنچائی گئی جبکہ سندھ حکومت اور این جی اوز نے ان غریبوں کی مدد کی۔ دونوں لیڈران کا کہنا تھا کہ چین سے ہمیں کورونا سے لڑنے کے لئے متعدد ادویات اور سازوسامان بھیجا گیا لیکن پاکستان میں کورونا سے لڑنے کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اچھی حکمت عملی میں ویتنام نے اس وباءکا کامیابی سے سدباب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وفاقی حکومت کو انسانی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ جن بچوں کو ہم نے اسکول بند کرکے کورونا سے بچایا تھا اب انہی بچوں کو بازاروں میں لے جا کر کورنا کے سامنے پھینکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا صحت کا نظام اب مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا ہے کیونکہ ہم لوگ سائنسدانوں اور صحت کے ماہرین کی باتوں پر کان نہیں دھر رہے۔ دونوں لیڈروں نے متنبع کیا کہ صحت کی سہولیات کے بغیر معیشت کو نہیں سنبھالا جا سکتا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ماہرین کی باتوں کو توجہ دیںاور سماجی دوری کا خیال رکھیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کورونا سے شہید ہونے والوں کی یاد میں عید سادگی سے منائیں۔