پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما ﺅں نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور 2000لوگ اس مرض سے جاں بحق ہوئے ہیں،جتنے کیسز 100دن میں سامنے آئے اس سے کئی گنا زیادہ لاک ڈا ﺅن میں نرمی کی وجہ سے 10روز میں سامنے آئے اور اموات 1100سے بڑھ کر2000تک پہنچ گئی۔وزیراعظم نتھیا گلی کے وزیراعظم نہیں بلکہ پورے پاکستان کے وزیراعظم ہیں،سب کو ساتھ لے کرچلیں۔احتساب کے مشیر شہزاد اکبر کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،نیب ایک آزاد ادارہ ہے،عدلیہ کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔پاکستانی معیشت کے حالات ایسے ہیں کہ یہ دنیا کے مہنگا ترین ملک بن گیا ہے اور مہنگائی کی شرح14.6تک پہنچ گئی ہے۔کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کیلئے جو پیکج دیا گیا اس کو پارلیمنٹ میں نہیں لایا جارہا تو حکومت کس بنیاد پر بجٹ بنائے گی۔سنتھیاڈی رچ کو ویزہ کس نے دیا اور اس کے اخراجات کون برداشت کر رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ ،سنیٹر روبینہ خالد اور نذیر ڈھوکی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعدادایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے اور اس سے 2000لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ فرنٹ لائن پر لڑنے والے 39ڈاکٹرز بھی اپنی قیمتی جانیں دوسروں کو بچانے کے دوران نچھاور کرچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سنتھیا ڈی رچ نے بے نظیر بھٹو کے حوالے سے جو بات کی ہے وہ اسلامی دنیا کی پہلی وزیراعظم تھیں اور دوسرے پارٹی کے سینئر رہنما ﺅں پر جو ان کی طرف سے الزامات لگائے گئے ہیں وہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اسدعمر کہہ رہے ہیں کہ گھبرانا نہیں ملک میں اٹلی اور فرانس والے حالات نہیں ہیں جبکہ 100دن میں جتنے مریض سامنے آئے تھے وہ لاک ڈا ﺅن میں نرمی کی وجہ سے 10دن میں سامنے آئے اور اموات1100سے بڑھ کر 2000تک پہنچ گئیں۔اگر سب کو ٹیسٹنگ کی سہولت میسر ہو تو ہم اٹلی سے آگے نکل جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ رپورٹس کے مطابق لاہور میں7لاکھ کورونا وائرس کے مریض ہیں اور اگر شرح اموات 2فیصد ہو تو 3000اموات ہو چکی ہوں گی۔اسد عمر کہتے ہیں کہ ایک کروڑ نوکریاں دیتے ہیں اور سٹیل مل کو پرائیویٹ نہیں کریں گے،اب ان کی بات پر کون یقین کرے گا۔سمارٹ لاک ڈا ﺅن کا مقصد یہ ہے کہ چندہ دینے والوں کے کاروبار چلیں گے۔ لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے جاتے ہیں لیکن وزیراعظم کی اے ٹی ایم مشین جس کا شوگر کمیشن رپورٹ میں نام پہلے نمبر پر تھا،اس کو باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔قومی اسمبلی کی کمیٹیوں کو نہیں چلنے دیا گیا،موجودہ حالات میں ہیلتھ کمیٹی اور فنانس کمیٹیوں کا کوئی اجلاس نہیں ہوا۔ہم نے تجویز دی تھی کہ آن لائن اجلاس کرلئے جائیں۔نفیسہ شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر احتساب کے وزیر ہیں،جس کا کوئی جواز نہیں بنتا اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔نیب آزاد ادارہ ہے،عدلیہ کو اس پر نوٹس لینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں 9300خاندانوں کو بے روزگار کردیاگیا ہے۔کورونا سے سائنسی بنیادوں پر لڑیں اور فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹروں کو خراج تحسین پیش کریں جیسا کہ دوسرے ممالک میں ڈاکٹروں کو پیش کیاگیا ہے۔پنجاب کے ڈاکٹروں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے ،ان کو پرائیویٹ سروس میں شامل کردیاگیا ہے۔پاکستانی معیشت کے حالات ایسے ہیں کہ یہ دنیا کے مہنگا ترین ملک بن گیا ہے اور مہنگائی کی شرح14.6تک پہنچ گئی ہے۔کورونا وائرس کے دوران عوام کو جو1.2ٹریلین کا پیکج دیا گیا حکومت اس کو پارلیمنٹ میں نہیں لارہی،تو یہ بجٹ کس بنیاد پر بنائے گی۔وزیراعظم ٹڈی دل،کشمیر اور کورونا کیلئے کھڑے نہیں ہوئے لیکن انتقام کیلئے کھڑے ہوگئے ہیں۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ سٹیل مل اور پولیو پروگرام سے لوگوں کو نکالا گیا ہے،پنجاب کے گورنر ٹک ٹاک فورم بنا رہے ہیں اور وزیراعظم ٹائیگر فورس بنا رہے ہیں۔عوام کو زبردستی ماسک پہننے کا کہتے ہیں لیکن وزرائ بغیر ماسک کے دندناتے پھر رہے ہیں۔خیبرپختونخواہ میں بہت کم کورونا کے ٹیسٹ ہورہے ہیں جبکہ اس صوبے میں زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں،یہ سیاست کرنے کا وقت نہیں ہے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کہا ہے کہ ملکر کورونا کے خلاف لڑنا چاہئے۔نذیر ڈھوکی نے کہا کہ بتایا جائے کہ سنتھیا ڈی رچ کو ویزہ کس نے دیا اور اس کے اخراجات کون برداشت کر رہا ہے،یہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا کی رکن ہیں۔