پیپلز پارٹی پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیر ی رحمان نے پی آئی اے جہاز حادثے پر سینیٹ میں اپنے توجہ دلاﺅ نوٹس پر بات کر تے ہوئے کہا کہ جہازکریش ہونے کے فوراًبعدپی آئی اے کے سی ای اونے قصوروار پائلٹ کو ٹھرایا۔بغیر تحقیق کے سی ای او نے پائلٹ ایرر کا اعلان کیوں کیا؟بغیر بلیک باکس ریکارڈنگ کے پائلٹ کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔پائلٹ پرپہلے ہی الزام لگاکرانکوائری رپورٹ کیسے درست ہوسکتی ہے ۔ شیری رحمان نے کہا کہ سول ایوی ایشن خود طیارہ حادثہ تحقیق میں شامل ہے ،سی ای اے پرتوسوال اٹھ رہے ہیں،کمیشن اس کے ماتحت کیسے ہوسکتاہے ۔کمیشن کا سی ای او کے ماتحت ہونا مفادات کا تصادم ہے۔طیارہ کمپنی، سول ایوی ایشن اور پی آئی اے پائلٹ پر الزام لگا رہے ہیں۔ شیری رحمان نے کہا کے ہمیں یہ نہیں سننا کہ آپ کے دور میں یہ ہوا ہمارے دور میں وہ ہوا،طیارہ حادثے کی شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔،جہاز کی کمپنی اپنی کمپنی کو بری الزماں کرے گی۔سجاد گل سے آپ نے کتنی پروازیں چلائیں، پائلٹز کو مناسب حفاظتی پروٹوکول اور لازمی آرام کے بغیر پرواز کرنے کے لئے دباﺅ ڈالا جاتا۔جب وہ احتجاج کرتے ہیں تو انھیں شوکاز پیش نوٹس دئے جاتے۔ایسی تحقیقات ہو جس سے سب مطمئن ہوں۔ایسے کاغذی کمیشن بنا کر عملے کے ممبران کا استحصال کیا جا رہا ہے۔