پاکستان میں ایک مخصوص سوچ بھٹو کی آواز کو خاموش کرنے کا خواب دیکھتی چلی آ رہی ہے، معروف صحافی، شاعر اور دانشور سید عباس اطہر مرحوم کا ماننا تھا کہ بھٹو ایک آسمانی راز ہے، اس حوالے سے ان کے پاس ٹھوس دلیل حضرت پیر وارث شاہ کا کلام ھیر وارث شاہ کے یہ فقرے
” وارث شاہ پنجاب دی ونڈ ہوسی
کچھ حصہ قصور دا جاویسی
پت سندھڑی دا حکمران ہوسی
جو بنا عدل ماریا جاویسی”
سید عباس اطہر مرحوم کا سوال یہ تھا کہ وہ کونسی غیبی طاقت تھی جس نے ڈھائی سو سال قبل اولیاء اللہ سے سرگوشی کی تھی جس کی پیشن گوئی صوفی بذرگ نے کی تھی۔
مجھے یقین ہے کہ اگر آج سید عباس اطہر زندہ ہوتے تو یقیناً ان کے مضمون کا عنوان یہ ہوتا کہ
“ایوان میں پھر بھٹو کی آواز گونج اٹھی” تاریخ کے ایک ادنی طالب علم کے ناطے مجھے یقیں ہے، انسان کے کردار کا تعین قدرت کرتی ہے اور تاریخ ان انسانوں کے غیر معمولی کردار تاریخ ساز بناتی ہے، جن پر قدرت مھربان ہوتی۔
ایک مخصوص سوچ نے پنڈی کو بھٹوز کیلیئے مقتل گاہ بنایا، مگر بھٹو کی آواز آج پھر ایوان میں گونجی۔ کسی شاعر نے کہا تھا
“ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام آجائیں گے ہم لوگ ”
سچی بات یہ ہے کہ آج قومی اسمبلی میں چیٸرمین بلاول بھٹو کی تقریر محض لفاضی یا روائتی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے مفکر کا خطاب تھا جو اندھوں کو منزل کا پتہ دے رہے تھے، بلاول بھٹو ان سے بھی مخاطب تھے جو حقیر سے مفادات کیلیٸے ملک اور معاشرے کو تختہ مشق بنانے کی علت رکھتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے ہر فقره میں عوام کا درد تھا، آج کی تقریر سلیکٹڈ حکومت سے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور کشمیر کے عوام کا شکوه نمایاں تھا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے تمام بڑے ہسپتال سندھ کے عوام کے پیسوں سے قائم ہوئے ہیں، وفاق کو یہ ہسپتال چھیننے نہیں دینگے، اسٹیل ملز کی زمین سندھ کی ملکیت ہے، اس کو چھننے نہیں دینگے، نہ اسٹیل ملز کے ملازمین کو بیروزگار ہونے دیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر حکومت سے صوبے کی طرح پیش نہ آؤ، یہ کرکے تم دنیا کو کیا پیغام دے رہو؟ بلوچستان کے عوام کا پیسہ کاٹ کر اسلام آباد کو کھلانے کی روش ختم کرو، سندھ کے 229 ارب روپے گلگت بلتستان اور سابقہ فاٹا کے عوام کے حصے کا پیسہ کیوں ہڑپ کر رہے ہو ؟
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں چاروں صوبوں کے عوام سے کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف
پر اثر آواز اٹھائی، انہوں نے انتہائی جذباتی لہجے میں خبردار کیا کہ تم میں یہ جرأت کیسے ہوئی کہ تم پنجاب کی عوام کو جاہل کہو؟ پنجاب کے عوام اس گالی جواب اگلے انتخابات میں دینگے۔
بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ کو عوام دشمن، غریب دشمن اور مزدور دشمن قرار دیا، انہوں کہا کہ کورونا وبا کے پھیلانے میں سلیکٹڈ حکومت کا ہاتھ ہے، ملک کی ذراعت کو ٹڈی دل تباھ کر رہی ہے، وفاقی حکومت کا کردار مجرمانہ ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ چیٸرمین پیپلز پارٹی کی تقریر کا جواب دینے کیلٸے صرف مراد سعید ہوتا ہے، جو نیازی حکومت کا اوپنگ بیٹس مین ہے، جس سے صرف سلیکٹڈ ہی نہیں سلیکٹرز کے ویژن کا پتہ ہوتا ہے، یہ بھی مشق بھی ایسی ہی ہے جسے کسی پستہ قد کو بڑی ایڑی والے بوٹ اور ان کے جسمانی قد سے بڑی پگڑی پہنا کر اسٹیج پر کھڑا کیا جائے۔
یہ روش اور مشقت سلیکٹرز کی غیر سنجیدگی کو بے نقاب کر رہی ہے۔ جس وقت بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں تقریر شروع کی اس وقت وزیر آعظم کا طیارہ اسلام آباد ایٸرپورٹ سے کراچی اڑان کر رہا تھا۔ جو اس بات کی دلیل ہے نالائق وزیرآعظم میں یہ حوصلہ ہی نہیں تھا کہ اپنے گھر بنی گالا میں بیٹھ کر بلاول بھٹو زرداری کا خطاب سنے۔