چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے خلاف کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے کورونا پر صوبائی حکومتوں کی کوئی مدد نہیں کی ، مشکل حالات میں بھی سندھ کو دو سو انتیس ارب روپے کم دیئے گئے، پنجاب اور دیگر صوبوں کو بھی کم حصہ ملا، تمام سیاسی جماعتوں نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا ہے، وفاق کی جانب سے سندھ کے اسپتال چھیننے نہیں دیں گے، فائزعیسیٰ کیس میں جج کی جاسوسی کا معاملہ سامنے آیا ہے جو انتہائی سنجیدہ ہے، ججز کی جاسوسی کے معاملے پرجے آئی ٹی بننی چاہیے، وزیراعلیٰ ہاﺅس کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے کورونا پر صوبائی حکومتوں کی کوئی مدد نہیں کی بجٹ ایسے پیش کیا گیا جیسے کورونا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ وباءسے نمٹنے کا بجٹ ہو گا، جب سے وبا آئی ہے ہر متنازع مسئلہ اٹھایا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا، اسے ساری سیاسی جماعتوں نے مسترد کردیا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ امید تھی کہ وفاق کی طرف سے ہر صوبے کیلئے ہیلتھ پیکیج ہوگا تاہم حکومت ایسے ترقیاتی منصوبے بنا رہی ہے جس سے سیاسی فوائد حاصل ہوں، کورونا سے نمٹنے کے لیے حکومت نے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا، یہ وقت صوبائی حکومتوں کو سپورٹ کرنے کا تھا تاہم پی ٹی آئی بجٹ میں عوام کی صحت کو تحفظ نہیں دیا گیا، بجٹ میں ٹڈیوں کے مسئلے کو بھی نظرانداز کیا گیا۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ حکومت دہشت گردی واقعات کی تحقیقات کرارہی ہے، رینجرز حملوں میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت اور ریاست کی پوری توجہ وباءکی جانب ہونی چاہئے تاکہ لوگوں کی زندگیوں کو بچایا جاسکے لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس صورتحال میں نہ ہی لوگوں کی زندگی بچانے میں مخلص ہے اور نہ ہی اس وباءکے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوسکی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ملکی سیاسی جماعتوں نے وباءکی صورتحال میں پیش کئے جانے والے بجٹ کو مسترد کردیا ہے،اس بجٹ میں کورونا جیسی وباءسے نمٹنے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا گیا، اور نہ ہی ملک کو درپیش چیلنج ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے کوئی خاطر خواہ رقم رکھی گئی، ہم اس حکومت سے امید کررہے تھے کہ وہ صوبائی سطح پر وباءسے نمٹنے کیلئے کوئی خصوصی پیکیج دے گی لیکن وہ بھی نہیں دیا گیا، افسوس تو یہ ہے کہ ستر ارب روپے جو وباءکیلئے رکھے گئے ہیں وہ وفاقی حکومت کے ایم این ایز کے فنڈز ہیں جس سے سڑکیں اور گٹر کے کام ہونا ہیں، ہم اس حکومت سے دو سال سے مطالبہ کررہے تھے کہ وہ صحت، پانی روزگار اور دیگر منصوبوں کیلئے رقم رکھے لیکن ایسا نہیں ہوا جو ایک غیر ذمہ دارانہ سوچ ہے، حد تو یہ ہے کہ صوبوں کو این ایف سی سے جو رقم ملنا تھی اس میں بھی کٹوتی کردی گئی سندھ کو دو سو انتیس ارب روپے کم دیئے گئے، یہ صورتحال صرف سندھ کے ساتھ ہی نہیں پنجاب کے ساتھ بھی ہے جہاں چار سو ارب روپے کم دیئے گئے، موجودہ حکومت نے نہ کوئی ریلیف دیا نہ معیشت کی بحالی کیلئے کوئی اقدامات اٹھائے، ریاست پاکستان کے پاس ریلیف دینے کیلئے کچھ بھی نہیں عام آدمی بزرگ متوسط طبقہ غریب ہر شخص پریشان حال ہے، اور ہر شخص یہ سمجھ رہا ہے کہ وفاقی حکومت صحت اور معاشی تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، بجٹ میں بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سمیت کوئی بھی ایسا منصوبہ نہیں دیا گیا جس سے موجودہ وباءکے دوران جو معاشی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے لوگوں کو ریلیف مل سکے، ایک سوال کے جواب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں خود صوبائی مالیاتی کمیشن کا حامی ہوں، اور چاہتا ہوں کہ ہر ضلع اور ڈویژن کو اس کا پورا حق ملے، اس کو نافذ اسی صورت میں کیا جاسکتا ہے جب قومی مالیاتی کمیشن سے مکمل شیئر ملے، اور اس کا فائدہ نچلی سطح تک پہنچے، ان کایہ بھی کہنا تھا کہ ہیلتھ ورکرز فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں ان کی سندھ حکومت نے ہر ممکن مدد کی ہے اور آئندہ بھی کرے گی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان فرنٹ لائن ورکرز کو اولین ترجیح دیں اور عملی طور پر آپ کو یہ سندھ میں ہوتا ہوا نظر بھی آیا ہوگا، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ مشکل صورت حال میں ہم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا، فخر کرتا ہوں کہ سندھ نے مشکل کے باوجود کام کرنے والوں کو سپورٹ کیا، بجٹ میں صحت کے شعبے میں ایک بڑا حصہ رکھا گیا ہے، بیروزگاروں کے لیے بھی اسٹیپنڈ فنڈ رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ہمارے تین اسپتالوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے، جو کہ اس وباءکے دوران کیا گیا جس سے سندھ حکومت کی جاری کوششوں کو سخت نقصان پہنچا ہے، میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں پھر اس بات کو دہراتا ہوں کہ این آئی سی وی ڈی کی طرز کا پورے پاکستان میں کوئی ایک اسپتال دکھا دیں یا جہاں پی ٹی آئی کی حکومت کافی وقت سے ہے لیڈی ریڈنگ اسپتال کا مقابلہ جے پی ایم سی سے کرالیں، ملکی اعداد و شمار واضح طور پر بتاتے ہیں کہ ہمارے دور حکومت میں سب سے زیادہ نئے اسپتال سندھ میں بنے، سب سے زیادہ اسپتالوں کی اپ گریڈیشن بھی سندھ میں ہوئی، جن تین اسپتالوں کو سندھ حکومت سے چھینا گیا ہے ان کا بجٹ اٹھا کر دیکھ لیں اور جو وفاقی حکومت نے ان کیلئے بجٹ رکھا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کون اسپتالوں کی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے سنجیدہ ہے، انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی کی مثال اب ہر جگہ دی جاتی ہے جہاں امراض دل کے مریض ہوں، ان کا مفت علاج ہوتاہے، ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے کس یوٹرن کو یاد دلاﺅں اور کس کو نہیں، وزیراعظم این سی او سی کی میٹنگ میں فوکس نہیں کررہے، مجھے ہر اجلاس کی بریفنگ دی جاتی ہے، پتہ ہے کہ حکومت سندھ کس طرح اپنے ایشوز اٹھاتی ہے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی ہے، زیادہ خودمختاری کے ساتھ فیصلے لے رہے ہیں، اس حکومت نے غیر سنجیدہ طریقے سے وبائی صورتحال اور معاشی صورتحال سے نمٹا، اگر آپ نے موازنہ کرنا ہے تو میرے تمام بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں اور وزیراعظم کی بھی تمام گفتگو ریکارڈ کا حصہ ہے، واضح ہوجائے گا کہ کون کس حد تک سنجیدہ اور عوامی مسائل کے حل کیلئے کام کررہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن سے ہمیں یہ خدشہ تھا کہ وزیراعظم اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ ساتھ انیس سو تہتر کے آئین کے خلاف ہیں، پہلے وہ دبے لفظوں میں اور اب واضح طور پر مخالفت کررہے ہیں، حد تو یہ ہے کہ جس لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم نے انیس سو تہتر کا آئین بنایا اور تیس سال اس آئین کی حفاظت کرنے والی شہید محترمہ بینظیربھٹو کے شہر میں بیٹھ کر اس آئین کے خلاف باتیں کی گئیں، ملک کے عوام اور ہم جانتے ہیں اور ہمیں اپنے حقوق اور آئین کا تحفظ کرنا بھی آتا ہے، پی ٹی آئی کے اتحادیوں کو وزیراعظم کا آئین کے حوالے سے موقف سامنے آنے کے بعد حکومت سے علیحدہ ہوجانا چاہئے، اختر مینگل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اختر مینگل نے اپنے صوبے کے حقوق کیلئے ایک اچھا اقدام اٹھایا ہے، امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر قائم رہیں گے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے پوچھا گیا کہ وزیراعظم نے اپنے دورہ کے دوران پی آئی اے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کے بجائے لاڑکانہ میں ایک وڈیرے کی دعوت قبول کی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم وڈیرے نہیں بلکہ ایک کنٹریکٹر کی دعوت پر لاڑکانہ گئے تھے ان کا یہ دورہ سیاسی نہیں غیر سیاسی تھا، جہاں انہوں نے ضیافت اڑائی، ایک سوال پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اگر لوگ این ایف سی ایوارڈ، اٹھارویں ترمیم لاپتا افراد، ٹارگٹ کلنگ اور معاشی صورت حال پرگھروں سے باہر نکلے تو حکومت ان کو سنبھال نہیں پائے گی امریکا کی طرح ہمارے پاس بھی بہت سی فالٹ لائنس موجود ہیں، جس پر ہم نے ملک میں جاری وبائی صورتحال میں اتحاد برقرار رکھنے کیلئے خاموشی اختیار کی ہے، وباءکے آنے کے بعد ہم نے سیاست نہیں کی حکومت کو ساتھ کام کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ وہ ان چیلنجز سے ملکر نبرد آزماہوں لیکن افسوس وزیراعظم نے سیاست کرنا شروع کی جو سندھ حکومت وباءسے نمٹنے کیلئے کام کررہی تھی اس کے خلاف وزراءکی ایک فوج کھڑی کردی، یہاں تک کہ جو ڈاکٹرز لوگوں کی جان بچا رہے تھے انہیں بھی نہیں بخشا گیا ان پر بھی سیاست کی گئی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے پوچھا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ پر فیصلے کے خلاف عدالت جائیں گے ان کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف اس وقت کورونا کی وجہ سے آئسولیشن میں ہیں، ان کے صحت یاب ہونے کے بعد اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے بعد ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی جس کیلئے عدالت سمیت تمام آپشن موجود ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ فائزعیسیٰ کیس میں جج کی جاسوسی کا معاملہ سامنے آیا ہے جو انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، ججز کی جاسوسی کے معاملے پرجے آئی ٹی بننی چاہیے۔ پاکستان پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ کرپشن ہر سطح پر موجود ہے جس کے خاتمے کیلئے سنجیدہ کوششیں ہونی چاہئے، لیکن بدقسمتی سے موجودہ حکومت کا مقصد کرپشن کا خاتمہ نہیں اپنے سیاسی مخالفین کو کرپشن کے نام پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہے ہم انتقام کی سیاست ختم کرکے ہی کرپشن جیسے مسائل سے نمٹ سکتے ہیں، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زردرای کہتے ہیں پچیس سال میں ٹڈی دل کا سب سے بڑا حملہ ہوا ہے، حکومت سندھ ایک سال سے وفاقی حکومت سے اپیل کررہی ہے کہ معاملے کو سنجید ہ لیا جائے لیکن اس معاملے کو نظرانداز کیا گیا، کسانوں کی کوئی مدد نہیں کی گئی، صوبائی حکومتیں اپنے طور پر اس سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہیں۔