پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات پلوشہ خان نے وزیر ہوابازی غلام سرور کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جعلی ڈگری پر کوئی پائلٹ کام کر رہا تھا تو اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیے مگر غلام سرور اپنی ڈگری کا تو بتائے جو سات سال تک جعلی ڈپلومہ کا کیس بھگتے رہے ہیں۔ ان کی اپنی ڈگری عدالت میں چیلنج ہوگئی تھی۔ پلوشہ خان نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت جعلی ڈگری پر پائلٹوں کو بھرتی نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سول ایوی ایشن اتھارٹی اس کی ذمے دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائلٹ خود اپنی ڈگریوں کا معاملہ عدالت میں لے کر گئے تھے جہاں یہ کیس زیر سماعت ہے۔ سیاسی جماعتوں کا کام پائلٹوں کی بھرتی نہیں ہے، یہ بھرتیاں اداروں کے ہیومن ریسورسز کا کام ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفت کی آڑ میں پی ٹی آئی حکومت ان کو بدنام کر رہی ہے۔ حکومت پاکستانی پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کی بات کرکے دنیا میں پاکستان کا منفی امیج بنا رہی ہے۔ اگر پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر پاکستان ائیرلائن پر پابندی لگتی ہے تو ذمے دار کون ہوگا۔ پلوشہ خان نے کہا کہ پوری دنیا میں پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر تضحیک ہو رہی ہے اور حکومت سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سیاسی جماعتوں کی مخالفت میں وہ حد عبور نہ کرے جس سے ملک کی بدنامی ہو۔ پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کی بات کرے غلام سرور خان مسافروں کا قومی ائیرلائن پر اعتماد ختم کررہے ہیں۔ پلوشہ خان نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی میں میرٹ کی بات کی جائے تو وزیراعظم سمیت آدھی کابینہ خارج ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ملک کے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے لوگوں کو نوکریوں سے برطرف کرنے کا یہ نیا طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ہے۔ اسٹیل ملز کے بعد پی آئی اے سے نوکریوں سے نکالنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ عمران خان اپنے دوستوں کو پی آئی اے فروخت کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔