اسلام آباد(26 جون 2020)

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جمعہ کے روز قومی رہنما ﺅںسے ٹیلیفونک رابطے کرکے ان سے ملک کی سیاسی صورتحال، اٹھارہویں آئینی ترمیم، کورونا، ٹڈی دَل اور وفاقی بجٹ کے سلسلے میں جلد از جلد آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر تبادلہ خیال کیا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاﺅ، عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان، سینیٹر میر حاصل خان بزنجو اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑشامل ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف سے ان کی اور میاں نواز شریف کی صحت کے متعلق دریافت کیا۔ دونوں رہنماﺅں نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرنے پر اتفاق کا اظہار کیا اور آئندہ ہفتے آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر بھی اتفاق کیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ملک کے آئین پرحملوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ گفتگو کے دوران دونوں رہنماﺅں نے حکومتی بجٹ کوغریب دشمن قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان ملک میں کورونا کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کورونا وائرس پھیلا۔ دونوں رہنماﺅں کے دوران آئندہ ہفتے اے پی سی کا اجلاس بلانے کے بارے میں بھی اتفاق رائے ہوا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کو ٹیلیفون کرکے سید منور حسن کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔ جماعت اسلامی کے امیر نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت دریافت کی۔ دونوں رہنماﺅں کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے جماعت اسلامی کے امیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی کا نعرہ لگا کر پاکستان کی معیشت کو تباہی کی جانب دھکیل دیا گیا ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے پورے میں ملک میں افراتفری کی کیفیت ہے مگر حکومت کچھ نہیں کر رہی ہے۔ ٹڈی دَل کے حملوں نے ملکی زراعت کو تباہ کر دیا ہے مگر عمران خان صرف باتیں کر رہے ہیں۔ اس طرح کی سنگین صورتحال میں حکومت نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا ہے۔ ملک کی اس نازک صورتحال میں ہم اس عوام دشمن بجٹ کو تسلیم نہیں کرتے۔بلاول بھٹوز رداری کے تحفظات سے اتفاق کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے چیئرمین پیپلزپارٹی سے آئندہ ہفتے اے پی سی کانفرنس بلانے کے متعلق بھی مشاورت ہوئی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے عوامی نیشنل پارٹی کے پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کو بھی ٹیلیفون کرکے ان کے والد اسفند یار ولی کی صحت کے بارے دریافت کیا۔ اور اسفند یار ولی کی صحت اور طویل زندگی کی دعا کی۔ ایمل ولی خان سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام دشمن، غریب دشمن اور مزدور دشمن بجٹ بنایا ہے جس کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاﺅ کو ٹیلیفون کرکے ان سے ملکی اور سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماﺅں نے ملک میں کورونا وائرس سے بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ آفتاب خان شیرپاﺅ سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان مسلسل کنفیوزڈ رہے جس کی وجہ سے کورونا وائرس ملک کے کونے کونے میں پھیل گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اٹھارہویں آئینی ترمیم کا نام لے کر ملک کے آئین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔انہیں آئین پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت ملکی معیشت کو تباہی سے دوچار کر چکی ہے۔ عوام دشمن بجٹ کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دونوں لیڈروں کے درمیان اے پی سی کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے سینیٹر میر حاصل بزنجو کو بھی ٹیلی فون کرکے کورونا اور ٹڈی دَل کی صورتحال پر گفتگو کی اور آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق کا اظہار کیا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو ٹیلیفون کرکے ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو کے دوران عوام دشمن بجٹ کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ بلاول بھٹو زرداری نے محسن داوڑ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت معاشی میدان پہلے دن سے ہی ناکام رہی ہے۔ وہ اپنی ناکامی کو کورونا کی آڑ میں نہیں چھپا سکتی۔ ہم ایسے بجٹ کو نہیں مانتے جس میں عوام کو کوئی ریلیف نہ ہو۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان آئین پر حملہ کرنے کی بجائے عوام کو کورونا سے بچانے پر کام کریں۔ انہوں نے محسن داوڑ سے جلد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کے لئے بھی مشاورت کی۔