پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں نے کہاہے کہ وفاقی وزیر ہوا بازی نے جو ملک کو نقصان پہنچایا ہے اس پر نہ صرف وہ استعفیٰ دیں بلکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں ان کیخلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے ، وزیراعظم کی اے ٹی ایم مشینیں یہ پلان بنا رہی ہیں کہ وہ پاکستانی اداروں کوتباہ کرکے خود خریدار بن جائیں ، وزیراعظم نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کو کبھی شہید نہیں کہا اور نہ ہی ان کی شہادت پر تعزیت کی ، منافق وہ ہوتا ہے جو وعدہ کرے پورا نہ کرے ،بات کرے تو جھوٹ بولے ، امانت میں خیانت کرے یہ تمام چیزیں عمران خان میں موجود ہیں اس لئے وہ منافق ہیں ، عزیر بلوچ نے پی ٹی آئی کو دھرنوں اور الیکشن میں سپورٹ کی کیونکہ ذوالفقار مرزا اسے اپنا بچہ کہتا تھا جو آج پی ٹی آئی میں ہے ، روز ویلٹ ہوٹل اور پی آئی اے کو حکومت کوڑیوں کے بہا? فروخت کرنا چا رہی ہے لیکن ہم اس کو کامیاب نہیں ہونے دینگے ،جنہوں نے پی ٹی آئی کے دھرنوں الیکشن اور جھنڈے لگانے پر خرچہ کیا وہ اب ان سے سود کے ساتھ پیسے واپس مانگ رہے ہیں ، وزیراعظم کو مائنس کرنے کی باتیں اب ان کے وزیر اور مشیر بھی کررہے ہیں ، قومی اسمبلی کے سپیکر متنازعہ بن چکے ہیں ،گزشتہ روز وہ کنٹینر پر سوار پی ٹی آئی کے ورکر لگ رہے تھے۔ ان خیالات کااظہار پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ ، ڈپٹی مرکزی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان ، خیبر پختونخوا کی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر روبینہ خالد اور رکن اسمبلی ناز بلوچ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔پیپلز پارٹی کے چیف میڈیا کوآرڈنیٹر نذیر ڈھوکی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ چوبیس تاریخ کو وزیر ہوا بازی نے اسمبلی کے فلور پر کہا کہ پاکستان کے 860پائلٹس میں سے 262پائلٹس کے لائسنس اور ڈگریاں مشکوک ہیں ہم نے اس غلط خبر پر ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ ان کے ایک بیان نے پی آئی اے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور پوری دنیا سے پاکستانی پائلٹس کو فارغ کردیاگیا ہے اور پاکستان ایئر لائن کو اپنے ملکوں میں آنے سے روک دیا ہے پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کا نقصان پہلے کبھی نہیں ہوا یہ کسی دشمن نے نہیں کیا بلکہ ایک وفاقی وزیر نے کیا ہے اور اس کا ازالہ کون کرے گا ؟ انہوں نے کہا کہ ملک کو جو نقصان پہنچاتا ہے اس پر غداری کا مقدمہ بنتا ہے لہذا وزیر ہوا بازی نہ صرف استعفیٰ دیں بلکہ ان پر غداری کا مقدمہ بھی بننا چاہیے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی اے ٹی ایم مشینوں نے پلان بنایا ہے کہ ملکی اداروں کو تباہ کریں اور خود ہی ان کے خریدار بن جائیں وزیر ہوا بازی کے طیارہ حادثہ کی رپورٹ کا وزیراعظم دفاع کررہے ہیں نفیسہ شاہ نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم اسمبلی میں اس وقت آئے جب اپوزیشن موجود نہیں تھی اور وہ اسمبلی میں آکر صرف نکلیں اتارتے رہے انہوں نے اسامہ بن لادن کو تو شہید کہا لیکن بے نظیر بھٹو کو شہید نہیں کہا اور نہ ہی ان کی تعزیت کی انہوں نے کہا کہ عزیر بلوچ نے پی ٹی آئی کے الیکشنوں اور دھرنوں کو سپورٹ کیا اور ذوالفقار مرزا نے کہاتھا کہ وہ میرا بچہ ہے اور آج ذوالفقار مرزا پی ٹی آئی میں ہیں ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان نے کہا کہ عمران خان چینی چور، آٹا چور اور تمام مافیا کاسرغنہ ہے اب ان کا پی ایم ہا?س میں بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے اور وزیراعظم اسمبلی میں مسخرہ پن کررہے ہیں اسی وزیراعظم کی کرسی پر لیاقت علی خان ، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو بیٹھے تھے یہ دوسروں کو پرچی کا طعنہ دیتے ہیں لیکن خود دیوار پھلانگ کر بھاگ جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ کس نے کہا تھا کہ طالبان اپنے دفتر کھولیں آج مودی کی کمپین چلانے والے کہہ رہے ہیں کہ سٹاک ایکسچینج پر حملہ بھارت نے کیا ہے انہوں نے کہاکہ روز ویلٹ ہوٹل اور پی آئی اے کو کوڑیوں کے بھا? فروخت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہم ان کو کامیاب نہیں ہونے دینگے پہلے کہتے تھے کہ میرے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے اور اب کہتے ہیں کہ میں چلا جا?ں تو میری پارٹی موجود ہیں لیکن ان کے وزیر اور مشیر اگلے ہی دن اپنی سی وی لے کر نوکریاں تلاش کرتے پھیریں گئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ملکی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار عمران خان ہے اور جنہوں نے پی ٹی آئی کی گاڑیوں پر جھنڈے لگائے اور الیکشن میں خرچے کیئے آج وہ سود سمیت واپس لے رہے ہیں پی ٹی آئی اے نے سیاست کو گالی بنادیا ہے عمران خان کو اپنے وزیروں پر کنٹرول نہیں ہے خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں اور سندھ کے ہسپتالوں کا موازنہ کرلیں ممبر قومی اسمبلی ناز بلوچ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر وزیراعظم کی طرف سے غیر پارلیمانی رویہ اختیار کیاگیا عوام کو ریلیف نہیں دیاگیا صرف تقرریں ہی کی جاتی رہی ہیں پہلی دفعہ وزیراعظم خود مائنس کی بات کررہے ہیں بائیس ماہ میں ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے ایک وزیر کے غیر ذمہ دارانہ بیان نے پی آئی اے کو جو نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان پہلے کبھی نہیں ہوا ہوگا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ تو نہیں کیا گیا چینی چور ، آٹا چور نے مل کر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کروایا اور اربوں روپنے اپنی جیبوں میں ڈالے وزیراعظم کے مشیروں ، وزیروں کے اپنے کاروبار ہیں وفاقی وزیر علی زیدی جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ قابل مذمت ہیں وزیراعظم کے مشیر اور وزیر اب خود مائنس کی باتیں کررہیں۔