پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنیٹیرینز کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ عمران خان اپنے آپ کو بھی جرنل سمجھتے ہیں لیکن وردی نہ ہونے کی وجہ سے جرنل نہیں کہلا سکتے ۔ دوسری پارٹیوں کو چھوڑ کر آنے والے کرپٹ سیاستدان تحریک انصاف میں آکر کیسے فرشتے بن گئے؟ عمران خان سے پہلے ایسے بہت سارے نام ہیں جب وہ حکومت سے گئے تو اب ان کا کوئی نام لینے والا نہیں۔ موجودہ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ایک پیسہ نہیں بڑھایا لیکن جو پہلے انہیں مل رہے ہیں وہ بھی چھیننے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کا جرم صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ وقت سے پہلے حالات کے بارے میں بتا دیتی ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تربیت شریف سیاستدانوں نے کی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم آئین کا حصہ ہے ۔ اس پر حکومتی وزراءڈر کر بولتے ہیں۔ وزیراعظم کی وکالت کرنے والے بھی آج شرما رہے ہیں کہ وہ ملک سے دشمنی کر رہے تھے۔ عمران خان دہشتگردوں کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کی عوام کے ساتھ نہیں ہیں۔ انہوں نے ان کو الیکشن جتایاتھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ان کے ہمراہ پیپلزپارٹی کے ایم پی اے لال چند اوکھرانی اور نذیر ڈھوکی بھی موجودتھے۔ مولا بخش چانڈیونے کہا کہ ہم نے ایوب خان ، ضیاالحق اور مشرف کی حکومتیں بھی دیکھی ہیں لیکن اس طرح کی حکومت ہم نے نہیں دیکھی۔ عمران خان نے ملک کی آزادی، خودمختاری کے حوالے سے کوئی قدم نہیں بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے حکومتوں کا نوٹس لیا جاتا تھا لیکن اس حکومت کا کوئی نوٹس نہیں لیا جا رہا جس کو یہ روکنا چاہتے ہیں روک لیتے ہیں اور جو کہنا چاہتے ہیں وہ کہہ دیتے ہیں۔ چینی چوروں اور آٹا چوروں کا یہ کہتے تھے کہ ا نہیں نہیں چھوڑوں گا لیکن سب اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔ ایک چینی چور جہاز میں بیٹھ کر باہر چلا گیا۔ دوسری پارٹیوں سے آنے والے پہلے چور تھے اب تحریک انصاف کی پارٹی میں آکر فرشتے بن گئے ہیں۔ جب حکمران بہرے ہو جاتے ہیں تو قدرت فیصلہ کرتی ہے۔ ملک میں ادویات مہنگی ہوگئی ہیں، کینسر کے مریضوں کو دوائیاں نہیں مل رہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے کہ نوکریاں دیں گے، گھر دیں گے لیکن عوام کو کچھ نہیں ملا۔ اس سے پہلے بھی کئی حکمران آئے جن کا اب کوئی نام لینے والا ہی نہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا لیکن جو ان کو مل رہا ہے وہ بھی چھیننے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ وہ خود اتنے بڑے محل میں رہتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ میرا اس تنخواہ سے گزارہ نہیں ہوتا۔ پنجاب میں لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں لیکن اس پر حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی جبکہ دنیا اس پر توجہ دے رہی ہے۔ ایک وفاقی وزیر کہتا ہے کہ میرے گھر میں کوئی آکر لفافہ چھوڑ گیا۔ وزیراعظم کا یہ کردار نہیں ہے کہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر بول سکیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی تربیت شریف سیاستدانوں اور فہم سیاست رکھنے والوں نے کی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبوں سے حصہ وصول کر رہے ہیں۔ چھوٹے صوبوں کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے لیکن یہ حکومت کو ہضم نہیں ہوگی۔ اٹھارہویں ترمیم آئین کا حصہ ہے اس پر وزراءڈر کر بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہتے تھے کہ میں این آر او نہیں دوں گا لیکن ان سے کبھی کسی نے این آر او مانگاتھا؟ آج وزیراعظم کی وکالت کرنے والے بھی شرما رہے ہیں کہ وہ ملک دشمنی کر رہے ہیں۔ سب کے سامنے ہے کہ آمر کس طرح گئے ہیں۔ یہ بھی بغیر مینڈیٹ کے حکومت میں آئی ہے ان کا بھی وہی حال ہوگا۔ ذوالفقار علی بھٹو پر لاکھ الزام لگا لیں کرپشن اور دہشتگردی کا الزام نہیں لگا سکتے۔ عمران خان حکومت میں جو دن گزار رہے ہیں وہ ملک اور عوام کے لئے تباہی کا باعث ہیں۔ کے الیکٹرک کا بحران، چینی، پٹرول، گیس پارلیمنٹ کو بے اثر کرنے والا عدلیہ کو بے توقیر کرنے والا کون ہے؟ ایم آرڈی کی تحریک میں جب لیڈر نکلا تو سب نے دیکھا اب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ایسے ہی آہستہ آہستہ لوگ شامل ہوں گے اور ماحول گرم ہوگا۔ عمران خان کہتے تھے کہ نواز شریف، آصف علی زرداری کو نہیں چھوڑیں گے۔ آصف علی زرداری سے ان کی بیٹی کو بھی نہیں ملنے دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انیل مسرت اور ابراج گروپ کون ہیں؟ مولانا فضل الرحمن کی تحریک کے متعلق پہلے بتایا نہیں گیا تھا کہا گیا تھا کہ آپ آجائیں تو پھر آپ کو بتائیں گے کہ کیا کرنا ہے۔