سکھر: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے رکن قومی اسمبلی سید خورشید شاہ کی قید کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی پی پی نے ہمیشہ آزاد عدلیہ کے حق میں بات کی ہے، خورشید شاہ نے جمہوریت اور اس ملک کی ترقی کے لئے اپنی پوری زندگی گزاردی اور وہ ابھی تک مسلسل قید میں ہیں، انہوں نے کہا کہ ضمانت ملنا سید خورشید شاہ کا بنیادی حق ہے جبکہ ابھی تک ان کو کسی کیس میں convicted بھی قرار نہیں دیا گیا ہے، اگر خورشید شاہ کو ان کے آئینی حقوق بھی نہ ملے تو بظاہر یہ تاثر آئے گا کہ سلیکٹڈ حکومت کو سپورٹ کرنے کے لئے اپوزیشن کی جماعتوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور ان سے سیاسی انتقام لیا جارہا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رانا ثنااللہ نے اسمبلی میں سلیکٹڈ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ نیب چیئرمین کو بلیک میل کررہے ہیں، بلیک میل کرنا ایک جرم ہے، سیاسی مخالفین اور میڈیا مالکان جیسے میرشکیل الرحمان کے ساتھ جو ہورہا ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، سکھر میں رکن قومی اسمبلی سید خورشید شاہ کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کلبھوشن یادو کے حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کے خفیہ آرڈیننس کا معاملہ بھی اٹھایا، انہوں نے آرڈیننس کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بتائے کہ اس آرڈیننس کے اجراء کا آخر ملک کو کیا فائدہ ہوا ہے؟ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ کلبھوشن یادو کے حوالے سے آرڈیننس کا اجراء اگر کوئی مجبوری تھی تو اس پر دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص اپوزیشن، پارلیمان اور عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا، حکومت کو چاہئیے تھا کہ وہ آرڈیننس کے حوالے سے اپوزیشن کی جماعتوں سے بات کرتی مگر آرڈیننس کا اجراء ہوا اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آرڈیننس کے اجراء کے حوالے سے اٹھائے گئے ہمارے سوالات کے جواب دے، انہوں نے واضح طور پر کہا کہ عوام کی اجازت کے بغیر حکومت یہ آرڈیننس نہیں لاسکتی تھی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے تسلیم شدہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کو سہولت کاری مہیا کرنے کے لئے آرڈیننس کا اجراء کیا جبکہ عام انتخابات سے قبل کلبھوشن کے حوالے سے پی ٹی آئی کی پالیسی الگ تھی، اگر پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں اس طرز کا آرڈیننس لایا گیا ہوتا تو اب تک ہمارا جینا حرام کردیا گیا ہوتا، اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پی پی دورِ حکومت میں یہ سب ہوا ہوتا تو دفاعِ پاکستان کونسل کا دھرنا اسلام آباد میں جاری ہوتا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ میاں رضا ربانی نے سینیٹ میں یہ معاملہ اٹھایا ہے، قومی اسمبلی میں ہمارے اراکین اس معاملے کو اٹھائیں گے اور میں آپ کے توسط سے مطالبہ کرتا ہوں کہ حکومت وضاحت کرے کہ وہ کیوں کلبھوشن یادو کو ریلیف پہنچانے کے لئے اس آرڈیننس کو لے کر آئی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آرڈیننس لایا جاتا ہے تو وہ مخصوص ٹائم فریم کے اندر پارلیمان میں پیش ہوتا ہے مگر پی ٹی آئی حکومت نے ایسا نہیں کیا، پی ٹی آئی حکومت کو وضاحت دینا ہوگی کہ اس آرڈیننس سے بھارت نے کیا فائدے اٹھائے ہیں، انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کلبھوشن یادو کو سہولت کاری دینے والے آرڈیننس کے اجراء میں ہم حکومت کو کوئی معافی نہیں دے سکتے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا ٹاک کے دوران وزیراعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اس بات پر خوش ہے کہ وہ پی ٹی آئی، ٹویٹر اور فیس بک کا وزیراعظم بنارہے، وزیراعظم پورے ملک کے وزیراعظم بننے کو تیار ہی نہیں ہے، بحران کے وقت تو کم از کم کسی ایک جماعت کے بجائے عمران خان کو پورے پاکستان کے لئے وزیراعظم کا کردار ادا کرنا چاہئیے تھا، عمران خان نے ملک کے عوام کو لاوارث سمجھ کر چھوڑ دیا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان ملکی تاریخ کا پہلا وزیراعظم ہے کہ وہ قوم کو کشمیر کے معاملے پر اکھٹا نہ کرسکا، عمران خان حالات کو ون یونٹ کی جانب لے جانا چاہ رہا ہے جس سے ملک کو ماضی میں بہت نقصان ہوا، انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے ہی ملک کے وزرائے اعلی کو ڈکٹیٹرز کہتے ہیں، عمران خان کرونا وائرس کے حوالے سے اسپتال بنانے اور ٹیسٹ کروانے کو ایک روپیہ عوام کو دینے کو تیار نہیں اور اس وباء کی آڑ میں وہ آئین پر حملے کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے وزیراعظم کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کو دیکھنا ہو تو وہ کلبھوشن یادو کے حوالے سے آرڈیننس دیکھ لے، این ایف سی ایوارڈ اور آئین پر حملوں سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ سلیکٹڈ لوگ ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ وفاق کی جانب سے سندھ کو اس کے حصے کے 229 ارب روپے کم دئیے گئے، وباء کی اس صورت حال میں سندھ کو اس کے حصے کے اربوں روپوں سے محروم کرنا افسوس ناک عمل ہے، اگر سندھ کو اپنے حصے کے اربوں روپے سے وفاقی حکومت محروم نہ کرتی تو سندھ حکومت صحت کی مزید سہولیات عوام کو مہیا کرسکتی تھی، اس حوالے سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت ٹیکس ٹارگٹ پورا کرنے میں ناکام ہوئی اور وباء کے ان دنوں میں اس کا نقصان اربوں روپوں کی صورت میں پنجاب کو بھی ہوا، صورت حال یہ ہے کہ وباء کے دنوں میں بھی سندھ حکومت نے زیادہ ٹیکس جمع کئے ہیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کامیاب ہوئی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت حکومت کی توجہ ملک میں موجودہ بحرانوں کے حل پر ہونا چاہئیے تھی مگر الٹا حکومت ہماری پیٹھ پیچھے کلبھوشن یادو کی سہولت کار بنی ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کرونا وائرس کے حوالے سے کوئی کام کرنا ہی نہیں چاہ رہی، پوری دنیا کی حکومتیں اپنا کردار ادا کررہی ہیں مگر یہ حکومت اس حوالے سے کام کرنے کو تیار نہیں، حکومت کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ کرونا وائرس سے جتنے زیادہ افراد بیمار اور جاں بحق ہوں گے، یہ ملکی معیشت کے لئے بھی نقصان دہ ہوگا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ برازیل اور سویڈن سمیت جن ممالک نے ہرڈ ایمیونٹی کو اختیار کیا اور کرونا وائرس کے معاملے میں لاک ڈاؤن سے انکار کیا، ان ممالک کی معیشت اور وہاں کے عوام کی زندگیوں کو دوسرے ممالک کی بنسبت زیادہ نقصان ہوا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطابق اگر گھر میں ایک کمانے والا فرد کرونا وائرس سے جاں بحق ہوجائے تو پورے گھرانے کی معیشت تباہ ہوجاتی ہے، تقریبا ایک صدی بعد کوئی ایسی وباء آئی ہے، حکومت کو نہ صرف عوام کی زندگیوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے بلکہ معیشت کو بھی بچانا ہوگا اور یہ حکومت دونوں محاذوں پر ناکام رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی حکومت کرونا وائرس کی وباء کے بعد سے ہر اس ایشو پر بات کرنے کی کوشش کررہی ہے جو غیرمتعلقہ ہو، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ میں ان کی کوشش رہی ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف ایک بھرپور جدوجہد کی جائے اور اس حوالے سے عوام کو مفت علاج بھی فراہم کیا جائے، ایک سوال کے جواب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ گینگ وار کے حوالے سے میڈیا مہم چلانے والے لیاری کے عوام کے خلاف سازش کررہے ہیں، کراچی والوں کو پتہ ہے کہ جب پورا کراچی جل رہا تھا تو لیاری میں جاکر پناہ لی جاتی تھی، بارہ مئی کو کراچی کے عوام نے سڑکوں سے اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھائیں، اس زمانے میں ہمارا شہر کراچی ہر ایک ہفتے بعد بند کروادیا جاتا تھا، یہ سارے کام لیاری سے نہیں ہوتے تھے، لیاری میں جرائم پیشہ افراد تھے مگر یہ جرائم پیشہ افراد ملک بھر میں ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایک چھوٹو گینگ تھا مگر وہ معاملہ کبھی اتنا نہیں اچھالا جاتا، ملک کے ہر دوسرے ڈسٹرکٹ میں ایک چھوٹا موٹا مجرم گروہ ہوتا ہے، صرف لیاری کو ٹارگٹ کرکے آخر کس نتیجے کے حصول کی کوشش کی جارہی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ لیاری کا ایک گینگسٹر اسامہ بن لادن کی تو برابری نہیں کرسکتا، لیاری کے ایک گینگسٹر اور احسان اللہ احسان میں تو کوئی برابری نہیں ہے جسے حکومت نے خود فرار کرایا اور اب اگر آپ عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کریں گے تو جواب میں احسان اللہ احسان دھمکی دیتا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے بڑے گینگسٹر لیاری کے نہیں بلکہ نائن زیرو کے تھے، نائن زیرو کے گینگسٹرز آج تک عمران خان کے ہمراہ حکومت میں شریک ہیں، یہ کیا بات ہوئی کہ احسان اللہ احسان اور اسامہ بن لادن کو بھول جاؤ اور لیاری کے معمولی گینگسٹرز کا تذکرہ بار بار دکھایا جائے، یہ کراچی کے ساتھ ناانصافی ہے، ایک اور سوال کے جواب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شاہ محمود قریشی کی کرونا وائرس سے صحت یابی پر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر شاہ محمود قریشی ریمنڈ ڈیوس کے نام پر حکومت سے نکل سکتے ہیں تو اب کلبھوشن یادو آرڈیننس پر کیوں حکومت سے نہیں نکل رہے؟ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی ناراض اتحادیوں کے ساتھ زبردستی چلوائی جانے والی حکومت زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گی، یہ بس کچھ وقت کا کھیل ہے، ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی حل نکلے، وہ جمہوری ہو۔