پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ پچھلے الیکشن میں ہمارے ادارے جتنے متنازع ہوئے، اتنے پہلے کبھی متنازع نہیں ہوئے۔25جولائی کو ایک سلیکٹیڈ کو لایا گیا، عوام اس کو بلیک ڈے کے طورپر منائے گی، اگر کورونا وائرس کا مسئلہ نہ ہوتا تو سیاسی جماعتیں سڑکوں پر اس دن کو منا رہی ہوتیں،موجودہ حکومت نے معیشت، جمہوریت کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا پہلے کھبی نہیں پہنچایا گیا،چینی ، آٹا اور تیل چوروں کے بعد اب کلبھوشن یادیو کو این آر او دیا جا رہا تھا جس نے کشمیر کا سفیر بننا تھا آج وہ کلبھوشن یادیو کا وکیل بنا ہے،پاکستان میں صرف سندھ واحد صوبہ ہے جس میں لوکل گورنمنٹ اپنی مدت پوری کرے گا، اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر آنچ آئی تو حکومت کٹہرے میں ہوگی، کلبھوشن یادیو کے حوالے سے حکومت نے پیپلزپارٹی سے رابطہ نہیں کیا ہم پارلیمان اور عدالت میں مخالفت کریںگے، سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے بعد پیپلزپارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ نیب کو ختم کردینا چاہیے اور تمام سیاسی جماعتیں کو لیول پلینگ فیلڈملنا چاہیے، آل پارٹی کانفرنس اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی سربراہی میں عید کے بعد ہوگی۔ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ان کے ہمراہ مصطفیٰ نواز کھوکھر، فرحت اللہ بابر، نفیسہ شاہ، پلوشہ خان، فیصل کریم کنڈی اور نذیرڈھوکی بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، پاکستان بھر میں پولنگ اسٹیشن سے پولنگ افسران کو باہر نکال دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس انتخابات میں سب معلوم تھا کہ فارم 45 کی کیا اہمیت ہے اور پاکستانی قوم کو سمجھنا کہ فارم 45 کیا ہے، وزیر اعظم عمران خان کا بہت بڑا کردار ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 90 فیصد فارم 45 تاحال غائب ہیں، غائب اگر نہیں ہیں تو اس کے پولنگ ایجنٹ کے دستخط نہیں ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں انتخابی عمل میں شفافیت کے لیے بھرپور کوشش کرتی رہیں کہ اگر سیکیورٹی کے مسائل ہیں تو پولنگ اسٹیشن کے باہر تک سیکیورٹی دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دفاعی اداروں کے اہلکاروں کا انتخابی سینٹر کے اندر کھڑا ہونا، قانونی، آئینی جواز بنتا ہے؟بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 2007 میں دہشت گردی عروج پر تھی، بے نظیر بھٹو پر قاتلانہ حملے کے بعد ہونے والے انتخابات میں پولنگ اسٹیشن کے اندر فوج نہیں تھی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ لیکن معلوم نہیں کیوں، ضیاالحق اور پرویز مشرف کے دور میں ایسا نہیں ہوا تو عمران خان کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا؟ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ انتخابات متنازع ہوئے اور جنہیں کبھی بھی متنازع نہیں ہونا چاہیے وہ متنازع ہوگئے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ جب آپ (فوج)پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر، فارم کی وصولی اور دیگر معاملات کے وقت موجود ہوں گے تو متنازع ہوں گے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ گزشتہ انتخابات سے جتنا نقصان ہمارے نظام کو پہنچا، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم لیڈر نہیں بلکہ کٹھ پتلی ہے اور اس کی وجہ سے عوام سے لیکر ادارے نقصان سے دوچار ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان کو لانے کا مقصد نئے پاکستان میں 90 روز کے اندر کرپشن سے ملک کو پاک کرنا تھا اور اب عوام سے پوچھیں کہ نئے پاکستان میں کرپشن کا گراف کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشل کے مطابق سلیکٹڈ دور میں جو کرپشن ہورہی ہے، پاکستان کی تاریخ میں اتنی کرپشن نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت رہی تو جمہوریت، معیشت اور معاشرے کو نقصان ہوگا، کسی کو این آر او نہ دینے کی بات کرنے والے عمران خان نے سب سے زیادہ ایمنسٹی دی ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بی آر ٹی سب سے زیادہ متنازع ہے اسے بھی این آر او دے دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جو اثاثے ڈیکلیئر کیے گئے ہیں، کیا ان پر آمدنی سے زائد اثاثوں کا کیس نہیں بنتا؟ چینی، آٹا ور تیل چور اور اب کلبھوشن یادیو کو این آر او دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ جس نے کشمیر کا سفیر بننا تھا آج کلبھوشن کا وکیل بنا ہے۔ آئین میں لکھا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہوا تو آرڈیننس ایوان میں فوری پیش کرنالازمی ہوتا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آرڈیننس ایوان میں نہ لا کر انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے بات نہیں کرنی تو چلیں پھر قانون پاس کرکے دکھائیں، مشورہ کرتے تو انہیں بتاتے کہ شخصیت پر مرکوز قانون سازی نہیں کی جاسکتی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دال میں کچھ کالا نہیں تھا تو آرڈیننس کو ہم سے اور پارلیمنٹ سے کیوں چھپایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ہر چیز کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی انسانی حقوق اور انٹرنیشنل قانون پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ قوم کے لئے بڑے فیصلوں پر اتفاق رائے ہونا ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے منشور کے مطابق ڈلیور نہیں کر سکی۔ عوام سے کئے گئے ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ 90دن میں کرپشن ختم کرنی تھی 100دن میں صوبہ بنانا تھا، 50لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکری دینی تھیں، جبکہ لاکھوں لوگ بیروزگار ہوئے۔ گروتھ منفی میں چلی گئی۔ پنجاب، خیبر پختونخواہ میں لوکل گورنمنٹ نظام اپنی مدت پوری نہیں کر سکا۔ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں لوکل نظام اپنی مدت پوری کرےگا۔ حکومت نے پولیس کے نظام کو سیاست سے پاک کرنا تھا لیکن خیبر پختونخواہ، پنجاب اور وفاق کے آئی جیز سیاسی بنیادوں پر تبدیل کئے گئے۔ وزیراعظم ہا?س اور گورنر ہاوس کو یونیورسٹی بنانا تھا۔ وزیراعظم سائیکل کی بجائے ہیلی کاپٹر استعمال کر رہے ہیں۔ ہر وعدے پر یو ٹرن لیا گیا۔ جمہوریت کا جنازہ نکال دیا معیشت تباہ کر دی لوگوں کی صحت اور زندگی خطرے میں ڈال دی۔ اب پاکستان کی عوام نے یہ فیصلہ کرنا ہے اس سلکٹیڈ کو نہیں رہنے دیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس باقر نے نیب کے حوالے سے جو تاریخی فیصلہ دیا ہے کہ نیب کو کس طرح سے استعمال کیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ نیب کو ختم کر دینا چاہیے۔ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر بات آئی تو حکومت کٹہرے میں ہوگی۔ آل پارٹی کانفرنس عید کے بعد ہوگی ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے۔ ن لیگ سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں اپنا اپنا کام کر رہی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف جے آر ٹیز لائی جار ہی ہیں مگر ہم مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اپوزیشن لیڈر آل پارٹی کانفرنس کو لیڈ کریں گے۔