پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کی بدولت صوبوں کو مالی اختیارات ملے، جس کی وجہ سے صوبے ٹیکس کلیکشن میں خودمختار ہوئے۔ سندھ کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے سندھ ریونیو بورڈ جیسا ایک مستحکم ٹیکس جمع کرنے کا ادارہ بنایا، جس نے عالمی وباء کے دوران بھی آٹھ فیصد زیادہ ٹیکس وصول کیا اور کارکردگی میں ایف بی آر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔ ان خیالات کا اظہار بروز جمعہ کے روز صدر ڈاون ٹاؤن کے علاقے میں پیپلز اسکوائر اور زیرزمین کار پارکنگ کا افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صوبائی وزرا ، سعید غنی ، سید ناصر شاہ ، سہیل انور سیال، امتیاز شیخ، شہلا رضا، مشیر مرتضی وہاب، ایم این اے آغا رفیع اللہ، ایم پی ایز سعدیہ جاوید، سریندر ولاسائی، نوید انتھونی اور شازیہ کریم، اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی جاوید نایاب لغاری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے ۔ ورلڈ بینک گروپ کے کنٹری ڈائریکٹر مسٹر ناجے بین ایسن اور اسلام آباد اور واشنگٹن ڈی سی کے نمائندوں نے آن لائن تقریب میں شرکت کی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایس آر بی نے اپنے وصولی کے ہدف کو حاصل کرلیا ہے مگر ایف بی آر اپنے ہدف کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے ، جس کے نتیجے میں صوبائی حکومتیں بشمول سندھ سمیت دیگر صوبوں کو محصولات کی مد میں اپنے حصے میں ایک بڑے ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ نے اپنی استعداد سے بڑھ کر کام کیا ہے قومی مالیاتی کمیشن میں ہر بار کٹوتی کردی جاتی ہے تب بھی عوام کی بھلائی کے منصوبے بند نہیں کئے اپنی ٹیکس کلیکشن بڑھا کر اور سستے قرضے حاصل کرکے عوامی اہمیت کے منصوبے مکمل کررہے ہیں۔ کوشش ہے کہ بلدیاتی اداروں کی ٹیکس کلیکشن میں بھی اضافہ ہو سندھ وہ واحد صوبہ ہے جو وفاق سے زیادہ اپنے وسائل اور ٹیکس کلیکشن پر انحصار کرتا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی وہ شہر تھا جہاں جب ہمیں حکومت ملی تو پوری دنیا کے دہشتگرد اس شہر میں سرگرم تھے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل کیا جاتا تھا جس میں بین الاقوامی مافیا ملوث تھی اور مقامی ٹھگ ان کی حمایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت کے آمر نے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیاہماری حکومت نے لڑ کر دہشتگردی کو شکست دی سندھ پولیس نے اوّل دستہ کا کردارادا کیا سندھ میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی تو اس نے مجرموں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا اور شہر میں امن بحال کیا۔ اس امن کے قیام میں رینجرز پولیس اور عوام نے اپنے خون کے نذرانے دئیے تب جاکر اس شہر کی رونقیں بحال ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں بلدیاتی اداروں نے اپنی مدت پوری کی ہے۔ صوبے کے دارلخلافہ میں نشستیں ہونے کے باوجود اپوزیشن کو تحمل سے برداشت کیا اور کسی بھی قسم کے مسائل پیدا نہیں کئے، جبکہ اس کے برعکس پنجاب میں عمران خان نے لوکل گورنمنٹ نظام کو ختم کیا۔ بلدیاتی حکومتوں کی مدتیں ختم ہونے جارہی ہیں جلد انشاء اللہ انتخابات بھی ہوں گے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی پارٹی کی حکومت کراچی اور اس کے لوگوں کے مسائل حل کرے گی۔ عمران خان اپنے تمام وعدے پورے کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں کوئی منصوبہ نہیں دیا گیا صرف باتیں کی گئیں لیکن حکومت سندھ اس شہر کے لوگوں کی خدمت کرے گی ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے ان کا لگاؤ ہے وہ اسی شہر میں پیدا ہوئے، ان کے نانا نے ایس ایم لاء کالج میں پڑھایا، ان کی والدہ اور والد کی پیدائش بھی اسی شہر میں ہوئی۔ اس شہر کی ترقی ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے کراچی ترقی کرے گا تو پورا صوبہ سندھ اور پاکستان ترقی کرے گا اور ہم اس ملک کی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام ہمارا ساتھ دے اگر ملکر چلے تو اس شہر کی ترقی پوری دنیا دیکھے گی۔ وسائل نہ بھی ہوئے تو ہم فنڈز کا بندوبست کرکے بھی اس شہر کو ترقی کیلے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صوبے کے ہر ضلع میں اس طرح کے پیپلز اسکوائر تعمیر کریں گے اور ترقی کا یہ سفر اسی طرح جاری رہے گا۔ صدر ڈاون ٹاؤن ایریا میں انڈر گراؤنڈ پارکنگ اینڈ پیپلز اسکوائر کراچی نیبر ہڈ امپرومنٹ پروجیکٹ (کے این آئی پی) کے تحت تعمیر کیا گیا ہے۔