اسلام آباد / کراچی ( 07 ستمبر 2020) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں سب سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 22.8 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے شرحِ خواندگی میں اضافے کے لئے اجتماعی کوششوں اور ذمہ داریوں پر زور دیا ہے۔ یونیسیف کی جانب سے عالمی یوم خواندگی کے موقع پر جاری کردہ اپنے پیغام میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہم آہنگی سے محروم معاشروں کے لیئے ناخواندگی ایک زرخیز میدان ہے، اور قوم کو اس بات کا نوٹس لینا چاہئے کہ اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد میں فی صد اضافہ ہورہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور جو قومیں یہ حق دینے میں ناکام ہوتی ہیں، انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے، کیونکہ صحتمند و تعلیم یافتہ نسل کی پرورش ہی ایک پرامن، خوشحال اور مضبوط ملک کی ضمانت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خواندگی اور تعلیم کی بہتری کے لئے جدوجہد کی ہے، کیونکہ اس جماعت کو پاکستان میں سب سے زیادہ تعلیمی ادارے قائم کرنے کا اعزاز حاصل ہے، جبکہ آمرانہ حکومتوں کے دوران تعلیمی سرگرمیوں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، جب سیاسی بے اصول افراد و کٹھ پتلیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیئے گھوسٹ اسکول کی عمارتوں کو بطور سیاسی رشوت متعارف کرایا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے نشاندہی کی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اپنے صوبائی بجٹ کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ تعلیم کے لیئے مختص کر رکھا ہے اور اُن بچوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے کے لیئے مختلف پروگرام بنائے جا رہے ہیں، جو اسکولوں سے باہر ہیں