سلام آبا(3ستمبر 2020) پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے سلیکٹڈ وزیراعظم عمران خان کے ایک ٹی وی انٹرویو پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ FAFT جیسے حساس معاملے پر تنقیدی بیان بازی وزیراعظم کے منصب کے شایان شان نہیں ہے۔ عمران خان آدھی سے زیادہ پارلیمنٹ پر مشتمل اپوزیشن کو بھارت سے ملانے پر قوم سے معافی مانگیں۔ اپوزیشن نے ملکی، قومی اور عوامی مفاد کی قانون سازی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ پی ٹی آئی حکومت نے مشکل وقت میں اپوزیشن کے گھٹنے پکڑنا اور بعد میں زبان درازی کا وطیرہ بنا دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ صدر ہاﺅس کو آرڈیننس فیکٹری بنانے والے وزیراعظم کس منہ سے قانون سازی کا ذکر کرتے ہیں؟ آئین میں موجود بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت کی خلاف ورزی کی ہر قدم پر مخالفت کی جائے گی۔ ماورائے آئین قانون اور اختیارات آمرانہ ذہنیت کی عکاسی ہے۔ اس کے علاوہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا اپوزیشن پر الزام قابل مذمت اور براہ راست دھمکی ہے۔ سلیکٹڈ وزیراعظم اس طرح کے بیانات دے کر اپوزیشن پر دباﺅ ڈالنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے FAFT میں ترامیم کے بلز کی حمایت کی مگر FAFT کی آڑ میں غیر قانونی اقدامات کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ FAFT کی آڑ میں بغیر وارنٹ کے گرفتاری سمیت دیگر اقدامات کی شقیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ سلیکٹڈ حکومت چاہتی ہے کہ FAFT کی آڑ میں انہیں ماورائے عدالت اور غیر آئینی اختیارات دئیے جائیں۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے واضح کیا کہ جو قانون سازی FAFT کی آڑ میں سلیکٹڈ حکومت کروانا چاہتی ہے وہ FAFT کی شرائط نہیں ہیں۔