میرپورخاص (09 ستمبر 2020) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ واضح نظر آرہا ہے کہ نیا پاکستان میں ایک نہیں دو پاکستان ہیں، سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف توشہ خانہ کیس سمیت تمام مقدمات سیاسی اور مضحکہ خیز ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بارش و سیلاب متاثر ضلع میرپورخاص کے دورے کے تیسرے روز ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ قانون سب کے لیئے ایک ہونا چاہیئے، دوغلا نظام نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمہ توشہ خانہ کا نہیں، بلکہ اٹھارویں ترمیم، این ایف سی اور عوام کو اُس کا حق دینے کا حساب لیا جا رہا ہے۔ سابق صدر کو عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے، نیب کو ایسا سلوک نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر اور وزرائے اعظم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں تو سب کو حساب دینا پڑے گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سابق آمر مشرف نے اعتراف کیا ہے کہ اسے اربوں روپے تحفوں میں ملے۔ کیا اُس نے توشہ خانہ میں مطلوبہ حصہ جمع کرایا۔ کوئی پوچھے گا کہ اس کے پاس بیرونِ ملک جائیدادییں اور پئسہ کہاں سے آیا؟۔ احتساب ہوگا تو سب کا ہوگا، ورنہ یہ مذاق بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ نیب پہلے گرفتار کرتا ہے، پھر انویسٹیگیشن کرتا ہے اور اس کے بعد ریفرنس فائیل کرتا ہے۔ کیوں یہ طریقہ حکومت میں شامل افراد کے لیئے اختیار نہیں کیا جاتا۔ بلاول بھٹو زرداری نے سوال اتھاتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ وزیراعظم اور ان کے معاونین خصوصی کے خلاف جے آئی ٹی کب بنے گی۔ وزیراعظم تو اپنے اُس اسپیشل اسسٹنٹ سے استعیفیٰ بھی نہیں لے سکتا، جس کی بیرونِ ملک جائیدادیں ظاہر ہوئی ہیں۔ سندھ میں بارشوں کے پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سیلاب اور بارش سے بہت نقصان ہوا ہے، اس قومی سانحے میں ایک ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء اور ٹڈی دل کے نقصان سے لوگ ابھی نکل نہیں پائے تھے کہ بارش کی تباہ کاری کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ ضلع میرپور خاص میں سب سے زیادہ بارش ہوئی، بارشوں سے سندھ کے دیہی علاقوں میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اکیلے قدرتی آفت کا سامنا نہیں کر سکتی، وفاق اپنی ذمیداریاں پوری کرے۔ وفاقی حکومت 2011ع میں آنے والے سیلاب کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی پیروی کرے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم پانچ گھنٹے کے ٹرپ پر سندھ نہ آئیں، یہاں آکر بیٹھیں، نظر آئیں، اور کپتان بن کر سیلاب متاثرین کی مد د کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایگریکلچر ایمرجنسی لگا کر غریب کسانوں اور چھوٹے کاشتکاروں کو ریلیف دیا جائے۔ ایک سوال میں انہوں نے وفاقی وزراء پر تنقید کرت ہوئے کہا کہ پہلے انسان بنو پھر سیاستداں بنو، پہلے انسان بنو پھر وزیر بنو۔ امید ہے وزیراعظم اپنے وزراء کو بیانبازی سے روکیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اِس قسم کے قومی سانحے کے لیے سارے پاکستان کو ایک ہونا پڑے گا تاکہ ہم اپنے عوام کو ریلیف پہنچا سکیں۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، صوبائی وزراء ہری رام کشوری لال، سہیل انور سیال، میر شبیر بجارانی، سینیئر پارٹی رہنما پیر آفتاب شاہ، ایم این اے محمد بخش مہر، ایم پی اے ذوالفقار شاہ، شرجیل انعام میمن، قاسم گیلانی، عاجز دھامراہ، قاسم نوید قمر، شمیم آرا پنہور، سھراب مری، منصور شاہانی اور جنید بلند بھی موجود تھے