اسلام آباد(17 ستمبر2020) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے بہت قربانیاں دی ہیں اور خون کا نذرانہ پیش کیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس خون کا حساب لیا جائے۔ وہ پاکستان بار کونسل کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس سے اسلام آ باد میں خطاب کر رہے تھے۔ چیئرمین بلاول نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے ایک ایک کرکے ان کے خاندان کو شہید کیا ۔ سب سے پہلے ان کے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ایک ڈکٹیٹر نے پھانسی پر چڑھایا اور ان کے ماموں شاہ نواز بھٹو کو زہر دے کر شہید کیا گیا۔ اس کے بعد ان کے بڑے ماموں میر مرتضی بھٹو کو کراچی میں شہید کیا گیا اور پھر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا خون راولپنڈی کی سڑکوں پر بہایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے وہ لوگ بھی آج اس کانفرنس میں موجود ہیں جو شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تھے اور وہ لوگ بھی موجود ہیں جو ان کے ساتھ نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو ان کے مخالف تھے وہ بھی ذوالفقار علی بھٹو کو آج شہید کہہ رہے ہیں۔ اسی طرح ان کی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو جن لوگوں کے کرپٹ کہا تھا وہ بھی آج انہیں شہید قرار دے رہے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ آج بھی ٹیلی وژن پر ان کی کردار کشی کی جاتی ہے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی اپنے اصولوں، موقف اور منشور پر ثابت قدمی کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جو بھی حقوق پاکستانی عوام کو حاصل ہیں وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی قربانیوں کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کس قسم کی ریاست مدینہ ہے جہاں ایک خاتون کا گینگ ریپ کیا جاتا ہے اور وہ پولیس افسر جس کی ذمہ داری اس خاتون کو تحفظ دینا تھی وہی افسر خاتون ہی کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے اور سارے وفاقی وزراءاور وزیراعظم خود اس افسر کی حمایت میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج سیلاب کی وجہ سے سندھ میں 25 لاکھ لوگ سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہوئے ہیں اور بے گھر ہوگئے ہیں۔ اسی قسم کی صورتحال بلوچستان، کے پی اور گلگت میں ہے لیکن میڈیا میں ان لوگوں کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ 2010-11 کے سیلاب میں پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے وطن کارڈ کے ذریعے سیلاب زدگان کی مدد کی تھی لیکن بدقسمتی سے اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے سیلاب زدگان کی کوئی مدد نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ کل پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حکومت نے قانون سازی کو بلڈوز کیا یہاں تک کہ اسپیکر نے اراکین کی دوبارہ گنتی بھی نہیں کروائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو ہم بھی یہ سوچنے میں مجبور ہوجائیں گے کہ کب تک پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹمپ کی طرح دیکھتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج معاشرے کے ہر طبقے کے حقوق غصب کئے جا رہے ہیں۔ آپ لوگوں کو پتہ ہے کہ نیب اور اسٹیبلشمنٹ نے کس طرح سے دباﺅ ڈالا ہوا ہے؟ وہ میڈیا مالکان جو کبھی کہتے تھے کہ وہ حکومت بناتے اور گراتے ہیں آج انہیں خود سختیوں اور دباﺅ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بار کے سینئر اراکین نے ہم سب کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے کہ جس وقت عدلیہ کی تحریک چل رہی تھی اس وقت شہید محترمہ بینظیر بھٹو، صدر آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی ایک بہتر عدلیہ کے لئے اپنا موقف سامنے لانا چاہتے تھے لیکن اس وقت کسی نے ہماری حمایت نہیں کی۔ جب پاکستان پیپلزپارٹی نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی تھی تو ہر کوئی یہ کہنے لگا کہ ہم ایسا کرپشن کو چھپانے کے لئے کر رہے ہیں، آج وہ لوگ غلط ثابت ہوگئے ہیں۔ آج ہر کوئی اٹھارہویں ترمیم پر ہمارے ساتھ کھڑا ہے لیکن جب ہم کہتے تھے کہ ایک قومی پارٹی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور ایک صوبے تک محدود کیا جا رہا ہے تو کسی نے بھی ہماری بات نہیں سنی۔ ہم نے میثاق جمہوریت میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ایک آئینی عدالت بنائیں گے اور پیپلزپارٹی آئینی عدالت بنانا چاہتی تھی لیکن ہمارا ساتھ نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ سے زبردستی 19ویں ترمیم منظور کرائی گئی۔ جب ہم نے کہا کہ ججوں کی تقرری میں بار ، پارلیمنٹ اور عدلیہ کی رائے لی جائے تو کسی نے بھی ہم سے تعاون نہیں کیا۔ اس وقت ہمیں یہ دھمکی دی گئی تھی کہ اگر ہم 19ویں ترمیم نہیں کریں گے تو 1973ءکا آئین ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں 19ویں ترمیم جیسی قانون سازی کا کوئی مستقبل نہیں یہ بات اسی طرح جس طرح سینئر صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ یہ کمپنی نہیں چلے گی۔ انہوں نے پاکستان بار کونسل سے کہا کہ وہ اپنی آج کی قراردادوں میں 19ویں ترمیم ختم کرنے کی قرارداد بھی شامل کریں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ دو سال کی عمر سے احتساب دیکھ رہے ہیں اور اپنے والدین کے ساتھ انہوں نے عدالتیں بھی دیکھی ہیں اور جیلیں بھی۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے خلاف متعدد جھوٹے مقدمات بنائے گئے تھے لیکن وہ سارے مقدمات ختم ہوگئے لیکن بدقسمتی سے محترمہ اپنے آپ کو برالذمة دیکھنے سے قبل ہی خالق حقیقی سے جا ملیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کے متعلق ہم سب کا ایک ہی بیانیہ ہونا چاہیے۔ یہ کیسی شہری آزادیاں کہ کسی سیاستدان کا انٹرویو بھی ٹیلی وژن پر یا تو نشر ہی ہونے نہیں دیا جاتا یا اسے کاٹ دیا جاتا ہے۔ یہ زندہ قوموں کی نشانی نہیں ہے۔ ہم نے بے تہاشہ قربانیاں دی ہیں اور اب ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے خون کا حساب دیا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی 18رویں ترمیم اور صوبوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں متحد ہو کر پارلیمنٹ اور اس ملک کو آزاد کروانا ہوگا۔