ہائی کورٹ کے پنڈی بینچ نے منگل کے روز شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ سردار لطیف کھوسہ اس کیس میں وکیل کی حیثیت سے پیش ہوئے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے سید نیر حسین بخاری ، سینیٹر فرحت اللہ بابر، راجہ پرویز اشرف، عامر فدا پراچہ، اعجاز دورانی، ایڈووکیٹ سجاد منگی، حافظ نعیم اور نذیر ڈھوکی بھی عدالت میں موجود تھے۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے دیگر لیڈروں کے ساتھ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے سردار عبدالطیف کھوسہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے جیالے ابھی تک انصاف کا انتظار کررہے ہیں۔ یہ بات سب کے سامنے ہے کہ اس کیس کا بڑا ملزم جنرل پرویز مشرف کس طرح سے ملک سے فرار ہوگیا۔ جنرل مشرف نے متعدد ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے لیکن ان پر عمل نہیں ہوا۔ سی پی او نے عدالت کی حکم عدولی کی اور اس اہم کیس میں حاضر نہیں ہوئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو 19سال قید کی سزا ہوئی تھی ان سب کو نوکریوں پر بحال کردیا گیا ہے بلکہ ترقی بھی دے دی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنرل مشرف کو واپس لا کر سزا دی جائے۔ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ اے پی سی کا 16پوائنٹ کا علامیہ پاکستان کی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزراءکو چاہیے کہ اپنے بیانات کے ذریعے بھارت کے سہولت کار نہ بنیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سیاست سیاستدانوں کا کام ہے۔ انہوں نے فوج کی جانب سے سیاست سے دور رہنے کے بیان کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمانی جمہوری نظام کی حفاظت کےلئے متحد ہے