پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہید بینظیر آباد میں تحریک بحالی جمہوریت کے 16 شہداء کے 37ویں یوم شہادت پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاؤں پنھل خان چانڈیو میں بہادر جیالوں نے تاریخ رقم کی، میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری کردہ بیان میں پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ جیالوں نے ہمیشہ جمہوریت، آئین اور انسانی حقوق کی بالادستی کے لئے اگلے محاذوں پر دادِ شجاعت کا مظاہرہ کیا ہے، یہانتکہ اس اعلی و ارفع مقصد کے لئے اپنے وقت کی مقبول عوامی تحریکوں کے دوران اپنی جانیں تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ جیالوں کی نئی نسل عوام کے حقوق کی جدوجہد کے لئے تیار ہے تاہم اب ان کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ آمرانہ اور کٹھ پتلی ادوار میں سیاسی کارکنوں پر جمہوریت کی آبرو بچانے اور انسانی حقوق کی بالادستی کی کوشش کے جرم میں جو ظلم روا رکھے گئے، ان کا حساب بھی دیا جائے، یہ واضح رہے کہ ڈکٹیٹر جنرل ضیاء کے دور میں سکرنڈ کے قریب قومی شاہراہ پر قرآن خوانی کرتے ہوئے 16 جیالوں کو آج کے دن 36 برس قبل شہید کیا گیا تھا جبکہ اسی واقعے میں 52 جیالے گرفتار بھی ہوئے تھے، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں جمہوریت کی بالادستی کے لئے جدوجہد دوران شہید ہونے والے ان جیالوں میں محمد صادق چانڈیو، پیر بخش چانڈیو، علی شیر چانڈیو، غلام مصطفی چانڈیو، محمد عرس چانڈیو، گلاب چانڈیو، تھارو چانڈیو، رجب چانڈیو، محمد ہاشم خاصخیلی، میرو خاصخیلی، علی گل خاصخیلی، محمد رمضان خاصخیلی، جانب خاصخیلی، اللہ رکھیو سولنگی، محبوب سولنگی، اور حسین بخش منگنھار شامل ہیں، ایک بزرگ جیالے پنھل خان چانڈیو اور اور ان کے صاحبزادے غلام عباس چانڈیو گرفتار ہونے والے 52 افراد میں شامل ہیں، گرفتار ہونے والے جیالوں پر بعد ازاں سکھر، خیرپور اور نواب شاہ کے زندانوں میں بہیمانہ تشدد ہوا، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شہدائے جمہوریت کے یوم شہادت پر کہنا ہے کہ پی پی پی قیادت اور کارکنان اس عظیم قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے، یہ بہادر جیالے ہمیشہ ہماری یادوں میں رہیں گے۔