اسلام آباد (28 ستمبر 2020) پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہباز شریف کی گرفتاری کو قومی اسمبلی رولز کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا اپنے جاری ایک بیان میں کہنا تھا کہ آج کے دن سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور پر جھوٹے مقدمات میں فرد جرم عائد کی جاتی ہے تو دوسری جانب اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا جاتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں شروع کیا گیا ایک ٹارگٹڈ احتساب کا عمل اب تک جاری ہے۔ اپوزیشن حکومت کے ان اوچھے ہتھکنڈوں سے گھبرانے والی نہیں، سلیکٹڈ حکومت کے بیانات اور اپوزیشن کے خلاف کارروائیاں اے پی سی کے بعد بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ حکومت اپوزیشن کی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی اتنا گھبرا گئی ہے تو پی ڈی ایم کے تحت تحریک شروع ہونے کے بعد حکومت کیا کرے گی؟ ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا کہنا تھا پیپلزپارٹی نے کبھی احتساب کی مخالفت نہیں بلکہ بلاتفریق احتساب چاہا ہے، پارٹی قیادت کے لئے سلاخیں اور یہ جھوٹے مقدمات کوئی نئی بات نہیں، سابق صدر آصف زرداری نے پہلے بھی جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا اور سرخرو ہوئے، اب بھی سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور ان نیب کیسز کا مقابلا کرے گی اور سرخرو ہوگی۔ نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ نام نہاد تبدیلی سرکار کے دورے حکومت میں احتساب کے دہرے معیار کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، تبدیلی سرکار نیب کو اپوزیشن کے خلاف استعمال کر کے انکو خاموش کروانا چاہتی ہے۔ حکومت یاد رکھے کہ ان جھوٹے مقدمات سے گھبرا کر پیچھے ہٹنے والے نہیں نہ ہی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے سے اپوزیشن کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ اے پی سی کے تحت حکومت مخالف تحریک شروع ہوگی اور اس سلیکٹڈ حکومت کو گھر جانا پڑے گا۔