پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی پی پی کراچی ڈویژن کی جانب سے منعقد کردہ پیپلز ڈیموکریٹک موومنٹ کے عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹڈ اور سلیکٹرز دونوں کو جانا پڑے گا، بصورت دیگر انہیں اپوزیشن و عوام کے بیانئے کے پیج پر آنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا حقیقی جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں حکومتیں عوام کی مرضی سے بنتی ہیں، نہ کہ امپائر کی انگلی سے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سلیکٹڈ اور سلیکٹرز آئین و قانون کی حکمرانی پر حملہ آور ہوئے ہیں، جبکہ جمہوری قوتوں نے پارلیمنٹ، روڈوں اور جیلوں میں جاکر بھی لڑنے کا تہیہ کیا ہے، کیونکہ جیلیں حقیقت اور لوگوں کی سوچ کو قید نہیں کرسکتیں۔ بھوکے بچے کے رونے پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی بیروزگار نوجوان کے غصے کو کنٹرول کرسکتا ہے۔ آپ ان لوگوں کو نیب کے ذریعے ڈرا نہیں سکتے، جو کارساز بم دھماکوں سے بھی خوفزدہ نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اکیلے پی ڈی ایم کی جنگ نہیں ہے، بلکہ درحقیقت یہ مزدوروں، کسانوں، ڈاکٹروں، طلباء، اساتذہ، سرکاری ملازمین اور عام آدمی کی مزاحمت ہے، جنہوں نے اب اپنی چوری شدہ آزادیاں واپس چھین کر لینے کا عزم کر لیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ بدھ تک سندھ کے جزائر کے متعلق آرڈیننس سے دستبردار ہوجائے، ورنہ پاکستان پیپلز پارٹی مذکورہ آرڈیننس کو سینیٹ، قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی سے قانون سازی کے ذریعہ منسوخ کردے گی۔ آپ رات کے اندھیروں میں جاری کردہ آرڈیننس کے ذریعے صوبے کے جزائر پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں طوفان اٹھ رہا ہے، جبکہ مذکورہ جزائر پر صوبوں کا آئینی حق ہے اور سندھ اور بلوچستان کے ماہیگیر ان کے مالک ہیں۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن پی ٹی آئی حکومت نے سندھ کے میرپورخاص، عمرکوٹ، سانگھڑ، بدین اور دیگر اضلاع میں حالیہ بارشوں و سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی کوئی مدد نہیں کی۔ 2010ع میں صدر آصف علی زرداری کی حکومت کے دوران وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کو پاکستان کارڈز کے ذریعے نقد امداد فراہم کی تھی، لیکن اس بار تحریک انصاف کی حکومت نے متاثرین کی کوئی مدد نہیں کی، مزید برآں، اُس نے سندھ حکومت کے 300 ارب روپے کے فنڈز روک لیئے ہیں، جو کراچی اور صوبے کے دیگر حصوں میں بیروروزگاروں کے لیئے گذرمعاش کے مواقع پیدا کرنے اور انفرااسٹرکچرکی بحالی کے لئے استعمال ہوسکتے تھے۔ کٹھ پتلی وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ کراچی پیکیج کے 1000 ہزار ارب روپے کے متعلق بات کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ مذکورہ فنڈز میں سے 800 ارب روپے سندھ حکومت کی طرف سے دیئے جانے ہیں، جبکہ 100 ارب روپے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومتوں کی جانب سے پہلے ہی بنائے گئے سالانہ ترقیاتی پروگرامز میں سے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے بے گناہ لوگوں کو مارا جارہا ہے اور جبراً لاپتہ کیے جارہے ہیں، جبکہ اس میں ریاست ملوث ہے، جہاں ایک شخص خود کو جمہوریت قرار دے رہا ہے، لیکن پاکستانی عوام کٹھ پتلیوں اور ان کے سہولت کاروں کی جانب سے جمہوریت کے ساتھ ہونے والے اس مذاق کو ہونے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے خون سے جمہوریت و عوام کے حقوق کا دفاع کیا اور ضیاء اور مشرف کی آمرانہ حکومتوں کے خلاف جنگ لڑی، لیکن غریبوں اور پسماندہ طبقات کو کبھی نہیں چھوڑا۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پی ڈی ایم اقتدار کے لئے نہیں لڑ رہی، بلکہ یہ جمہوریت اور آئین پاکستان میں شامل حقوق اور آزادیوں کے لیئے جدوجہد ہے اور یہ تحریک ایم آر ڈی، اے آر ڈی اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے دستخط کردہ میثاقِ جمہوریت کے تحت ہونے والی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے گندم، آٹے، چینی اور پیٹرول کی چوری کرکے عوام کو بے رحم مہنگائی اور ضرورت کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی جانب دھکیل دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے نشاندہی کی کہ ایسے ادارے، جو عوام کا تحفظ کرسکتے ہیں، انہیں ایک ایک کرکے کمزور کیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا دباؤ میں ہیں۔ ہم ان اداروں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں جو عوام اور جمہوریت کا تحفظ کرسکیں۔ کیونکہ جہاں جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی، وہاں فیصلے صرف چند افراد کے مفادات کی پورا کرنے اور انہیں بچانے کے لئے ہوتے ہیں۔