چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے الیکشن کمشنر اپنی اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں کا ریکارڈ منظر عام پر لائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ الیکشن کمشنر کی ذمہ داری ہے کہ وہ جی بی میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائیں لیکن وہ اسلام آباد میں جا کر حکومتی اراکین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور میرے کے خلاف پریس کانفرنس کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میرے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہیں ہے اور یہ میرا حق ہے کہ میں پارٹی کی انتخابی مہم چلاﺅں۔ الیکشن کمشنر وزیراعظم اور دیگر وزراءکے سہولت کار بنے ہوئے ہیں انتخابات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ الیکشن کمشنر عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں کر رہے اور انہیں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا حق نہیں دے رہے۔ یہ بات انہوں نے جی بی کے انتخابات 2020ءکے لئے پیپلزپارٹی کی تین کارنر میٹنگوں بمقام پاکوارا، استور اور جگلوٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کے ساتھ سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل سید نیر حسین بخاری اور جی بی کے سابق گورنر اور پیپلزپارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ بھی موجود تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ عمران خان جی بی آیا اور اس نے جی بی کو عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کیا۔ وہ اتنا بے خبر ہے کہ اسے پتہ ہی نہیں کہ صدر آصف علی زرداری نے 2009ءمیں جی بی کو عبوری حکومت کا درجہ دیا اور پہلا گورنر اور پہلا وزیراعلیٰ دیا جس نے جی بی کے عوام کو 25000 ملازمتیں دیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جی بی کا پتہ ہی نہیں ہے اور اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ پاکستان پیپلزپارٹی کی تیسری نسل ہے جس کا رشتہ یہاں کے عوام سے بہت گہرا ہے۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ وہ جی بی کے لئے کسی پیکیج کا اعلان اس لئے نہیں کررہا کہ وہ الیکشن کے دورا ن ایسا نہیں کر سکتا لیکن یہاں کے عوام پوچھتے ہیں کہ اس نے جی بی کے لئے پچھلے دو سالوں کے دوران کیا کیا ہے اور کونسے پیکیج کا اعلان کیا ہے؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ الیکشن مہم کے دوران وزیراعظم اور وفاقی وزراءکا جی بی کا دورہ الیکشن قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے وزراءیہاں آکر پیسے تقسیم کر رہے ہیں لیکن یہ نااہل اور کٹھ پتلی حکومت نہیں جانتی کہ جی بی کے عوام غیرتمند اور وفادار ہیں اور بکنے والے نہیں۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ صرف پیپلزپارٹی ہی شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر زرداری کے دور میں جی بی کے عوام کی خدمت کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو سبسیڈی غذائی اشیائ، پٹرول اور کپڑوں پر جی بی کے عوام کے لئے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے دی اسے وزیراعظم عمران خان چھیننا چاہتا ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نہ صرف یہ کہ جی بی کو علیحدہ صوبے کا درجہ دے گی بلکہ حق حاکمیت اور حق ملکیت اور حق روزگار بھی دے گی۔ پیپلزپارٹی پورے جی بی میں عوام کے لئے نئے منصوبے شروع کرے گی۔ پیپلزپارٹی پر جی بی کے عوام کو یقین ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کرتی ہے کیونکہ ہم تین نسلوں سے وعدے پورے کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو نہ صرف استور اور جگلوٹ سے بلکہ پورے صوبے سے بھاری تعداد میں منتخب کروا کر اپنے حقوق حاصل کریں کیونکہ صرف پیپلزپارٹی ہی عوام کے حقوق کی ضامن ہے۔ پیپلزپارٹی روزگار فراہم کرتی ہے اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے لئے نعرہ ہی یہ تھے کہ “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا وہ شہید ذوالفقارعلی بھٹو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق جی بی کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن کر دیں گے اور شہداءکے خوابوں کی تعبیر مکمل کر دیں گے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ آج پاکستان کا ہر طبقہ سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ پاکستان کے ڈاکٹرز، نرسیں، سرکاری ملازمین، مزدور، کسان، لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آ چکے ہیں۔ یہ کتنی ظالم حکومت ہے جو اپنا حق مانگنے والوں پر لاٹھی چارج اور تشدد کرتی ہے۔ انہوں نے وہاڑی کے کسان رہنما ملک اشفاق لنگڑیال پر حکومتی تشدد کے نتیجے میں وہ شہید ہوگئے۔ انہوں نے حکومت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہ وہ دن دور نہیں جب عمران خان اور اس کے کٹھ پتلی حکومت عوامی احتساب کے کٹہڑے میں کھڑی ہوگی۔