اسلام آباد(10 نومبرر 2020ئ) پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنماو ¿ں نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور گلگت بلتستان کے عوام کا رشتہ تین نسلوں کا ہے ہم نےپہلے ہی گلگت بلتستان کوعبوری سٹیٹس دیاہواہے،وزیراعظم خود عبوری ہیں تو وہ کیسے خطے کو صوبہ کا درجہ دے سکتاہےسپیکر کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی جی بی میں ایجنڈے کی سیاست صرف پیپلز پارٹی کررہی ہے، وزرا بد زبانی و بد اخلاقی سےماحول آلودہ کررہے ہیں قومی سلامتی کے اہم ترین اجلاس میں بھی وزیراعظم کی ذہنی کیفیت کی وجہ سے نہیں بلایا گیا قومی سلامتی ادارے بھی سمجھتے ہیں کہ سٹیج پر جاکر کچھ اور ہی نہ بول دیں اس لئے انہیں اجلاس میں بلایا ہی نہیں گیاپی آئی اے کو بھی خاموش کرادیا گیا ہے، بین الاقوامی ایوی ایشن نے 90 روز کی سیکیورٹی کی بنیاد پر قومی ائر لائن کو مہلت دی ہےاگر 90 دن میں ہم نے ہوش نہ سنبھالا تو پھر ہماری آئر سپیس عمان، افغانستان یا ایران لے جائے گا ؟ اس کا ذمہ دار بھی وزیر ہوا بازی ہے ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کا سیاسی منظر نامے جو تبدیل ہوا ہے اس کا کریڈٹ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے پیپلز پارٹی کی ساری قیادت وہاں ہےچیئرمین جگہ جگہ جا رہے ہیں حق حاکمیتِ ،حق روز گار حق ملکیت کی جارہی ہے ،پیپلز پارٹی کا گلگت بلتستان کی عوام سے تین نسلوں کا رشتہ ہے پیپلز پارٹی کی حکومت نے جی بی سٹیٹس دے دیا ہے اس وقت سر سبز ماحول کو وفاقی وزیر بدزبانی اور آلودہ زبان سے خراب کر رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی صرف ایجنڈا پر بات کر رہی ہے گلکت کے لوگوں کے دلوں میں پیپلز پارٹی ہے فاتح پیپلز پارٹی کی ہی ہو گی انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی سیاست میں نیا ایجنڈا دینے جارہے ہیں حکومت پی ڈی ایم میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے پیپلز پارٹی کی قیادت میں پی ڈی ایم کا اعلان کیا گیا ہے اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مرکزی کردار ادا کریں گے ، قومی اسمبلی کے سپیکر نے جو اسمبلی کا حشر کیا ہے پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی کہ ہم نے ان کے بلائے ہوئے اجلاس میں جانا ہے کہ نہیں انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے کہ سبز جھنڈے کی عزت ہو گی روز گار کیلئے باہر سے لوگ آئیں گے لیکن انہوں نے لوگوں صرف بے روزگار کیا ہے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پی آئی اے کو خاموش کر دیا گیا ہے پاکستان کو بین الاقوامی سول ایوی ایشن جس میں 188 ممالک ہیں نے90دن کی مہلت دی ہے لگتا ہے کہ اب پی آئی اے کو جہاز آڑانا مشکل ہو جائیں گے اگر حکومت نےہوش نہ سنبھالا تو پھر دوسرے ممالک ائیر سپیس لے جائیں گے غدار وہ ہیں جنہوں نے پی آئی اے کو دفن کیا ہے وزیراعظم اور وزیر ہو ¿ا بازی کو جیل میں جانا چاہیے6جہاز کی لیز ختم ہو رہی ہے وہ واپس جا رہے ہیں روزویلٹ کو ہم نے فروخت کر دیا ہے یہ گدھ ہیں پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جہاز فروخت کیےجا رہا ہیں انہوں نے کہا کہ ندیم بابر کےرول پربھی تحقیق ہونی چاہیے کہ پاکستان کے قرضے اتنے کیوں بڑھ گئے ہیں پلوشہ خان نے کہا کہ 8سو دن حکومت کے پورے ہوئے ہیں آٹھ سو فیصد مہنگائی بڑھ گئی ہے اور سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں وزیراعظم زہنی توازن کھو چکے ہیں۔ ان کی حالت ٹرمپ کی طرح کی ہے دونوں کی حالت ایک جیسی ہے قومی فیصلوں میں بھی ان نہیں بلایا جاتا کہیں پھر کسی جلسے میں جاکر کوئی غلط نہ بول دیں جو فیصلے ہوئے ہیں وہاں وزیراعظم کو نہیں بیٹھایا گیا ،وزیراعظم نے جہانگیر ترین کو واپس بلایا ہے کیا وہ مدینہ منورہ میں یا چین میں اترے ہیں اگر مدینہ منورہ میں اترتے تو دائیاں ہاتھ ساتھ نہیں ہونا چاہیے تھا اگر چین میں اترے ہیں تو وہاں بھی کرپشن کی سخت سزا ہے اب کرپشن کی کمی پوری کرنے جہانگیر ترین واپس آ گئے ہیں حکومت کی طرف سے 106ارب آٹے پر آڑا دیئے گئے وزیر اعظم کو مہنگائی نظر نہیں آتی انہوں نے کہا کہ،بنی گالی میں آلودگی ختم کرنے کے لیے پودے لگائے جائیں گے لیکن عمران خان بنی گالا میں ہیں جہاں آلودگی ختم نہیں ہو گی اگر ملک میں نیب نام کی کوئی چیز موجود ہے تو ہم ان کو جہانگیر ترین کا پتہ ہم دے دیتے ہیں اب ان کا عوام گھیراو ¿ کریں گے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اپنی ذہنی حالت کھو رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پی ڈی ایم کا اجلاس 14تاریخ کو بلایا گیا ہے اب ہمارا پارلیمنٹ سے بائی کاٹ ہے ہم احتجاج کےموڈ میں ہیں سپیکر اسد قیصر کے اجلاس میں جانے کا فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی ،وزیراعظم سلیکڈ ہیں پی ٹی وی ریڈیو اور دیگر اداروں سے لوگوں کو بے روزگار کیا گیا ہےوزیراعظم کو خود پتہ نہیں ہوتا کہ وہ وزیر اعظم ہیں ان کو ان کی بیوی بتاتی ہیں کہ وہ وزیر اعظم ہیں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے صرف اس پر بات ہو سکتی ہے کہ وزیراعظم گھر جائیں اور سب وزیر جیل جائیں جمہوریت میں مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوتے ان حکمرانوں کو سیاست کی اے بی سی کا پتہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ گلکت کے حوالے سے سپیکرقومی اسمبلی نے اجلاس بلایا ہے لیکن ہم نہیں جانا چاہتے ،ہم پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے جی بی کے شہریوں کے دلوں میں پیپلز پارٹی کی محبت ہے ہم ہی وہاں حکومت بنائیں گے باقی حکومتی لوگ آلودگی پھیلا رہے ہیں،پی ڈی ایم کو بنانے میں پیپلز پارٹی کا مرکزی کردار ہے پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ پہلے حکومتیں بنانے میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار رہا ہے اور الیکشن پر شب خون مارا جاتا رہا ہے اب عمران خان ہے اور پہلے اور کردار تھے جو اسٹیبلشمنٹ جےساتھ مل کر الیکشن چوری کرتے تھے نواز شریف نے اپنے تجربات عوام کے سامنے رکھے ہیں لیکن ہم اپنے تجربات عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔