اسلام آباد /نگر(10نومبر 2020) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اور پیپلزپارٹی کا رشتہ تین نسلوں کا رشتہ ہے کیونکہ ہمارا نظریہ ایک ہے۔ ہمارا یہ نظریہ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے جوڑا تھا۔ اور ہمار انظریہ یہ ہے کہ “اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ، مساوات ہماری معیشت ہے، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور شہاد ت ہماری منزل ہے”۔ وہ گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں نگر کے علاقے میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ بلاول بھٹو زردار گزشتہ تین ہفتوں سے جی بی میں پارٹی کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور اس سلسلے میں جی بی کے ہر علاقے میں عوام سے پارٹی کے لئے ووٹ دینے کی درخواست کر رہے ہیں۔ اس موقع پر سینیٹر شیری رحمن، سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر، فیصل کریم کنڈی اور جمیل سومرو بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نگر کے عوام میرے بھائی بہن ہیں انہوں نے نگر کے شہداءکو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے نگر کے عوام شہید ذوالفقارعلی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کا ساتھ دیا ہے اب وہ میرا ساتھ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی بی کو اب تک جو بھی حقوق ملے ہیں وہ پیپلزپارٹی نے دلوائے ہیں اب ہماری جدوجہد حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار کی ہے۔ ہم نے آپ کے نمائندوں کو پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ تک بھی پہنچانا ہے تاکہ آپ اپنے وزیراعظم کا انتخاب بھر کر سکیں اور یہاں تک کہ آپ کے علاقے کا کوئی شخص پاکستان کا وزیراعظم بھی منتخب ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جبکہ کچھ علاقوں میںلوگ علیحدگی کی تحریک چلا رہے ہیں ہم پاکستان میں شمولیت کی تحریک چلا رہے ہیں لیکن آپ کی آواز اسلام آباد میں کوئی نہیں سن رہا ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے آئین دیا اور اسلامی پارلیمانی جمہوریت نظام دیا۔ آج میں یہاں ان بلندوبالا پہاڑوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ جی بی کے عوام کو ان کا آئین حق دلا کر رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اسلام آبادکے عوام یہ سوچ رہے ہوں کہ وہ جی بی کو صوبہ بناکر یہاں سے گندم کی سبسیڈی چھین لیں گے اور ٹیکسوں میں اضافہ کر دیں گے لیکن پہلے جی بی کے عوام کو 70سالہ زیادتیوں کا معاوضہ ادا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے جی بی کے صوبہ بننے سے قبل ہی ٹیکس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ اب ہم 15نومبر کے بعد جی بی میں حکومت بنائیں گے اور تین مہینوں کے اندر ہی حق ملکیت کے لئے قانون سازی کریں گے۔ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ وہ کراچی واقعے پر آرمی چیف کی جانب سے کرائی گئی انکوائری اور اس کے بعد ایکشن لینے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے اداروں کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات جمہوریت کے لئے جاری رہنے چاہئیں۔