پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان نے کہا ہے کہ کل ایک بہت بڑی گھناﺅ نی سازش سے پردہ اٹھا،اس کے پیچھے وہی ہیں جو عدلیہ کے خلاف سازشوں میں ملوث رہے،گھناﺅنی سازش کے تانے بانے وزیراعظم ہاﺅس تک پہنچتے ہیں۔بدھ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا ہے کہ آئی سندھ اغوا کیس کے مرکزی کردار وزیراعظم، گورنر سندھ، وزیر داخلہ، علی زیدی اور حلیم عادل شیخ کا بھانجا ہیں ،وزیراعظم نے اس سازش کو بنایا، کھڑا رہا اور بیانات بھی دیئے اور اس کو کامیڈی سرکس کہا ، اس سنگین سازش اور اداروں کو آمنے سامنے کرنے پر وزیراعظم اور ان کے وزرا سے استعفیٰ لیا جائے ،اگر استعفیٰ نہ لیا گیا تو پھر سپریم کورٹ سے نااہل قرار دینے کا مطالبہ کریں گے۔ پلوشہ خان نے کہا کہ اگر بلاول بھٹو زرداری اور آرمی چیف کے آپس میں رابطہ نہ کرتے تو بڑا بحران پیدا ہو جاتا ،پرویز مشرف بے نظیر کیس بھی مفرور ہے انہیں بھی وطن واپس لایا جائے ،اگر وزیراعظم اقتدار کے ساتھ چپکے رہے تو پھر انہیں عوامی گھیراو ¿ کے لیے تیار رہنا چاہیے،عمران خان افواج پاکستان کی رپورٹ کے بعد قومی مجرم ثابت ہوگئے ہیں ،میاں صاحب متاثرہ فریق ہیں اگر وہ اس کو مسترد کرتے ہیں اور مزید تحقیقات چاہتے ہیں تو انکا حق ہے ،اس کے پیچھے جو کردار تھے اب سامنے آگئے ہیں ،سندھ حکومت کی کمیٹی جلد اپنی رپورٹ سامنے لائے گی ،چند سروے دانہ ڈالنے کے لیے ہوتے ہیں، عوام نے اپنا فیصلہ جلسوں کے ذریعے فیصلہ سنادیا ہے اس سے بڑا سروے کیا ہوگا،کل ایک بہت بری گھناو ¿نی سازش سے پردہ اٹھا،اس. کے پیچھے وہی ہیں جو عدلیہ کے خلاف سازشوں میں ملوث رہے،گھناو ¿نی سازش کے تانے بانے وزیراعظم ہاو ¿س تک پہنچتے ہیں،آئی ایس پی آر کی انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد ثابت ہوا کہ وزیراعظم نے جھوٹ بولا، اپنے حلف سے غداری کا مرتکب ہوا،یہ شخص وہ ہے جو وزیراعظم خود کو کہتا ہے،عمران نے الزام لگایا جنہوں نے آئی جی کو اغوا کیا وہ اسرائیلی اور انڈین نے کیا، اپنے سیکیورٹی اداروں کو بھی اسرائیلی انڈین کھاتے میں ڈالا، سندھ میں ایک غدر کی کیفیت مچائی گئی۔