چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی 1970ءکی دہائی سے اسٹیبلیشمنٹ سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے اور گلگت بلتستان کے انتخابات اس بارے میں ایک ٹیسٹ کیس ہو سکتے تھے لیکن بدقسمتی سے ان انتخابات میں پیپلزپارٹی کو لیول پلے انگ فیلڈ نہیں دی گئی۔ انہوں نے انتظامیہ کو خبردار کیا کہ وہ مذہبی منافرت کی سازشوں سے دور رہے ورنہ جی بی میں تشدد ہو سکتا ہے جو کہ پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے جی بی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں کئے جا رہے۔ پیپلزپارٹی نے تمام قانونی وسائل استعمال کئے تاکہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں لیکن انہیں انتخابی مہم چلانے سے روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی قوانین اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ کوئی بھی حکومتی وسائل اور عہدہ انتخابات پر متاثر ہونے کے لئے استعمال نہ ہو لیکن سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کے وزراءنے کھلے عام انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی اور جی بی میں انتخابی مہم چلائی۔ اس کے مقابلے میں انتخابی قوانین پر عملدرآمد کے نام پر انہیں جی بی سے صوبہ بدر کرنے کی کوشش کی گئی۔ آج 13نومبر کو جی بی میں پیپلزپارٹی کا آخری جلسہ تھا لیکن انتظامیہ نے انہیں اس جلسے سے خطاب کرنے سے روک دیا۔ یہ قطعی طور پر غیرقانونی ہے لیکن ہم نے جی بی میں امن کے لئے اسے برداشت کیا۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ انہیں ان کے حق سے محروم کیا گیا۔ ایک عدالتی حکم کے ذریعے بھی انہیں انتخابی مہم چلانے سے روکا گیا۔ اس عدالتی حکم میں ان پر وہی پابندیاں لگائی گئیں جو حکومتی وزراءپر لگائی گئیں اور اس طرح انہیں ان کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ یہ ناانصافی ہے اور یہ وہ لیول پلے انگ فیلڈ نہیں جن کے متعلق ان کو توقع تھی۔ وزراءاربوں روپے کے فنڈز کا اعلان کر رہے ہیں اور کھلے عام ووٹ خریدنے کے لئے پیسے بانٹ رہے ہیں لیکن جی بی کے عوام اس سازش کو شکست دیں گے اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو بھاری تعداد میں ووٹ دیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ ان انتخابات کو متنازعہ ہونے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے اداروں سے کہا کہ وہ جی بی میں انتخابات کو متنازعہ نہ بنائیں۔ پوری دنیا کی نظریں ان انتخابات پر ہیں اور ہم جی بی میں دھاندلی زدہ انتخابات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اگر عوام کے ووٹ چرائے گئے تو احتجاج اور تشدد ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ کا کام ہے کہ وہ امن قائم رکھے۔ ان انتخابات میں جی بی کے کچھ علاقوں میں فرقہ واریت پھیلائی جا رہی ہے جو کہ ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ پیپلزپارٹی ان کوششوں کو شکست دے گی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف آئی جے آئی بنائی گئی تھی اسی طرح ایک اتحاد جی بی میں بھی بنایا گیا ہے لیکن ہم کسی کو بھی عوام کے ووٹ چوری کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوںنے کہا کہ جی بی کے صحافی اور کیمرہ مین اس بات کے گواہ ہیں کہ کھپلو سے سکردو، شغر سے استور اور گلگت سے نگر تک، جی بی کے چپے چپے پر عوام نے ہمارا والہانہ استقبال کیا جس کے لئے وہ تمام لوگوں بشمول صحافی فوٹو جرنلسٹس اور کیمرہ مینوں کے شکرگزار ہیں۔ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ 15نومبر کو جی بی کے عوام اپنے حق کے لئے پیپلزپارٹی کو ووٹ دینے نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات کے لئے پیپلزپارٹی کے منشور میں تین اہم باتیں تھیں۔ وہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار تھیں جن کا وعدہ پیپلزپارٹی نے اپنے منشور میں بھی کیا۔ یہ مطالبات جی بی کے عوام کے مطالبات ہیں جس کے لئے وہ ایک عرصے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ حق حاکمیت کا مطلب ہے کہ جی بی ایک صوبہ بنے جس کے پاس تمام آئینی حقوق ہوں وہ اپنے نمائندے پاکستان کے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھیج سکیں، پاکستان کے وزیراعظم کو منتخب کر سکیں اور خود بھی پاکستان کے وزیراعظم بن سکیں۔ حق ملکیت کا مطلب ہے کہ جی بی کے عوام جائیداد بنانے کا حق رکھ سکیں اور یہاں کی زمین اور قدرتی وسائل کے قانونی مالک بن جائیں۔ حق روزگار کا مطلب ہے کہ جی بی کے ہر نوجوان کو روزگار فراہم کیا جائے اور سی پیک سمیت تمام منصوبوں میں روزگار کا پہلا حق جی بی کے عوام کو ہو کیونکہ سی پیک میں روزگار کا پہلا حق جی بی اور بلوچستان کے عوام کا ہے۔ ہم ایک خوشحال جی بی چاہتے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ روزگار مہیا کرتی ہے اور عوام کو روزگار کے حق سے محروم نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کا ائیڈیا پیپلزپارٹی کا آئیڈیا ہے اور جی بی کے عوام کی طرح پیپلزپارٹی کا رشتہ چین کی کمیونیسٹ پارٹی سے بھی تین نسلوں کا رشتہ ہے۔ ہم سی پیک کے پروجیکٹس میں جی بی کے عوام کو روزگار حاصل کرنے کے لئے سہولت مہیا کر سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کسی بھی پارٹی کے پاس جی بی کے لئے کوئی منشور نہیں جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے 2018ءکے انتخابات کے لئے اپنے منشور میں جی بی کے لئے ان حقوق کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا منشور اسی طرح جی بی کی تباہی ہے جس طرح پی ٹی آئی نے پاکستان کو تباہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی ہمیشہ جھوٹے وعدے کرتی ہے اس طرح اس نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ کیا، ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا اور 50لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی یہ انتخابات پیپلزپارٹی سے نہیں چھین سکتی۔ جی بی کے عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور 15نومبر کو وہ اپنے حقوق کے لئے پیپلزپارٹی کو بڑی تعداد میں ووٹ دیں گے اور پیپلزپارٹی جی بی کے انتخابات میں واضح اکثریت سے فتح حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جی بی کے عوام انہیں مایوس نہیں کریں گے اور وہ بھی یہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ جی بی کے عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔ صحافیوں کی جانب سے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ بات اشد ضروری ہے کہ انتخابات منصفانہ اور شفاف ہو ںورنہ عوام شدید احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس کوئی منشور نہیں اور انہوں نے جی بی کو صوبہ بنانے تک کا سوچا نہیں تھا اب وہ کسی کی ڈکٹیشن پر صوبہ بنانے کا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بننے کے بعد بھی پاکستان پیپلزپارٹی اشیاءخوردونوش پر سبسیڈی ختم کرنے یا ٹیکس میں اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کٹھ پتلی کسی سیاسی جدوجہد کرنے کا اہل ہی نہیں۔ عوام پی ٹی آئی کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ہے۔ پی ٹی آئی ایک عوام دشمن پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی طرفداری کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ وہ اپنے حقوق چاہتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ سے ڈائیلاگ کے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ ڈائیلاگ کا فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی۔ انہوںنے کہا کہ انہوں نے جی بی صوبے کا مطالبہ اپنے 2018ءکے منشور میں کیا تھا اور اب یہ جیالوں کی فتح ہے کہ قومی سلامتی کے ادارے اور دیگر سیاسی پارٹیاں بھی جیالوں کے پیج پر آگئی ہیں۔