پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی الیکشن سیل کے انچارج سینیٹر تاج حیدر نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر بجائے اس کے کہ قانون توڑنے والوں جن کا تعلق وفاقی حکومت سے ہے ان کی سرزنش کرتے اور ان پر پابندی لگاتے وہ اپوزیشن سے کہہ رہے ہیں کہ ان قانون توڑنے والوں کے خلاف ثبوت دے۔ صرف یہی طرز عمل ہی چیف الیکشن کمشنر کو حکومت کی طرفداری کرنے والا بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چیف الیکشن کمشنر کو کونسے ثبوت دیں؟ کیا یہ ثبوت دیں کہ کشمیر کے وفاقی وزیر برائے کشمیرنے پی ٹی آئی کی تمام مہم اور ووٹروں سے ترقیاتی کام کرنے کا وعدہ کیا؟ کیا ہم یہ ثبوت دیں کہ پولنگ کے روز سے ایک ہفتہ قبل ہی ایک امیدوار کو مشیر بنا دیا گیا؟ کیا ہم یہ ثبوت دیں کہ وزیراعظم خود گلگت کے قومی دن کے موقع پر جی بی آئے اور انہوں نے اس موقع پر سیاسی تقریر کرتے ہوئے اپوزیشن پر حملے کئے اور یہ وعدہ بھی کیا کہ جی بی کو صوبہ بنادیں گے؟ کیا ہم یہ ثبوت فراہم کریں کہ انتخابی مہم کا وقت ختم ہونے کے باوجود وزراءاور مشیران حکومت انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے رہے؟ کیا ہم بیلٹ بکس غائب ہوجانے کے ثبوت مہیاکریں؟ کیا ہم یہ ثبوت دیں کہ فارم 45 سے جعلی 45فارم تبدیل کیے گئے؟ انہوں نے کہا کہ یہ تمام جرائم کرنے والے قانون کے مطابق نااہل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا چیف الیکشن کمشنر نے پری پول، پولنگ کے روز اور پوسٹ پول ریگنگ کے متعلق ہماری کسی بھی شکایت کا کوئی ایکشن لیا؟ چیف الیکشن کمشنر کی کوتاہی کے سبب عوام کا مینڈیٹ چورکیا گیا۔ اس بات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ جی بی کے عوام گزشتہ 70سالوں سے انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ جی بی کے عوام کے آباﺅ اجداد تھے جنہوں نے لڑ کر آزادی حاصل کی تھی۔ اب ہر کسی کو یہ یقین ہو جانا چاہتے کہ عوام کی پر امن جدوجہد کا نتیجہ بھی ان کے مینڈیٹ کی بحالی ہوگا۔