چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اس ملک میں سیاستدانوں سے لے کر عدلیہ تک اور صحافیوں سے لے کر عام آدمی تک آزاد نہیں ہیں۔ سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کے اس نئے پاکستان نے خارجہ پالیسی، معاشیات اور سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ حکومت ہمیں کورونا سے ڈراتی ہے لیکن خیبرپختونخواہ کے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی بات سنتی ہے اور نہ ہی ان کے مطالبات تسلیم کرتی ہے۔ یہ بات بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کی سہ پہر کو پشاور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پورا کے پی بول پڑا ہے اور ریفرنڈم میں اس نے فیصلہ دے دیا ہے اور گو عمران گو کا نعرہ لگا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے عوام بہادر ہیں جنہوں نے دہشتگردی سے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور اس دہشتگردی سے لڑتے ہوئے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت ہی کی وجہ سے آج سوات اور وزیرستان میں پاکستانی پرچم لہرا رہا ہے۔ دہشتگردوں نے کے پی کے عوام کا خون بہایا لیکن بزدل عمران خان کے منہ سے دہشتگردوں کے خلاف ایک لفظ تک نہیں نکلا۔ اب یہ حکومت اور ریاست ان لوگوں کو معاوضہ کرنے سے انکار کر رہی ہے جن کے گھر اور کاروبار دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں تباہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم ان بہادر لوگوں کو معاوضہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ قبائلی علاقوں کو ان کے حقوق نہیں دئیے گئے۔ کے پی میں زبردستی غائب کئے جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ا ے پی ایس کے بچوں کے قاتل احسان اللہ احسان کو این آر او دیا اور ایک سلائی مشین سے امریکہ میں کروڑوں ڈالرز کی جائیداد بنانے والی علیمہ باجی کو اور کیبنٹ میں بیٹھے ہوئے سارے لٹیروں کو این آر او دیا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مرحوم چیف جسٹس وقار سیٹھ کو سلام پیش کیا کہ انہوں نے ڈکیٹیٹرشپ کے خلاف فیصلے کئے اور حکم دیا کہ حراستی مراکز کو پولیس کے حوالے کیا جائے۔ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان اور اس کی پارٹی عوام کے نہیں بلکہ سلیکٹرز کے نمائندے ہیں۔ عام آدمی اس سلیکٹڈ حکومت کا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ روزمرہ کی تمام اشیاءجیسا کہ آٹا، چینی، انڈے سبزیاں، پٹرول، گوشت دالیں اور دوائیں عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ ان کے علاوہ بجلی اور گیس کے بل بھی کئی گنا بڑھا دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ سے ان کا حصہ نہیں دیا جارہا اور کے پی کو اس سال 160ارب نہیں دئیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت تاریخ کی سب سے کرپٹ ترین حکومت ہے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بھی ایسا ہی کہہ رہی ہے۔ کے پی میں ملک کی مہنگی ترین میٹرو بنائی گئی ہے جس کی بسیں کبھی جل جاتی ہیں اور کبھی عوام ان کو دھکے لگا رہے ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے تمام منصوبوں میں میگا کرپشن ہوئی ہے چاہے وہ مالم جبہ ہو یا کوئی دوسرا پروجیکٹ۔ نیب کو یہ ہمت نہیں کس طرح وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ نے امریکہ میں پاپا جونز کی سلطنت کھڑی کر دی ہے۔ فارن فنڈنگ کیس بھی تاریخی کرپشن ہے جس میں بھارتیوں اور اسرائیلیوں نے عمران خان اور اس کی پارٹی کے لئے بھاری رقومات جمع کرائی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس حکومت کو خداحافظ کہنے کا وقت قریب آرہا ہے اور جنوری میں عمران خان کی حکومت نہیں ہوگی۔ جنوری کے بعد عوام عمران خان اور اس حکومت کا حساب لیں گے اور عوام یہ پوچھیں گے کہ نیب کے ہر افسر اور چیئرمین تک ان کے ذرائع آمدنی سے زیادہ جائیدادیں کیسے بنی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ احتساب اس وقت تک بے معنی ہوگا جب تک کہ ایک ہی قانون کے ذریعے سیاستدانوں، ججوں اور جرنلوں کا احتساب نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جی بی کے انتخابات میں تاریخی دھاندلی کے باوجود پی ڈی ایم کی جماعتوں سے سب سے زیادہ ووٹ لئے اور پی ٹی آئی کو مسترد کر دیا۔ اب جی بی کے عوام پی ڈی ایم کے لانگ مارچ میں حصہ لینے کے لئے تیار ہیں اور وہاں کے عوام کا مقبول ترین نعرہ “ووٹ پہ ڈاکہ نا منظور” ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ اور مریم نواز کی دادی کے لئے جلسے میں دعائے مغفرت بھی کروائی۔